شوکت یوسفزئی کو گالی برگیڈ نے آج رُلا دیا، اللہ شاہد ہے بہت دکھ ہوا شوکت یوسفزئی اور میں اسمبلی میں ایکدوسرے کے بڑے ناقد تھے اور آجکل ٹی وی مباحثوں میں بھی بھرپور ایکدوسرے کے موقف کی مخالفت کرتے ہیں لیکن بلاشبہ پی ٹی آئ کے چند شائستہ لوگوں میں سے ایک ہیں۔ مجھے خدشہ ہے ایک دن پی ٹی آئ کے دیگر جمہوریت پسند اور شائستہ زبان رکھنے والے رہنما بھی جلد ٹی وی پر روتے نظر آئینگے۔ شوکت بھائ کیلئے دعا 🤲
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں شہید کیا گیا، تو قاتل عبد الرحمن بن ملجم تھا وہی جو خود کو سب سے بڑا مجاہد، حافظِ قرآن اور تہجد گزار سمجھتا تھا۔
اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے قانون پر نہیں چل رہے تھے، وہ ریاست کا فیصلہ کر رہے تھے۔
اور شہادت کے بعد جب خبر پھیلی تو شام میں کچھ لوگوں نے کہا:کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟ جو مسجد میں قتل ہو گیا؟
یعنی پروپیگنڈا اتنا زبردست تھا کہ لوگوں کے ذہن میں بٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو دین پر ہی نہیں ہیں۔ بالکل آج کی طرح - جب فوجی شہید ہوتا ہے تو یہی ٹولہ کہتا ہے یہ تو مرتد تھا، یہ تو ریاست کا غلام تھا۔
یہ سوچ آج کی نہیں ہے، یہ 1400 سال پرانی خوارج کی سوچ ہے،
1وہی نعرہ: تب بھی نعرہ تھا "لا حکم الا للہ" حکم صرف اللہ کا۔ آج بھی یہی نعرہ ہے کہ ہم ریاست کو نہیں مانتے، ہم صرف اللہ کو مانتے ہیں۔
2. وہی طریقہ تب بھی وہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر مسجد میں قتل کرتے تھے۔ آج بھی یہی لوگ فوجی کو، پولیس والے کو، اور مسجد میں نمازی کو کافر کہہ کر مارتے ہیں۔
3. وہی انجام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا "میں اگر انہیں پاؤں تو قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا" کیونکہ یہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تو فرق صاف ہے
فوجی محافظ ہے، خوارج قاتل ہے۔
فوجی اس لیے کھڑا ہے تاکہ مسجد محفوظ رہے۔
خوارج مسجد میں آکر ہی قتل کرتا ہے اور سمجھتا ہے میں نے جہاد کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہر داڑھی والا، ہر نعرہ لگانے والا مجاہد نہیں ہوتا۔ مجاہد وہ ہے جو امت کو جوڑے، توڑے نہیں،اور پاک فوج آج امت کو جوڑ رہی ہے پوری دنیا گواہ ہے مکہ دفاعی معاہدہ امت کو یکجاں کرنے کا رستہ ہے۔۔
I appreciate President Xi Jinping’s thoughtful and responsible support for a return to the Islamabad Memorandum of Understanding and for resolving differences through dialogue and diplomacy.
چونکہ مورخ نے ایک روزہ ناغہ کے بعد ہٹی کا شٹر چُکیا تھا لہذا سالم رکشہ کرکے تمام حکومتی عہدیداران کے اکاونٹس پر پھیرا ماریا تو یہ منظر دیکھا کہ میاں داؤد کے خلاف کسی پنجاب حکومت عہدیدار جانب سے کوئی ردعمل دکھائی نہ دیا پھر مورخ نے وہی سالم رکشہ پنجاب وزارت اطلاعات جانب موڑا تو وہاں بھی جواب شکوہ دکھائی نہیں دیا اور پھر مورخ نے “ رشکے “ والے کو اپنی جیب سے کرایہ ادا کیا اور گھر کی راہ لی جبکہ دوسری جانب والنٹیرز نے میاں داؤد بیان کے بخیے ادھیڑ دیے تھے جس کے بعد یہ احساس ہوا کہ یہی رضاکار ہیں جو جماعت کا بوجھ اپنے نازک کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج اس معاملہ پر نہر کے دوسرے پاسے کھڑی ہے لہذا مورخ بھی اس وقت نہر کے دوسرے پاسے ہی کھلو گیا ہے اور انتظار میں ہے کہ کب اور کتنے وجے اس بیان پر ردعمل ائے گا اور یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جن وقتوں میں لون لیگ زیر عتاب تھی اور وزیراعظم عمران خان نے ذاتی احکامات ذریعے نوازلیگی سوشل میڈیا کے ایک رضاکار کو گرفتار کروایا تھا تو اس وقت بلال فاروق تارڑ اور میاں داؤد ہی تھے جنہوں نے اس رضاکار کا مقدمہ لڑا اور اس رضاکار کو بغیر معاوضہ تمام سہولیات مہیا کیں چونکہ اور اس وقت نواز لیگ کا اپنا سائیکل چُکیا گیا تھا بہرحال میاں داؤد کے بیان پر دلی دکھ افسوس ضرور ہوا کہ ایک ڈگری کی تصدیق پر انہیں ذاتی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے تھا
بعض مصنفین نے خیال آرائی کی ہے کہ لفظ برہمن ابراہیم کی بدلی ہوئی صورت ہے۔گائے کا تقدس،گنہگار کو اچھوت قرار دینا جیسے موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو کیا تھا،مردے کو جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہانا جیسے سامری کے بچھڑے کے ساتھ کیا گیا تھا اور پیلے رنگ کو متبرک ماننا وہ اسباب ہیں جو مذکورہ مصنفین کے خیال میں برہمنوں کو بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں سے ایک قرار دینے کی بنیاد بنتے ہیں۔
دوسری طرف انگریزوں نے افغانوں کے بارے میں بھی اس طرح کی باتیں کی ہیں کہ یہ بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل میں سے ہیں۔
جب کوئی افغانی یہ کہتا سنائی دے کہ ہمارا اور مودیوں کا ڈی این اے ایک ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہوتا ہے۔اب ذرا پانچ ہزار سالہ تاریخ کے تذکرے کا سبب اور پسمنظر بھی جان لیجیے:
مذکورہ گمشدہ قبائل اندازاً تین ہزار سال پہلے بچھڑ کر کہیں گم ہو گئے تھے۔اگر آپ بنی اسرائیل کی نظریاتی روایت کو لیکر پانچ ہزار سال پیچھے جائیں تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ختم ہو جاتی ہے۔مگر اس میں دو مسائل درپیش ہیں۔ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً چار ساڑھے چار ہزار سال پرانی شخصیت ہیں اور دوسرا یہ کہ اس روایت کے اب مستند امانتدار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔چنانچہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اس دعوے سے اصل مراد نظریاتی نہیں بلکہ نسلی روایت ہے جو حضرت ابراہیم سے ہوتی ہوئی سلسلہ نماردہ یعنی نمرودوں سے جا ملتی ہے اور جس کا مرکز بابل تھا جہاں کا خدا بعل تھا۔یہ وہی بعل ہے جو مختلف شکلوں میں مختلف تہذیبوں میں بت پرستی کی اساس ہے۔مصر عرب اور ہندوستان میں بت پرستی کی اصل اساس اسی بابل کی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ایپسٹین کے جزیرے پر اسی بعل کا معبد بھی تھا جہاں پر یورپ اور امریکہ کی حکمران اشرافیہ سربسجود ہوتی تھی۔اسی تہذیب کیخلاف حضرت ابراہیم نے علم بغاوت بلند کیا تھا،عرب سے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو مٹایا تھا،اسی کے خلاف حضور کے سچے امتی آج بھی صف آراء ہیں اور انکے مقابل بابلی تہذیب کے فرزند مغرب و مشرق میں کبھی ڈی این اے ملا کر متحد ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی پانچ ہزار سالہ تہذیبی سلسلے کی دھائی دیکر جمع ہونے کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔بابلی تہذیب کے فرزند اور ابراہیم کے اصل وارث ایک دفعہ پھر رزم گاہ حق و باطل میں صف آراء ہو رہے ہیں:
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
ہماری اطلاعات کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات میں 27 ستمبر کے لانگ مارچ مؤخر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔دیلھتے ہیں حکومت پہلے عمران خان کا دوبارہ چیک اپ کراتی ہے یا PTIپہلے مارچ موخر کرنے کا اعلان کرتی ہے؟
اب معاملہ پہلے اعلان یا پہلے چیک اپ کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔۔
#نيويورك | سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان@FaisalbinFarhan يعقد اجتماعاً مع معالي نائب رئيس الوزراء وزير خارجية جمهورية باكستان الإسلامية السيد محمد إسحاق دار، ومعالي وزير خارجية الجمهورية التركية السيد هاكان فيدان، وذلك في إطار اتفاقية مكة للدفاع المشترك.
#المملكة_في_الأمم_المتحدة 🇸🇦
حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف گزشتہ چند روز کی کاروائیوں سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب کسی قوم کی صفوں میں اس کے دشمنوں کو واضح شگاف مل جائیں جہاں مورچے بناے جا سکیں یا اس کے پڑوس میں کوی militant group دستیاب ہو جاے تو اس کے لیے ان عناصر تک مالی وسائل و چنگی ہتھیار پہنچانا قطعا” مشکل نہیں ہوتا۔
حوثی militants کا ایسا گروپ ہے جسے سرپرستی کے لیے سعودی عرب کے دشمن دستاب رہے اور انہوں نے ان کی معاونت سے آہستہ آہستہ وہ عسکری طاقت حاصل کر لی کہ سعودی عرب کی سالمیت ہی خطرے میں ڈال دی۔
طالبان ، کے پی اور بلوچستان کے militants کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے خلاف ہر قسم کی کاروای کے لیے یہ عناصر ہہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان نے ایک طرح کی غلطی کی، ان عناصر کی بڑھتی طاقت کو نظر انداز کرتے رہے۔ نتائج بھی ایک ہی ہیں،
کسی بھی ریاست کو یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ایسے عناصر کی بر وقت بیخ کنی نہ کی جاے تو یہ آخر کار ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بھی بن جاتے ہیں۔
ہمیں پاکستان کی سالمیت کی جنگ کو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
یہ جنگ ہمیں ماضی کی غلطیوں کا کفارہ سمجھ کر لڑنا ہو گی۔
اب ہمارے پاس کوی دوسرا آپشن نہیں رہا۔
أبرز من اعتدوا أو حاولوا استهداف مكة، قبلة المسلمين عبر التاريخ:
• أصحاب الفيل – أبرهة الحبشي 570م:
حاول هدم الكعبة.
• القرامطة 930م:
اقتحموا مكة وسرقوا الحجر الأسود.
• الحوثيون 2017 و2026م:
حاولوا استهداف مكة، وفشلوا بفضل الله ثم الدفاعات الجوية السعودية.
-
Breaking: Pakistan appoints Lieutenant General Nauman Mahmood as the first Secretary General pursuant to Makkah Joint Defence Agreement (MJDA).
Secretary General will lead the General Secretariat of the Alliance being established at Riyadh.
ایک سوال جو رپلائی میں بار بار پوچھا جاتا ہے کہ “ آپ ایران بارے سخت موقف کیوں رکھتے ہیں “ تو اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ جب ایران نے پاکستان پر میزائل حملے کئے تو اس وقت مورخ اپنی مادر وطن کے ساتھ کھڑا تھا اور جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت ایران ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا اور جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت مورخ ایران کے ساتھ کھڑا تھا اور اس کے بعد ایران نے عرب ممالک پر جارحیت کی اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا تو عام عوام کو یہ سمجھ لگ گئی کہ امریکہ ایران لڑائی نورا فتیحی کشتی ہے اور آج ایران اپنی پراکسی حوثی دہشتگردوں ذریعے حرمین شریفین پر حملہ آور ہوا ہے اور پاکستان میں جواد نقوی جیسے لوگ حوثی باغیوں کے حملوں کا دفاع کررہے ہیں تو جب آپ سے پوچھا جائے کہ حرمین شریفین جیسی مقدس ترین دھرتی اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو آپکا جواب حرمین شریفین ہوگا اور اگر آپ مجوسی ہیں تو پھر آپکا انتخاب ایران ہوگا
سکول میں بچوں کی لڑائی اس بات پر ختم ہوا کرتی کہ "تم میرا گریبان چھوڑو" سامنے سے جواب آتا کہ "نہیں، پہلے تم میرا گریبان چھوڑو"۔ پھر کوئی میرے جیسا ان دونوں کے گریبان پکڑے ہاتھوں کو سختی سے پکڑ کے ان کی لڑائی چھڑوا دیتا اور زندگی استاد جی کے کلاس میں آنے سے امن کی طرف لوٹ جاتی۔
ایران اور امریکہ کی لڑائی بھی اس مرحلے پر آ گئی ہے کہ "تم آبنائے حرمز کھولو" اور جواب آتا ہے کہ "پہلے تم حرمز کھولو"۔
خیال امروز
🤣🤣
جماعت اسلامی کا مارچ خالص عوامی ایشو پر ہے جبکہ نوزائیدہ انقلابی عدالتوں سے سزا یافتہ اپنا لیڈر عوامی طاقت سے رہا کروانے نکلے ہیں جیسے ڈاکو اپنا ساتھی پولیس سے چھڑا کر یا جیل توڑ کر لے جاتے ہیں۔