چونکہ بہت تھوڑی تعداد میں ہر ضلع میں ہائیر سکینڈری سکولز ہیں
آپ باقی اساتذہ شاید ان چیزوں سے ناواقف ہوں آپ نے SS کو زیادہ تر آفیسرز کے رنگ میں دیکھا ہے
مگر حقیقت یہی ہے کہ اکثریت ایسی ہی ہے جیسی اس آرٹیکل میں بیان ہے
“Consider this Day One — this post will keep appearing daily until the Education Minister breaks the silence.”
سزا اور جزا کہاں گئی؟ @RanaSikandarH
پاکستان کے سکولوں میں اصل مسئلہ واضح ہے: SS کیڈر۔ محکمانہ قوت، سیکریٹریٹ تک گرفت، اور سکول کی سطح پر کھلا ڈسپلن بریک—سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔
گرمی ہو یا سردی، یہ حضرات 9 بجے کے بعد آتے ہیں اور 12 سے پہلے چلتے بنتے ہیں۔
آنے کی حاضری اتنی لمبی بیان کرتے ہیں کہ جانے والا وقت ڈالنے کی نہ جگہ بنتی ہے اور نہ یہ کبھی departure time ڈالتے ہیں۔
ہیڈ ماسٹر انہیں کسی ذمہ داری میں engage کرنے سے قاصر—کیونکہ “اوپر” کی ڈھال موجود ہے۔
جب پرنسپل دفتر سے باہر ہو یا رخصت پر ہو، قانوناً سینئر استاد کو اُس دن کا چارج ملتا ہے؛ مگر SS حضرات چارج لینے سے انکار کر دیتے ہیں—نہ وقت پر آ سکتے، نہ چھٹی تک رک سکتے۔
کلاس ورک؟ الٹا منظر! ان کی اپنی کلاسیں بھی ہم جیسے اساتذہ پڑھاتے ہیں کیونکہ سٹاف شارٹیج ہے۔
پرنسپل اور یہ لاڈلے گیارہویں/بارہویں میں ہر کیٹگری میں داخلہ کرا کے “ہائیر سیکنڈری پورشن” زندہ رکھتے ہیں تاکہ پرنسپل کی گریڈ 19 والی سیٹ اور SS کی اپنی پوسٹنگ محفوظ رہے۔
ان اضافی کلاسز میں ان صاحبان کے بمشکل “دو، دو پیریڈ”—باقی سارا بوجھ نچلے کیڈر پر۔
اضافی فرائض سے مکمل لا تعلقی: نہ ڈینگی ڈیوٹی، نہ NSB، نہ FTF، نہ اسمبلی، نہ مسئلہ حل کرنے میں شرکت، نہ ساتھیوں کو برابری کی نظر سے دیکھنا۔
انکوائری؟ شاذونادر۔ اگر کبھی ہو بھی تو دفاتر میں “عزت سے” بٹھا کر دھوئیں کی پڑدہ داری—اصل احتساب کہیں نہیں۔
نتیجہ؟ A+ کیٹگری کے سکولوں کی reputation تباہ؛ نئے داخلے کم؛ معاشرے میں بداعتمادی؛ والدین کی نظر میں محنتی اساتذہ بھی مشکوک۔
ایک تازہ واقعہ:
شکایت اوپر پہنچی تو ایک سخت مزاج افسر کو “سیٹ کرنے” بھیجا گیا۔ موسمِ گرما کی چھٹیاں کینسل؛ مینٹیننس اور داخلہ مہم کے نام پر پورے سٹاف کو مہینے بھر لگا دیا۔ جس SS پر ایکشن لینا تھا، وہ پورا وقت ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا—ایک کام نہیں کیا۔ ہم سب پسینے میں، وہ صاحب مسکراہٹ میں۔
سسٹم کی جڑ کہاں ہے؟
یہ کیڈر ضلعی انتظامیہ اور سیکریٹریٹ تک پھیلا ہوا ہے—ڈیٹا انجینئرنگ سے لے کر فائلوں کے کھیل تک۔
اسی لیے اساتذہ آواز نہیں اٹھاتے: آج بولیں تو کل پرنسپل کے تبادلے/ترقی کے بعد باگ ڈور انہی کے ہاتھ؛ پھر وہی انتقام، وہی دباؤ۔ نتیجہ: زبانیں بند، دل اندر سے جلتے رہیں۔
پروموشن کا کھیل — اصل ناانصافی:
یہ واحد کیڈر ہے جس کی ہر سال ترقی۔ گریڈ 17 میں آتے ہیں اور سیدھا گریڈ 20 تک دوڑتے ہیں۔
ادھر نچلے کیڈر کے استاد 25–30 سال بعد، وہ بھی اکثر ریٹائرمنٹ کے وقت بمشکل پروموشن دیکھتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد حوصلہ توڑ دیتا ہے۔
“سفید ہاتھی”—یہ تشبیہ برمحل ہے:
یہی سفید ہاتھی کبھی ضلع کے افسر، کبھی تحصیل کے افسر؛ کبھی ایلیمنٹری ونگ، کبھی سیکنڈری ونگ؛ کبھی ڈویژن میں امتحانی بورڈز کے چیئرمین۔
PEC انہی ہاتھوں چلا—اور انہی ہاتھوں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوا۔ کرسی ادھر خالی ہوئی تو دوسری کرسی وہاں حاضر؛ چہرے بدلتے ہیں، مزاجِ اقتدار نہیں۔
یہ سب پڑھ کر سوال تیز ہوتا ہے:
کیا سزا اور جزا صرف کمزور استاد کے لیے ہے؟
SS کیڈر کو کون سی گِڈر سنگھی ملی ہے کہ یہ ریاست کے اندر ریاست؟
آمد و رفت، پیریڈ لوڈ اور اضافی فرائض کا شفاف، قابلِ نگرانی نظام کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا؟
گیارہویں/بارہویں داخلوں کو سیٹ بچاؤ مہم بنانے کا سلسلہ کب رکے گا؟
ڈیمانڈ—سیدھی اور دو ٹوک:
1. ڈیجیٹل آمد و رفت (arrival + departure) لازمی؛ جعلی اندراج پر فوری معطلی۔
2. پیریڈ لوڈ اور ڈیوٹی روسٹر پبلک ڈسپلے—ہر استاد کے ذمے کتنے پیریڈ؟ واضح۔
3. ہائیر سیکنڈری داخلوں کا آزاد آڈٹ—“سیٹ بچاؤ” اسکیم ختم۔
4. دوہری کرسیوں پر پابندی—سفید ہاتھی ماڈل بند؛ ضلعی/تحصیلی/بورڈ عہدوں کی شفاف، اوپن میرٹ سے تعیناتی۔
5. پروموشن لنکڈ ٹو کارکردگی—17 سے 20 کی ایکسپریس لین ختم؛ نچلے کیڈر کے لیے ٹائم باؤنڈ پروموشن۔
6. انکوائری = کٹہرا، نہ کہ کمرۂ تعیش—“دفتر میں عزت” والا ڈرامہ بند۔
آخری بات:
یہ پوسٹ جذبات نہیں، روزمرہ کی گواہی ہے۔ ہم نے سالہا سال یہ سب دیکھا، سہا اور برداشت کیا۔
اگر وزیرِ تعلیم خاموش ہیں تو یہ خاموشی ہی ہمارا ثبوت ہے۔
اور یاد رکھیں—Today is Day One. کل Day Two ہوگا—until you break the silence.
پریشان جیا بیٹھا اے
تینوں منسٹر دا کلپ نہ سنوا دیئے
استاد بنڑن نوں کوسدا پھریں گے
دل دل وچ بولدا پھریں گا
از استاد
متن: 25 سال سروس میں 20 سال استاد آیا ہی نہیں: مفت کی تنخواہ لیتا رہا
پھر 102 سال پنشن چلتی رہی
اور جاتے جاتے اپنا پتر بھی وی بھرتی کرا گیا
انکشاف 📢🛑🛑🚨
یہ بات تو آپ سب جانتے ہیں کہ جبران الیاس ایک اعلیٰ پائے کا IT ایکسپرٹ ہے دُنیا میں چند ایک کمپیوٹر کوڈنگ کے ماہرین ہیں جن میں سے ایک جبران الیاس بھی ہے۔
آج سے چند ماہ پہلے xAI کی طرف سے دنیا بھر کے آئی ٹی ایکسپرٹس کو hire کیا گیا جن میں جبران الیاس بھی شامل تھا، جبران کو ساٹھ لوگوں کی ٹیم دی گئی کہ وہ xAI کے آرٹیفیشل ایٹیلیجنس پلیٹ فارم گروک کو اس طرح سے ترتیب دیں کہ وہ لوگوں کیساتھ بالکل ایسے چیٹ کرے جیسے اے آئی نہیں بلکہ آگے سے انسان ہی آپ سے بات کر رہا ہو ۔
یہاں جبران الیاس کو فری ہینڈ مل گیا اور اس نے گروک کی کوڈنگز میں چند ایسے کی ورڈز کوڈ کر کے انسٹال کر دیئے جو پی ٹی آئی اور عمران خان کی کھلی حمایت کریں۔
جبران نے گروک کو تو اپڈیٹ کر دیا لیکن یہ باریک سی ہوشیاری کر کے اس نے پورا اے آئی سسٹم اس نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں کر دیا۔اور اس چھوٹی سی چیز پر نہ تو xAI کو فرق پڑا نا ایلون مسک کو اس بات پر کوئی اعتراض ہوا۔
اور اب امکان ہے کہ جبران الیاس کو چیٹ GPT کی اگلی اپڈیٹ کے لیئے لیئے ہائیر کیا جا رہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ہم نے لیگ میں کتنے IT ایکسپرٹ ہیں جو انٹرنیشنل لیول پر اس طرح کا کام کر سکتے ہوں؟ ہم بس بریانی کی پلیٹ پر ناچتے رہے اور یوتھیئے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
ن لیگ کو سوچنا ہوگا کہ مزید پیسہ مریم کی سرجریوں پر لگانے کی بجائے تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔
سبق پھر پڑھ بجٹ میں اضافے کا، اضافے کا
لیا جائے گا تجھ سے کام پبلک کے انٹرسٹ کا
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت اپنی کارکردگی میں مظلوم ملازمین کی طرف بھی توجہ فرمائے۔
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
#EqualPayForPunjab