بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچ نسل کشی کے خلاف 28 جولائی کو گوادر میں ایک راجی مُچی کا انعقاد کیا جارہاہے۔
آج سے راجی مُچی کے تیاریوں کے سلسلے میں پورے بلوچ سرزمین میں سرگرمیوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں بلوچ راجی مُچی کے لیے ہونے والے تیاریوں میں بھر پور حصہ لیں۔
ہم بحثیت قوم اس وقت جس طرح ظلم، جبر اور بربریت کا سامنا کررہے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرکے صرف بحیثیت بلوچ اس نسل کشی کے خلاف اجتماعی مزاحمت کا حصہ بن جائے۔ ہم اجتماعی مزاحمت، اتحاد اور یکجہتی سے اپنے قوم کو اس حالات سے نکال سکتے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ بلوچ قوم مزاحمتی جدوجہد اور قومی یکجہتی سے اپنے سرزمین سے اس ظلم و جبر کے نام و نشان کو مٹا دے گی۔
#بلوچ_راجی_مچی
#BalochNationalGathering
#MarchAgainstBalochGenocide
𝒮𝒶𝒷𝒶 𝐿𝒾𝓉𝑒𝓇𝒶𝓇𝓎 𝐹𝑒𝓈𝓉𝒾𝓋𝒶𝓁 𝒮𝒽𝒶𝒶𝓁
BSAC is hosting a literary and cultural festival named Saba Literary Festival at Shaal Quetta.
Our Speakers
Prof. @HAMIDALIBALOCH9 ( Professor at University of Balochistan)
@ChairmanBSAC_:Chairman of BSAC
@AzharBaaloch: Secretary General of BSAC
@Mahabalochh2: President of BSAC Shaal Zone
Date and Timing: May 19, 2024, 11:00am
Location: Sariab Palace Marriage Hall, Badini Link, Sariab Road, Shaal
Baloch Students Action Committee
#SabaLiteraryFestival
The BUITEMS administration’s anti-educational policies continue as they issue suspension notification to yet another faculty, Assistant Director @hanifBaloch0. This is terribly haunting the worth of higher institutes. Such acts are meant to suppress voices against injustices
بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارہ میں روایتی رویہ کی طرح بوئٹمز یونیورسٹی میں تعلیم دشمن رویہ جاری ہے گزشتہ دنوں دو پروفیسر صاحبان کو پولیس نے گرفتار کرکہ تھانہ میں کئی گھنٹے بلا جواز بند کیا ہے اسی طرح @hanifBaloch0 صاحب کو تھانوں میں بند کرنا اور آخر ان کو سسپنڈ کردیا گیا ۔
بلوچ اساتذہ کو بھی بلوچ طلباء کی طرح ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ طلباء اور اساتذہ کے رتبہ میں بڑا فرق ہے۔ یہی استاد اگر معاشرے کی بہتری کیلئے کوئی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے انے شناخت کی بنیاد پہ نشانہ بنایا جارہاہے ۔ حالانکہ استاد معاشرے کو بہترین بنانے کا بنیادی پیلر ہے ۔
آپ لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور گرفتار ہوتے ہیں ورنہ بلوچ استاد،طلباء اور دانشوروں کو صباء دشتیاری، زاہد آسکانی اور عبدالرزاق کی طرح گولیوں سے چھلنی لاشیں ملتی ہیں۔
@hanifBaloch0
The BUITEMS administration’s anti-educational policies continue as they issue suspension notification to yet another faculty, Assistant Director @hanifBaloch0. This is terribly haunting the worth of higher institutes. Such acts are meant to suppress voices against injustices.
It’s against the very academic rights in education sector. The teachers are being suspended and their entry are banned in educational institutions in response of speaking against the corruption and unjust of BUITEMS administration. The University is under control of some corrupt lobby. We stand with @hanifBaloch0 and demand the concerned authorities to take action against this lobby and respect our teachers.
Barkhan
The Govt Primary School Haji Sultan Matt in Ocharri, Barkhan; enrols about 100 students, is non-function for last three years due to unavailability of teachers. We support locals & through #BalochLiteracyCampaign demand the authorities to provide teachers in the school.
The prolonged absence of teachers at Barkhan Govt School in Basti Haji Qasim Rakni is unacceptable. With over 70 students deprived of education, it's crucial to address this issue immediately. Lack of facilities and teacher absenteeism must be rectified.
#BalochLiteracyCampaign
پاکستانیوں میرا اکاؤنٹ مسلسل رپورٹ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ریچ ختم ہو رہی ہے، سب دوستوں سے ریٹویٹ اور کمنٹس کی بارش کی درخواست
#ElectionResults2024#iqrarulhassan
ریاستی انتخابات کا بائیکاٹ کیوں ضروری ہے
بلوچ راج
جیسے کہ آپ سب کے علم میں ہوگا کہ ریاست نے 8 فروری 2024 کو اپنے نام نہاد انتخابات کا اعلان کر دیا ہے ۔ بلوچستان میں ریاستی انتخابات کی حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ کس طرح ڈیتھ اسکواڈز اور منشیات فروشوں کو انتخابات کے نام پر پارلیمنٹ بھیجا جاتا ہے اور بعدازاں انہیں بلوچستان کے نمائندے کے طور پر دنیا میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ ایک طرف انتخابات کا ڈھونگ رچا کر دنیا میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ بلوچستان کے لوگ اس ریاستی نظام پر یقین رکھتے ہیں تو دوسری جانب اپنے جرائم پیشہ افراد کو پارلیمنٹ میں بھیج کر انہیں سیاسی حیثیت دیا جائے۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بلوچستان کو اس وقت ریاستی فورسز چلا رہے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت جتنے بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ کوئٹہ کینٹ اور اسلام آباد میں ریاستی فوج کرتی ہے لیکن پارلیمنٹ میں چند افراد کو بیٹھا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے۔ جس انتخابات کیلئے ریاست اپنی تمام طاقت استعمال میں لا رہی ہے اس میں کھڑے ہونے والے شفیق مینگل جیسے عالمی دہشتگرد ہیں جن کے ہاتھوں بلوچ خون سے رنگے ہیں۔ ریاست کیلئے یہ انتخابات اس لیے بھی ضروری ہیں کہ وہ دنیا میں بلوچستان پر اپنے ناجائز قبضے کو جواز فراہم کر سکیں۔ ان الیکشن میں حصہ لینا اور ان کا حصہ بننا بلوچستان میں ریاست کے ناجائز قبضے کی حمایت کرنے کے مترادف ہوگا۔ جو سیاسی پارٹیاں ان الیکشنز میں حصہ لے رہی ہیں ان کے ہاتھ کسی نہ کسی طرح بلوچ نسل کشی میں ملوث ہیں ۔
باشعور بلوچ قوم
ریاست کے نام نہاد انتخابات کا قومی بائیکاٹ اس لیے ضروری ہے تاکہ دنیا کو یہ دیکھایا جا سکیں کہ بلوچ قوم ریاست کے ناجائز قبضے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اپنی آزادی کی خواہش رکھتی ہے۔اگر بلوچ قوم ان انتخابات کو پچھلے انتخابات کی طرح ناکام بنائے گی تو دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ بلوچ قوم ریاست کے اس ناجائز قبضے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ قومی آزادی کے جدوجہد پر یقین رکھتا ہے جسے ریاست تشدد سے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست اس وقت بلوچستان میں مکمل طور پر اخلاقی شکست کھا چکی ہے۔ آج بلوچستان کے گھر گھر سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں ریاستی جبر اور تشدد کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ ریاست بلوچستان میں موجود اس نفرت کو مٹانے کیلئے انتخابات کا سہارہ لے رہی ہے جبکہ ان نام نہاد انتخابات کے ذریعے دوسری جانب اپنے جرائم پیشہ افراد کو سیاسی نمائندگی دینا چاہتا ہے۔ باشعور بلوچ عوام اس بات کا اچھی طرح ادراک رکھتی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل بلوچستان سے ریاست کے قبضے کے خاتمے میں ہے جب تک بلوچستان پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ قائم رہے گا اس وقت تک بلوچستان میں کوئی بھی بہتری ممکن نہیں ہے کیونکہ بلوچستان کو آج جس آگ کا سامنا ہے یہ ریاست کی لگائی ہوئی ہے۔ ریاست کے انتخابات کا بائیکاٹ ہر ذی شعور بلوچ پر فرض ہے تاکہ بلوچ قوم اس ریاست سے اپنے رشتہ کا حقیقی اظہار کریں۔ آج جو پارٹیاں بلوچستان کے حقوق اور مسائل کا حل پارلیمنٹ کو قرار دے رہی ہیں درحقیقت ان تمام جرائم میں یہ براہ راست ملوث رہے ہیں۔ قوم پرستی کے نام پر ووٹ بٹورنے والی جماعتیں گزشتہ دہائیوں سے ریاست کے وفادار اور ان کی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں لیکن جب بھی انہیں حکومت ملی ہے انہوں نے فوج کے ساتھ ملکر بلوچ نسل کشی کو مزید منظم کر دیا ہے۔ انہیں جب بھی حکومت ملی ہے انہوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی سب سے بڑی مثال نیشنل پارٹی کی حکومت رہی ہے ۔
باعلم بلوچ راج
بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی زمہ داریاں کسی ایک مخصوص جماعت کے کندھے پر نہیں بلکہ ان کا زمہ تمام بلوچ قوم کولینا چاہیے۔ ایک طرف جہاں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوان ریاستی قبضے کے خاتمے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور ہر تکلیف اور مشکلات کاسامنا کر رہے ہیں تو دوسری جانب یہ عوام کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ریاست کے منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے ریاست کے کسی بھی قبضہ گیری منصوبے کو ریجکٹ کریں۔
نشر و اشاعت۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
https://t.co/CAT7MPOJYg