الرئيس ترامب يقول : قطر تستحق الثناء ، ويتعين ان ينسب الفضل لها ، والقطريون ساعدونا كثيرا في هذا الاتفاق . علينا أن نفهم ان قطر تقع في وسط كل شيء اكثر من أي دولة أخرى وحتى أكثر من الامارات.
وأضاف ترامب : نحن نحتاج الى الطيران لمدة ساعة ونصف للوصول الى هناك وكذلك الأمر مع السعودية.
بمجرد ان تعبر خطا واحدا تكون هناك. انه في قلب منطقة عدائية بشكل لا يصدق وتحيط به أطراف مختلفة.
وتابع ترامب : لقد قدموا مساعدة هائلة كانت قطر عونا كبيرا جدا في انجاز هذا الأمر واتمنى ان يدرك الناس ذلك ، كانوا شجعانا جداً ، وقائدهم الأمير كان شجاعاً جداً جداً.
#تميم_المجد
#قطر🇶🇦
#ترامب
#ايران🇮🇷
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
The Commonwealth confirms what every Pakistani knows: the elections were rigged, democracy was dismantled, and an unelected government was imposed against the will of the people.
PTI - the voice of the majority - was silenced while our father remains in prison. Pakistan suffers under illegitimate rule, but illegitimacy cannot last. The people’s mandate will outlive tyranny and restore Pakistan’s rightful course.
“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔
نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟
چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔
بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔
مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)
#NewProfilePic
Imran Khan has given a call to “everyone in Pakistan” not just KP region for this Peshawar Jalsa on September 27th. Please join and make it a historic event.
Take placards/banners of our heroes in jail and of all Shaheeds of this cause!
#ستمبر27_خان_کی_کال
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
The key witness, whose testimony formed the very basis of this case, has been conclusively discredited in court. There is no justification for dragging this case any further, especially since the prosecution’s own witnesses, Brigadier Ahmed and Colonel Rehan, has testified that the documents of the gifts taken from Toshakhana were complete. Yet, despite all evidence and government witnesses being discredited, the hearings continue. If this were not a matter of political vendetta, both Bushra Begum and I should be acquitted of this baseless case within the week. On Thursday, a date was finally set for the Al-Qadir case as well. I still hope that the court, guided by merit and law, will deliver justice in these cases and grant me release from this fabricated charge.
Mohsin Naqvi has done to cricket what Asim Munir has done to Pakistan, left it in ruins. Every institution in Pakistan is currently in a state of collapse. Cricket, the sport that unites and inspires the nation, has suffered steadily since it was placed under the stewardship of Mohsin Naqvi. In 2021, the Pakistan team had defeated India by 10 wickets and was a confident side at that time.
The only way they can win a match is if Asim Munir and Mohsin Naqvi are sent in as opening batsmen, Sikandar Sultan Raja and Qazi Faez Isa are made the on-field umpires, and Dogar is appointed as the third umpire, because under the current setup, this seems to be their only way of winning.
Asim Munir should reflect on everything he has done just to prolong his illegitimate rule.
First, democracy was dismantled, a false flag operation on May 9 was staged to crush the country’s largest political party. Then, on February 8 (2024), the two-thirds majority vote that the people had given to me in the elections was stolen and power was handed over to the same thieves who have done nothing except loot the nation’s wealth. Despite being a dictator, Musharraf still had some degree of public support for two reasons: first, he had freed the media; second, he was holding the country’s two most corrupt families, the Sharifs and the Zardaris accountable. Now, by once again imposing this convicted corrupt mafia on the nation, the country has been pushed back by decades.
Secondly, through the 26th Amendment, the independence of the judiciary has been stripped away, turning it into just another state-controlled institution. Yet, those judges who still stand firm today for the rule of law and the supremacy of the Constitution are truly commendable. They are the heroes of the entire nation, and the whole country stands behind them for raising the banner of truth even in these most difficult times. On the other hand, those judges who have bowed before Asim Munir will never be forgiven, neither by history, nor by this nation.
Thirdly, the moral order has been dismantled, and human rights are being grievously violated. Innocent citizens have been imprisoned, subjected to military trials, and handed unlawful sentences, all without fear of accountability.
I want to send a message to my party, especially Ali Amin, Barrister Saif, and Barrister Gohar to completely cut off all contact with the establishment. If the establishment has anything to say, let them come to Adiala Jail and speak with me. The more you try to negotiate with them, the more they escalate their cruelty and try to crush our party.
What an inhumane act it is that innocent prisoner Qasim Khokhar, who had been jailed in Gujranwala for two years, was denied timely medical treatment, leading to his death in prison. Previously, several other workers have also died after being released from jail. I extend my heartfelt condolences to their families.
Former Prime Minister Imran Khan’s Message – 22 September 2025
1/2
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پوری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا ، خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
“افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی نو مئی کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے، تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابی کو خوش کیا جائے اور مغرب کے سامنے ایک “نجات دہندہ” بننے کی کوشش کی جائے-
سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔
ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔
اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
2/3
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
🇵🇰 The Commonwealth has been accused of colluding with Pakistan’s military-backed government to cover up widespread election rigging
https://t.co/t2ONuVBYB8
My father, Imran Khan, is in prison because he stood up for democracy. He is held in solitary confinement, denied access to his doctors, and restricted from meeting his lawyers and family. At the same time, members of his family and thousands of his supporters have been abducted or dragged before military courts. This is not justice - it is political revenge. Pakistan’s democracy is at stake, and I call on all who believe in human rights and democracy to stand with us so that the people’s voice is heard and the rule of law is restored.
“میری بہنوں اور اہلیہ کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ علیمہ خان باہر آ کر صرف میرا پیغام پہنچاتی ہیں۔ ان کے خلاف مہم افسوسناک اور ملک پر مسلط رجیم کی بزدلی اور خوف کا واضح ثبوت ہے۔
بشریٰ بیگم کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بشرٰی بیگم نے آج تک مجھے کسی وزیر، ٹکٹ ہولڈر یا سینٹر کو نامزد کرنے کا نہیں کہا۔ وہ کوئی سیاسی پیغام نہیں بھیجتیں۔ وہ قید تنہائی میں ہیں ان کا باہر کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کو قید و بند کی صعوبتیں صرف میری اہلیہ ہونے کی وجہ سے برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
ظالم رجیم کو گمان تھا کہ بشرٰی بیگم کو میری کمزوری بنا کر استعمال کریں گے لیکن اپنے غیر متزلزل ایمان کے باعث وہ میری طاقت بن گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی شاید وہ واحد خاتون ہیں جو غیر سیاسی ہیں مگر صرف ان کے خاندان کے کسی شخص کے سیاست میں ہونے کی وجہ سے انہیں قید برداشت کرنی پڑی ہو۔ بشری بیگم کی طبعیت ناساز ہے۔ انھیں چلتے ہوئے چکر محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے معائنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن اب تک قبول نہیں کی گئی۔ ان کا ڈاکٹر سے ترجیحی بنیادوں پر معائنہ انتہائی اہم ہے۔ بشری بیگم کو سیاسی مقدمات میں قید کرنا عاصم رجیم کی اخلاقی اور مذہبی گراوٹ کا ثبوت ہے۔
مجھ پر اور میرے خاندان پر تمام مظالم عاصم منیر کروا رہا ہے۔ ملک میں اس وقت عاصم لا نافذ ہے جس نے ڈاکو ڈفر الائنس کے تحت ملک چلا کر اخلاقیات کا جنازہ اٹھا دیا ہے۔ اخلاقی پستی کا ثبوت یہ ہے کہ میرے خاندان کی عورتوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو (۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
“خیبر پختونخوا میں آپریشن فوری طور پر بند ہونا چاہیئے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے ہی ایک زمانے میں اے این پی کو غیر مقبول کیا گیا تھا۔ صرف بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لیے اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں۔ ان آپریشنز میں ایک طرف ہمارے سیکیورٹی فورسز والے اور دوسری طرف بھی ہمارے اپنے شہری مارے جاتے ہیں۔ اپنوں کو مارنے سے ہمیشہ دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری جانب سے افغانستان اور پاکستان میں جاری ڈرون حملے فوری بند ہونے چاہئیں۔
خیبر پختونخوا کے تمام صوبائی و قومی اسمبلی ممبران اور سینیٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے میں امن کے لیے اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف آپریشن اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے مل کر بیٹھیں اور مزاحمت کریں تاکہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل ہو۔ ایک طرف لوگ سیلاب اور مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کو آپریشن کا بھی سامنا ہو گا، جو بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مذاکرات کے علاوہ امن کا کوئی مستقل حل نہیں ہوتا۔
افغانستان ہمارا برادر مسلمان ملک ہے۔ افغان مہاجرین تین تین نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ گئے تو سب نے ان کے لیے دروازے کھولے اور اسی لیے انصار مدینہ آج تک محترم ہیں لیکن ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں پر زمین تنگ کر دی۔ مہاجرین کو دھکے دے کر بے دخل کرنا بہت افسوسناک ہے ۔عاصم منیر اینٹی طالبان لابی کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور جہاں جنگ نہیں ہے وہاں جان بوجھ کر جنگ نافذ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات فوری طور پر رکنے چاہییں ورنہ حالات مزید بگڑیں گے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ہمشیران سے گفتگو۔ ۱۰ ستمبر، ۲۰۲۵
2/3
“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ نا جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار کر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
“پوری قوم کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ گندم اور چینی سکینڈلز کا کیا بنا؟
محسن نقوی اور نگران حکومت کے دور میں اربوں روپے کا گندم سکینڈل آیا اور موجودہ فارم 47 حکومت کے دور میں چینی کا میگا سکینڈل سامنے آیا، جن کی وجہ سے آٹا اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
کیا ان سکینڈلز کی تحقیقات ہوئیں؟ یا اس مارشل لاء میں چوروں کے لیے عام معافی کا اعلان ہے؟”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(8 ستمبر 2025)