آغا شیخ سرور کی غیر قانونی حراست کو 24 گھنٹے سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کر سکی ہے اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی کوئی قانونی وضاحت سامنے آئی ہے۔
یہ اس نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس نوجوان صحافی کو چوتھی بار صرف اس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ موسم کی سختیوں اور حالات کی پروا کیے بغیر عوام کو سچائی دکھاتا ہے اپنے صحافتی فرائض انجام دیتا ہے اور پھر بلاجواز انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آزادانہ صحافت پر براہِ راست حملے موجودہ رجیم کی حقائق پر پردے ڈالنے کی روایت بنتی جا رہی ہے۔
تھانے میں قید کے دوران ان کی جسمانی حالت تشویشناک ہونے کی اطلاعات ہیں ، لیکن اس کے باوجود انہیں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی، جو آئین اور انسانیت دونوں کی کھلی پامالی ہے۔ ایک طرف ان کی فیملی شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہے اور انہیں قانونی وکالت کا بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ جو لوگ آغا سرور کو جانتے ہیں ان کو اس بات کا یقین ہے کہ انہوں نے رہا ہونے کے ساتھ اپنی صحافتی ذمہ داری اور ہم وطنوں کو سچ دکھانے کے عہد پر پھر سے قائم ہو جانا ہے یہی بات اس رجیم کی فہم سے بالاتر ہے۔
بچے جب من مرضی کا کھلونا خریدنے کی ضد کریں، وہ تو لاڈ پیار میں لے دینا سمجھ آتا ہے۔ یہاں ایک بچی نے وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش کی اور ایک بھگوڑے باپ نے جو کچھ سیاست میں کمایا تھا سب بیچ باچ کر اس بگڑی ہوئی بچی کی ضد پوری کی۔
آج اس بچی نے پاکستان پر حملہ کر دیا دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو آغواہ کر کے۔ ایک لیجنڈ نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ خود بھی بیغیرت ہیں اور ان کو لانے والے بھی۔
اور کتنا گراؤ گے ملک کو؟
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زمان پارک آمد، عمران خان کی ہمشیرہ سے ملاقات
ملاقات میں عمران خان کے زیر التوا مقدمات، صحت، فیملی سے ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK
سوشل میڈیا پر سہیل آفریدی پر تنقید ہوتی رہتی ہے۔ عمران خان کی قید تنہائی ، محسن نقوی سے خفیہ ملاقاتوں کی اطلاعات ، اڈیالہ نہ جانا اور سست ردعمل اسکی بنیادی وجوہات ہیں۔ اسکے باوجود سہیل آفریدی عوام کی نظر میں اپنا مزاحمتی امیج قائم رکھے ہوئے ہے۔ لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک سے پہلے یہ خوش آئند بھی ہے ضروری بھی۔ سہیل آفریدی کی ناکامی ہم افورڈ نہیں کرسکتے۔ مڈل کلاس ، آئی ایس ایف ، نوجوان ، ورکر یہ تحریک انصاف کے تیس سالہ سفر کا نچوڑ ہے۔ اگر ایسے لوگ بھی ناکام ہوگئے تو پھر ہماری ساری متاع لٹ گئی۔ زہریلے یوتھیوں سے گزارش ہے کہ سہیل آفریدی پر اعتماد کرلیں۔ چند دن اور سہی۔ عمران خان کے لیے سہی۔ احتجاج کے لیے سہی۔ عمران خان کی رہائی کے لیے سہی۔ علاج معالجے کے لیے سہی۔
🚨🚨 ساڑھے چار کروڑ عوام کے وزیر اعلٰی کو اس بے دردی سے گرفتار کرکے سارے پختونوں کی توہین کی گئی ہے
پنجاب والو خوف کے بت توڑو اور اپنے مہمان کی عزت اور اپنی روایات کی خاطر نکلو
آئی ایس آئی کی ٹارچر ونگ صیہونی پنجاب پولیس کا ایک اور کارنامہ، 5 کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کو اغواء کرنے کے بعد لکشمی چوک میں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔
عاصم منیر فوج کو اور کتنا گرواؤ گے؟
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
Sohail Afridi was sitting by the roadside while Lahoris were passing by without helping him up. Lahoris don’t know how to respect their guests or show proper hospitality.۔!💔
"میری بات سنو آپ لوگ آگ لگارہے ہو یا تو انڈیا کے ایجنڈے پر ہو یا انڈیا کے یار جو پنجاب پر مسلط ہیں ان کے ایجنڈے پر ہو آپ جو آگ لگا رہے ہو یاد رکھو یہ آگ آپ کو جھلس ڈالے گی آپ پورے پاکستان میں آگ لگا رہے ہو ایسا نہ کرو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں پاکستان کو تقسیم نہ کرو پاکستان دشمن ایجنڈے پر نہ چلو "۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کی پنجاب پولیس افسران سے گفتگو
@SohailAfridiISF
آئینِ پاکستان کو محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک مضبوط ریاست، قومی یکجہتی، انصاف، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ ملک اور تمام شہریوں کے مفاد میں ہوگا۔
جہاں تک لانگ مارچ اور پُرامن احتجاج کا تعلق ہے، شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کے خواب کے مطابق ہماری جدوجہد کسی عہدے یا کرسی کے لیے نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے حصول کے لیے ہے۔
ہم تشدد یا قانون شکنی کے حامی نہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ عدالتیں اور متعلقہ ادارے آئین و قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ اور منصفانہ فیصلہ کریں۔ جب تک ہمارے جائز مطالبات پر قانون کے مطابق انصاف نہیں ہوتا، ہم اپنے پُرامن اور آئینی حقِ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
27 ستمبر انشاء اللّٰہ ✌🏻
آج کے بعد اگر کسی پی ٹی آئی رہنما نے شیر افضل مروت کیلئے سافٹ کارنر رکھا یہ میڈیا پر آکر مروت کی کھل کر مخالفت نا کی تو ہم اس رہنما کو عمران خان کی صف میں نہیں بلکہ مروت اور اسٹیبلشمنٹ کی صف میں کھڑا تصور کریں گے
ایک بات ذہن نشین کرلیں شیر مروت بدترین غدار ہے
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عمران خان جیل سے کب آزاد ہوں گے .. اصل سوال یہ ہے کہ .. یہ قوم ذہنی غلامی کی زنجیروں سے کب آزاد ہوگی؟ روز کوئی مرتا ہے یا مار دیا جاتا ہے .. اور ایک قوم کی آزادی تب ہی مکمل ہوتی ہے .. جب وہ ذہنی طور پر آزاد ہو !!