آئی ایس آئی کا کالا چینل میرے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے کہ کوئی باہر بیٹھ کر میرا ٹویٹر اکاؤنٹ چلا رہا ہے!
عاصم منیر، یہ کن کاموں میں پڑ گئے ہو؟
سانحۂ ملتان۔ ایک یتیم بچے کا قتل۔ یہ جرنیلی سوچ ہے۔ جیسے کور کمانڈر نے سانحۂ اے پی ایس کے بعد ایک ماں سے کہا تھا کہ تم جا کر اور بچے پیدا کرو۔ اُس کو بھی یہی سزا ملنی چاہیے۔
مکہ مکرمہ میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی نوجوان اور لڑکی کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
طائف میں قائم اسلامک دعوہ سینٹر کے معروف مبلغ عبدالرزاق مدنی صاحب نے یہ تفصیلات شئیر کی ہیں۔
اس کیس کے سلسلے میں سعودی عدالت سے ایک بڑی غلطی بھی ہوئی ہے جسکا تذکرہ ہم جاوید چوہدری کی طرح تحریر کی دم کے ساتھ لٹکا دیں گے ۔
نذر الاسلام 13 نومبر 2022 کو ورک ویزے پر سعودی عرب آیا تھا۔ بنگلہ دیشی شہری نذر الاسلام اور سیتھی اختر دونوں خانہ کعبہ میں صفائی کے کارکن اور بن لادن گروپ کے ملازم تھے۔ مکہ مکرمہ میں لڑکے کی رہائش حی الاسکان جبکہ لڑکی کی رہائش بطحا قریش میں تھی۔
ان دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے اور انہوں نے مئی 2023 میں اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔
مسجد الحرام میں صفائی کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے وہ وہاں کے چپے چپے سے واقف تھے۔ انہوں نے موقع پا کر گیٹ نمبر 85 (باب سعید بن زید) اور گیٹ نمبر 87 (باب أم ہانی) کے درمیان اوپر جانے والی سیڑھیوں کے قریب واقع صفائی عملے کے عارضی دفاتر کو استعمال کیا، جو مسجد الحرام کے اندر خانہ کعبہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
یہ مسجد الحرام کا حصہ ہے ۔
یہ دونوں افراد 2023 سے 2026 تک جیل میں رہے مختلف عدالتوں میں انہیں پیش کیا گیا ان کا ٹرائل ہوا اور انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ سعودی عدالتوں نے اس مقدس مقام کے تقدس اور حرمت کو پامال کرنے پر تعزیری سزا کے طور پر دونوں کو سزائے موت دے دی۔
البتہ اس کیس میں سعودی عدالت اور حکومت سے ایک ناقابل تلافی غلطی ہوئی انہوں نے بروقت پاکستانی سوشل میڈیا پر بیٹھے مومنین اور مجاہدین کو اطلاع نہیں دی ۔
اس غفلت کے باعث ہمارے مومنین اور مجاہدین نے لڑکا لڑکی کا نکاح پڑھا کر ڈھاکہ سے مکہ ہنی مون پر بھیجا ۔
جب کہ مبلغ ایک عدد بوسے پر سزائے موت کی مکمل الف لیلیٰ داستان گھڑ کر سعودیہ کو گالیاں دینے لگے ۔
سعودیہ سے بہرحال غلطی ہوئی ہے ۔۔
یہ شرمناک واقعہ کسی عام جگہ نہیں حرم پاک کے اندر خانہ کعبہ میں پیش آیا ہے ۔
بقلم فردوس جمال !!!
سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگالی مرد و عورت مسجد الحرام میں صفائی کی ملازمت کر رہے تھے ۔ اسی لئے مسجد الحرام کے ہی ایک خالی کمرے میں زنا کیا جس کا ویڈیو ثبوت بھی موجود تھا ۔ ویڈیو بنانے والے کو بھی 20 سال قید کی سزا ہوئی
سہیل آفریدی جنید اکبر اور بابر سلیم سواتی
کو کسی بھی غرض سے وفاقی یا صوبائی تحویل کی بجائے فوج نے کس قانون کے تحت اپنے پاس رکھا ہے؟
سویلینز کو ملٹری حراست میں رکھنا پاکستان کے آئین کی کس شق کے تحت ہے ؟
@ZubairAlikhanUN زبیر صاحب سنگین جرم یعنی زنا کہاں مسجد الحرام میں اور مخصوص حالات یعنی احرام میں مطلب حدود اللہ واضح عائد ہوتی ہے جس کا مطلب سزائے موت یے
@enkidureborn باقی ایک اور چیز نوٹ کی آپ نے اگر عمرہ یا حج کیا یے تو مسجد حرام کے اندر آپ کو باتھروم نہیں ملیں گے باتھروم مسجد کی حد سے باہر ہیں ایک تو معروف ابو جہل کے گھر پر بنے ہوئے ہیں یہ مسجد الحرام کی پاکی حرمت کو برقرار رکھنے کے لئے تو وہاں زنا کیسے قابل برداشت ہوگا
@enkidureborn وہ حدیث آپ درست بیان کر رہے ہیں انکیڈو لیکن وہ مسجد نبوی تھی جبکہ یہ بیت اللہ الحرام اور یہ حدود اللہ ہیں اس میں اپ کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے احرام کی حالت میں اگر آپ چڑیا کو شکار کرلیں تو بھی آپ پر قتل عمد کی حد لگتی ہے بعینہ اگر مسجد حرام میں زنا کیا جائے اس کی سزا بھی موت ہے
@MoeedNj Dr sb this report is proving my point they were not husband n wife n they were committing adultery in Haram which is major sin n their sentence is death its called حدود الله limits set by Allah if u cross it u will face severe punishment same if u hunt a sparrow u will be killed
@MoeedNj I know dr sb its very difficult for ppls like u the ultra liberals to digest such rules but its Hudod Allah n its not Saudi arab's mistake even u r in ahram if u killed a sparrow u will be killed in qasas same is the adultery not bearable in the premises of Haram
@enkidureborn تحقیق اور ٹرائل چلنے کے بعد ہی اس یہ فیصلہ آیا اس میں سعودی عرب کا قصور نہیں یہ حدود اللہ ہیں جیسے احرام میں ایک چڑیا مارنے پر قصاص یعنی قتل کیا جاتا ہے ویسے ہی زنا حرم کے اندر مردود ترین چیز ہے جس کی سزا سنگسار ہے اب اللہ کے حکم کے خلاف جائیں گے تو آپ کی مرضی یے