اعلامیہ اجلاس جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی منعقدہ 21 جون 2026ء بمقام راولاکوٹ
1۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 5 جون سے تاحال ہر طرح کے ظلم، جبر، ان گنت ساتھیوں کی شہادتوں، سینکڑوں گرفتاریوں اور زخمیوں کے باجود بنیادی عوامی حقوق کیلئے تاریخ ساز جدوجہد کرنے پر آزاد جموں کشمیر بھر کے عوام، خواتین، بچوں، اوورسیز کشمیری عوام کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور آزاد جموں کشمیر بھر کے تاجران، ٹرانسپورٹرز کو تاریخ ساز لاک ڈاون پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور اس امید کا اظہار اور اپیل کرتی ہے کہ جملہ عوام الناس اس جدوجہد کو تحریک کی کامیابی تک جاری و ساری رکھیں گے۔
2۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی موجودہ صورتحال میں پرامن حل کیلئے کردار ادا کرنے والے جملہ وفود بشمول آزاد جموں کشمیر بار کونسل، ضلعی بار ایسوسی ایشنز، علماء کرام، صحافی حضرات، سیاسی و سماجی کارکنان، امن جرگہ، کاروباری شخصیات سمیت تمام وفود کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ انہوں نے اس ظلم، جبر اور نسل کشی کو روکنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان کی طرف سے اللہ کی رضا اور پرامن طور پر مسئلہ کے حل کیلئے ان کوششوں کا جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خیر مقدم کرتی ہے اور اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آئندہ بھی ہر طرح کی مثبت کوششوں کا خیر مقدم کرے گی۔
3۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ ہماری جدوجہد مکمل طور پر پرامن اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے ہے۔ اس جدوجہد کا مقصد کسی ملک یا ادارہ کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی ہر گز نہیں۔ پاکستان کے کچھ میڈیا چینلز کے ذریعہ اس جدوجہد کو دہشت گردی یا پاکستان کے خلاف قرار دینا سراسر غلط بیانیہ ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں اور پاکستانی عوام پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان اور پاکستانی عوام کی بقاء و سلامتی کیلئے دعا گو ہے تاہم پاکستانی حکمرانوں کی ہمارے حقوق بارے پالیسیز کو ہدف تنقید بنانا ہمارا اور پاکستانی عوام کا مشترکہ حق ہے۔
4۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی با معنی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور اس کی ہمیشہ ہی یہ کوشش رہی ہے کہ تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعہ ممکن ہو لیکن حکمرانوں نے ہمیشہ بات چیت اور معاہدہ جات کو ہمیں دھوکہ دینے کیلئے استعمال کیا جس کی واضح مثال 4 اکتوبر 2025 کا معاہدہ ہے جس پر عمل نہیں کیا گیا اور وقت پورا ہونے کے بعد پرامن لانگ مارچ کو سبوتاژ کرنے کیلئے کریک ڈاؤن کیا گیا اور ہمارے لوگوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔
5۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تمام تر حکومتی بد عہدیوں، ظلم، جبر، نا انصافی کے بعد بھی امن کو موقع دینے کیلئے ہر آنے والے ثالثی وفود کا خیر مقدم کیا اور اپنی طرف سے کسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ دوسری طرف سے ہر بار ہٹ دھرمی دکھائی گئی اور بد عہدی کی گئی۔ اس سب کے باوجود جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مسئلہ کے پرامن حل کیلئے تمام فریقین کو 23 جون تک کا وقت دیتی ہے۔ 23 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی جس کیلئے عوام تیار رہے۔
6۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوام الناس سے اپیل کرتی ہے کہ وہ تمام تر پرامن دھرنوں میں باالخصوص خواتین، بزرگ اور بچے اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔
شائع کردہ: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بمقام راولاکوٹ بتاریخ 21 جون 2026
Happy Father’s Day to the father of the nation. The most selfless man who has inspired an entire generation to fight for the nation’s rights and dignity.
#HappyFathersDayImranKhan
شاہ دین، 75 سالہ، پی آئی اے میں ڈرائیور ہیں۔
وہ پہلے ایک مقدمے میں کیمپ جیل میں قید رہے، پھر دوسرے مقدمے میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان پچھتر سالہ بزرگ پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس گاڑی کے ڈرائیور کو فلائنگ کک مار کر نہر میں گرا دیا، اور چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم زدہ کینگرو کورٹس نے اس الزام کو مانتے ہوئے سزا سنا دی۔
یہ کہانی صرف شاہ دین کی نہیں بلکہ ایسے نظام کی عکاسی کرتی ہے جہاں عقل، عمر اور حقائق سے زیادہ الزام کی اہمیت ہوتی ہے۔ مقصد انصاف کے بجائے زمینی آقاؤں کی خوشی ہوتا ہے۔ جب ایسے فیصلے ہونے لگیں تو لوگ قانون سے نہیں بلکہ قانون کے نام پر ہونے والی ناانصافی سے ڈرتے ہیں۔
پچھلے تین سالوں میں پنجاب حکومت نے جو سب سے مہنگی خریداری کی وہ Gulfstream G500 پرائیویٹ جیٹ ہے اس پر پنجاب حکومت اپنی تصویر لگائیں اس پر نام لکھیں لوگوں کو بتائیں کہ 11 ارب روپے ہم نے آپ کے پیسوں کا خریدا ہے اس پر ہم تصویر لگاتے ہیں.
پنجاب فنانس بورڈ کا نمبر دسمبر 2025 کا یہ ہے کہ پنجاب حکومت پر 6 بلین کا لون ہے یہ ہماری فیصلہ سازی ہے اس طرح سے یہ ملک کو چلانا چاہتے ہیں.@Ali_Waraich_PTI
ایک اور مقدمے میں 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی سزاؤں کی مدت 280 سال تک پہنچ گئی ہے۔ میرے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں-
میں نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے غریب عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کر دی۔
تاریخ ان اقدامات کا فیصلہ ضرور کرے گی۔
دو ججوں کی کہانی
ماتحت عدلیہ یعنی ضلعی عدالت کے ایک جج کی کہانی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھی ہے- اور ایک کہانی اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کی ہے، وہ ہم آپ کو سناتے ہیں-
پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریر جج کی کہانی، فیصلے میں کچھ وعظ بھی شامل ہے-
پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں ایک سیشن جج تھے- اُن کی شہرت خراب ہو گئی، ہائیکورٹ نے ان پر نظر رکھی اور پھر ان پر بدعنوانی کے بھی الزامات عائد کر کے عہدے سے برطرف کر دیا، وہ اس فیصلے کے خلاف سروس ٹریبونل چلے گئے-
ٹریبونل نے دلچسپ فیصلہ دیا- کہا کہ انکوائری میں بدعنوانی تو ثابت نہیں ہوئی تو صرف خراب شہرت کی وجہ سے کسی کو عہدے سے ہٹانا زیادتی ہوگی- اس لیے جبری یا لازمی ریٹائر تصور کیے جائیں، یعنی مراعات، پنشن وغیرہ ملیں گے-
برطرف جج اس فیصلے سے مطمئن ہوئے اور نہ اُن کو عہدے سے ہٹانے والی ہائیکورٹ اتھارٹی- دونوں نے ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں-
اب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں دانش کے موتی بکھیرے اور کیا ہی کمال فیصلہ ہے، یہ تفصیلی فیصلہ آپ کمنٹ میں دیے گئے لنک پر پڑھ سکتے ہیں-
مگر اس فیصلے کے بالکل برعکس اعلٰی عدلیہ کے ایک جج کی کہانی 'انصاف اپنا اپنا' کی الگ ہی نوعیت کی کہانی ہے-
یہ جج ہائیکورٹ میں تھے، اور جب ان کے چیف جسٹس بننے کی باری آئی اور اعلٰی عدلیہ میں ججوں کے تقرر اور ترقی کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اتفاق رائے سے کہا کہ معزز جج اس قابل نہیں، لہذا اُن کو چھوڑ کر ان کے بعد والے کو چیف جسٹس بنا دیا-
انہوں نے اس پر کوئی باضابطہ احتجاج نہ کیا، یعنی اس فیصلے کو چیلنج نہ کیا- اصول طور پر تو جوڈیشل کمیشن کو ایسے جج کو عہدے سے ہی ہٹا دینا چاہیے تھا مگر اُس وقت سب نے مٹی پاؤ والی پالیسی اختیار کی-
اس کہانی مزید دلچسپ یہ ہے کہ پھر کچھ عرصہ بعد اُسی جج کو ہائیکورٹ سے اُٹھا کر سپریم کورٹ کا جج لگا دیا گیا- یعنی جو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا اہل نہ تھا وہ سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے اہل ہو گیا-
اور پھر مشہور زمانہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں ایک نئی عدالت بنی، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت- اور پھر وہ جج سپریم کورٹ سے بھی بڑے ہو گئے یعنی 40 لاکھ ماہانہ تنخواہ والے جج بن گئے-
کیا دُنیا کے کسی دوسرے ملک میں ایسا کوئی 'خودکار' نظام وجود رکھتا ہے- اور آپ کا کیا خیال ہے، یہ سب کچھ خود بخود ہوتا ہے یا کوئی 'ملک ریاض' اس کے بھی پیچھے ہوتا ہے جو فائلوں کو پہیے لگاتا ہے؟
اے وحید مراد
@JunaidAkbarMNA@AliAsgharPTI
یہ کیا چل رہا ہے؟
صاحبان اس بات کی توجیح کیا ہے؟
کیا سارے تنظیمی عہدے بھی لوکل نمائندوں کی صوابدید پر دئیے جائیں گے؟
احتساب اور تنظیموں کی کارکردگی پہ جواب طلبی کب ہوگی؟
جنوبی خیبر پختون خواہ ریجن کی 5 سال میں تنظیمی میٹنگ ہی نہیں ہوئی؟ کون ذمہ دار ہے؟ ضلع کوہاٹ کا صدر ہی نہیں ہے آج تک، وجہ؟ کیوں نہیں ہے؟
بہت ہوگیا حضور۔ جواب چاہئیے۔
پھر آپ لوگ کہتے ہیں کہ ہم احتجاج کے قابل نہیں کیونکہ لوگ نہیں نکلتے! لوگ کیسے نکلیں گے جب تنظیموں کا یہ حال ہوگا؟؟؟؟
آپ سے پچھلے دس ماہ مسلسل، ڈیڑھ سو بار ذاتی حیثیت میں پوچھنے کے بعد مجبورا" آج پوچھنا پڑے رہا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ تحریک کی اصل ذمہ داری صوبائی حکومت سے زیادہ پارٹی اور تنظیم پر ہوتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ نہ آپ کے پاس لائحہ عمل ہے اور نہ بناے کا ارادہ؟
A 75-year-old cancer survivor, @Dr_YasminRashid has dedicated her life to serving the people of Punjab. She has been handed sentences totaling more than 286 years, all because she stands with Imran Khan and refuses accept #AsimLaw.
میں نے کبھی اپنے مخالف امیدوار کے متعلق یہ نہیں کہا کہ یہ افغانی ہے، ٹھیک ہے جلال خان افغانی شہری ہے لیکن اگر پاکستان کی حکومت نے اسے پاکستان کی شہریت دی ہے تو ٹھیک ہے،
16 کروڑ روپے دے کر ایم پی اے بنا ہے جلال خان یہ میرا دعویٰ یا الزام نہیں بلکہ مجھے ن لیگ کے راہنما نے یہ بات بتائی،
جلال خان کی سیٹ جعلی ہے کیونکہ اسے 1600 ووٹ سے زیادہ ووٹ نہیں پڑے، یہ جب چاہے جہاں چاہے آ جائے میں ثابت کر دوں گا کہ اس کا مینڈیٹ جعلی ہے، تیمور سلیم جھگڑا
@Arman_khanxIK@SardarA33103736 یہ اس لیحاظ سے وفادار کہہ سکتے ھیں گھر بیٹھ گئے خان کے خلاف استعمال نہیں ھوئے ۔۔
جو ساتھ مل کر منافقت کر رھے ھیں اُن سے بہتر ھیں
📢BREAKING: U.S. taxpayers fund military training programs for Pakistan's armed forces with zero human rights conditions.
@RepMcGovern and @RepJoeWilson have reintroduced a bipartisan amendment conditioning U.S. military training funds (IMET) to Pakistan on human rights standards.
It may face an uphill battle, but this is how change gets built: one vote, one record, one amendment at a time.
This is what oversight looks like. This is what accountability looks like.
@TLHumanRights@HouseForeignGOP@HASCDemocrats@HASCRepublicans@Alliance4PJ
#IMETAccountability #Pakistan #HumanRights
@its_AhsanRB@Mehwishww@khurramzeeshan مطلب آپ کو کوئی ڈر خوف نہیں اللہ کا جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رھے ھیں بغیر نشے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ھے اس سے تو بہتر پھر وہ ھی تھا کرونا کے باوجود دنیا کے پہلے تین نمبروں میں رھے دس لاکھ کا صحت کارڈ چودہ ھزار احساس پروگرام راشن کارڈ سستی بجلی گیس پٹرول ترقی؟؟
بحث ختم شد