پوری دنیا کو یہ دکھائیں کہ پاکستان میں جب عوام اپنے حقوق کے لئیے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کے لئیے نکلتے ہیں تو ان پر سیدھی گولی چلائی جاتی ہے اور نظام سے جڑے الُّو اس طرح ہنسی اڑاتے پھرتے ہیں کہ ہاں بھئ چلائی ہے گولی کیا کر لو گے۔!
سب سے بائیں طرف اختیار ولی ہیں، جو نوشہرہ سے بدترین طریقے سے ہارے (چوتھا نمبر)، پھر عطا تارڑ ہیں، جو پیپلز پارٹی کے بقول لاہور سے ہارے ہوئے، ہیں، پھر آگے جلال خان ہیں، جو پشاور سے کیسے جیتے، سب کو علم ہی ہے۔ مل کر پختون خوا کے 4 کروڑ سے زائد افراد کے فیصلے کر رہے ہیں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی قیادت کا اہم اجلاس
اجلاس میں قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان کی شرکت
یمنیوں پر ظلم کرنے والا اب خود مظلوم بن رہا ہے اور الباکستانی خوامخواہ میں جذباتی ہورہے ہیں، عربوں کی لڑائی میں پاکستان کو نیوٹرل ہونا چاہئے اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے تو پھر یہاں ثالثی کیوں نہیں؟ ڈالر ملتے ہیں اس لیے؟
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سینئر پارٹی قیادت کا اہم اجلاس!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بالقسط لانگ مارچ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا.
اجلاس میں قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان نے شرکت کی۔
ہمارے ہاں جین زی شام کو کیفے پر ہزار روپے کی کافی پیتے ہیں اور بھارت میں جین زی سڑکوں پر ہیں
بس ثابت ہوا ہم خوشحال ملک ہیں، ہمارے ہاں کوئی مسئلہ مسائل نہیں
اچھا، B ٹیم تحریک انصاف ہے تو وہ کون تھا جو کہتا تھا پنجاب میں دھماکے نہ کیا کریں؟ B ٹیم تحریک انصاف ہے، اسامہ بن لادن سے پیسے لے کر بے نظیر کی حکومت سہیل آفریدی نے گرائی تھی؟؟
یہ کیا بات ہوئی کہ جس پارٹی کے ساتھ اختلاف ہو جائے، اس کے لیے زمین تنگ کر دی جائے؟ جس صوبے میں اس کی حکومت ہو، وہاں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی تیاریاں شروع کر دی جائیں؟
یہ ہے ہمارے ملک کا ٹوٹل نظام
اسٹبلشمنٹ سلطان راجہ سے اپنی خدمات کے بدلے میں اسکو کسی فرنٹ مین سے پیسہ دلوا رہی
یہ پیسہ پیٹرولیم کمپنی والے دے رہے وہی پٹرولیم کمپنی والے جو حکومت کے ایک ایک علان پر اربوں روپے بناتے ہیں
یہ ایک مثال سامنے آئی ہے اور پتہ نہیں کتنے ہونگے
اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 اور جی 11 کے درمیان گرین بیلٹ پر وہ مقام جہاں طالبہ لائبہ کی پھندہ لگی لاش ملی، یہی وہ درخت ہے جس سے ہونہار طالبہ کی لاش جھول رہی تھی، یہ ٹریفک پولیس کی چوکی ہے، میں یہاں گیا تو ایک وحشت کا ماحول تھا، ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا وہ دن 1 بجے ڈیوٹی پر چلے گئے تھے، اہلخانہ کے مطابق لڑکی دن 2 بجے گھر سے نکلی، 4 بجے کے قریب انہیں افسوسناک واقعے کی اطلاع ملی، یہ جگہ ویران نہیں، واکنگ ٹریک بھی یہاں موجود ہے، لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے، ایسے مقام پر طالبہ کا دن کی روشنی میں آنا ، پھر درخت سے اپنا ہی دوپٹہ باندھ کر جھول جانا، یہ حیران کن ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ جو بھی اس طالبہ کی موت کا ذمے دار ہے، اسے بھی یہیں لا کر لٹکایا جائے۔۔!!