رینجرز نے کراچی میں سرفراز شاہ کو گولی ماردی ، خون بہتا رہا ہسپتال نہیں لیجانے دیا نوجوان کی وفات ہوگئی۔ ان میں سے کسی رینجرز اہلکار کو پھانسی نہیں ہوئی۔ اس نے کس کی ماں کو چھیڑا تھا؟
🔸 میرے یونیورسٹی کے پُرانے کولیگز بتا رہے ہیں کہ ،
سرحد یونیورسٹی کے 35 سے زیادہ سٹوڈنٹس کو ہاسٹلز سے گرفتار کرکے ان پر تشدد ہو رہا ہے اور ان کے خلاف ایف آئ آرز کروا رہے ۔۔ احتجاج میں شامل لڑکیوں کو بھی یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے اور ان کے والدین سے رابطہ کرکے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
🔸 کیا یونیورسٹی میں کوئ ذمہ دار ایڈمنسٹریشن نہیں ہے جو سٹوڈنٹس کے حقوق کا تحفظ کرے ؟
🔸 سرحد یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لئے آواز اُٹھائیں پلیز
اگرچہ اس پورے معاملے کی واقعاتی جزئیات میں زیادہ دلچسپی نہیں ، ہمارا مطمع نظر وہ خوشی کی لہر ہے جو ایک کرنل کو ایک چھڑی اور تین عدد تھپڑ پڑنے پر پوری قوم نے محسوس کی ہے۔ لیکن اب چونکہ اس معاملے کی کئی ایک ویڈیوز سامنے آچکی ہیں تو یقین سے بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔
خاتون کے ساتھ مسلح گارڈ موجود تھا۔ خاتون نے بیرئیرز گرائے۔ خاتون نے آشناء کرنل کی طاقت کی شہہ ہونے پر پولیس اہلکار سے ڈنڈا چھین کر بھی حملہ کیا۔ خاتون نے ایک طالبعلم کو تھپڑ مارا جس پر بھی اس نے تحمل سے کام لیا۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی نفری بھی موجود تھی۔ خاتون فون پر کسی کو بلا رہی تھی، دھمکیاں اور وارننگ دیتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔
خاتون کرنل کی اہلیہ یا رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ خاتون اس سے قبل ایچ او ڈی کو عہدے سے ہٹوا کر اضافی چارج لے چکی ہے۔ طلباء ایچ او ڈی کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اور جیسا بتایا جاتا رہا یہ غیرت ، یا پرتشدد ہجوم کا نہیں بدمعاشی ، اختیارات سے تجاوز اور غنڈہ گردی کا معاملہ تھا اور کرنل صرف آشنا خاتون کے سامنے کچی عمر کے فلیکسز دکھا رہا تھا۔ کسی ایک بھی ویڈیو میں کوئی ایک بھی طالبعلم سوائے احتجاج کے کچھ اور کرتا دکھائی نہیں دیا۔
کسی ایک بھی طالبعلم نے کرنل پر ہاتھ نہیں اٹھایا تاوقتیکہ کرنل نے دو تین طالبعلموں کو گالیاں بکیں اور ان پر حملہ کیا۔یہیں ایک اور چیز بھی محسوس ہوئی کہ پاکستان کے بہت سارے صحافی اس موضوع پر گفتگو نہیں کرپائے۔ یعنی انہیں اپنی حدود معلوم تھیں۔ کچھ کی پوسٹ شدہ ٹویٹس ڈیلیٹ ہوگئیں یعنی حکم آگیا اور بہت سے عادی مجرم “ اصل میں یہ ہوا “ والا سکرپٹ بھی دوہراتے رہے۔
لہذا گفتگو کا اختتام یہاں ہوتا ہے کہ فوج نے کبھی مشرقی پاکستان دولخت کرنے کی ذمہ داری تسلیم نہیں کی وہ ایک کرنل کی چھوٹی سے بدمعاشی کیسے مان جاتی۔ اس ملک میں میڈیا اور صحافی سب کنٹرولڈ اور اجازت و حکم کے تحت چلتے ہیں۔ وما وعلینا الی البلاغ ۔۔۔
اگر نکل سکتے ہیں تو اس ملک سے نکل آئیے۔ اتنی بیدردی سے دنیا کا کوئی ملک آپ کو نہیں مارے گا۔ ہسپتال تو بہت حساس جگہیں ہیں ، ریسٹورنٹس اور سٹورز میں ایک ایک کمرے کی دوکانوں میں فائر ایگزٹس ہیں جنکو باقاعدہ چیک کیا جاتا ہے۔ آگ بجھانے والے آلات لازمی ہیں۔ نہ ہونے پر سب کچھ سیل کرجاتے ہیں۔ ہر گھر میں ، ہر اینٹوں سے بنی عمارت میں فائر اور سموک الارم لگے ہیں۔ فائر الارمز کی چیکنگ ہوتی ہے۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ایک ایک بلڈنگ کا نقشہ ہے۔ کوئی ایک اینٹ کونسل کی منظوری کے بغیر نہیں لگ سکتی ، کچھ تبدیلی ہوتی ہے تو اطلاع کی جاتی ہے ، نقشے اپڈیٹ ہوتے ہیں تاکہ ہنگامی صورت میں ریسکیو والے دیواروں سے نا سر ٹکراتے پھریں۔ منٹ ڈیڑھ میں فائر بریگیڈ پہنچتا ہے۔ پولیس سے زیادہ سڑکوں پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یعنی کسی حادثے سے پہلے بچاؤ کا مکمل نظام تیار کیا جاتا ہے۔ حادثہ ہوجانا تو بہت بعد کی چیز ہے۔
یہاں حفاظت ؟ سیفٹی؟ جو تھوڑا بہت مال لگایا اس میں بھی کرپشن ، ملاوٹ ، آگ سپارکنگ سے لگی ہے تو ٹھیکیدار نے سستا مال ڈالا ہوگا ، کمپریسر پھٹا ہے تو سپلائر نے کک بیک دے کر سستا مال سپلائی کردیا ہوگا۔ نرسنگ سٹاف کو ہنگامی حالت کی ٹریننگ نہیں ہوگی۔ پھر اسکے بعد ؟ حادثہ ہوگیا؟ اللہ کی مرضی ، تم استعفی دو تم استعفی دو اسکے بعد طویل خاموشی۔
ہاں پاکستان غریب ملک ہے۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک جیسے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن جو وسائل ہیں وہ بھی جہازوں ، گالف کلبوں ، مراعات اور عیاشیوں پر لگ رہے ہیں۔ سسٹم کے اوپر ایک سانپ بیٹھا ہے جو سسٹم کے ایک ایک پرزے کو ڈنک مار رہا ہے۔ دو دن کا رونا پھر اگلے حادثے کا انتظار اور پھر یہی چیخ وپکار۔ آپ بس نکل آئیں ۔ موت یہاں بھی آسکتی ہے۔ لیکن آپ کو موت کے منہ میں دھکیلا نہیں جائے گا آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش موجود ہوگی۔
کرنل نے اپنے دفاع میں گولی نہیں چلائی کیونکہ کرنل کے دفاع کیلئے تو وہاں اسلام آباد پولیس موجود تھی، کرنل نے اپنی بدمعاشی، پاور اور ڈنڈے کا زور دکھانے کیلئے گولی چلائی ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے
کچھ یو ٹیوبرز اور انصافی کہہ رہے تھے کہ اُسی دن توہین عدالت کی درخواست دائر کیوں نہیں کی ۔۔ جیسا کہ عدالت انصاف دینے کے لئے بے تاب بیٹھی تھی
ایسے ہی پہلے بھی کتنا عرصہ یوٹیوبرز اور صحافی بتاتے رہے کہ قانونی ٹیم نالائق ہے ورنہ جج تو انصاف دینے کے لئے تڑپ رہے ہیں
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
کچھ لوگوں کا ایمان قرآن پاک کی اولین آیتوں پر ٹکا ہے۔ یومنون بالغیب ۔ ایمان ہے ہی غیب کا یقین۔ جو سامنے آگیا وہ تو ثبوت ہوگیا۔ وہ ایمان تو نہ رہا۔ کچھ کا سینہ بہ سینہ چلتا ہے۔ جتنا دوکان سے تول کر لے آئے جہاں ہے وہیں پڑا رہے گا تو اس کا وزن وہی رہے گا۔ کچھ کا ایمان سکون سے منسلک ہوجاتا ہے۔ بھٹکتے ، گھومتے ، پھرتے اچانک ایک دن انہیں کوئی ادا پسند آجاتی ہے اور وہ پھر وہیں بیٹھ جاتے ہیں۔ ہزاروں صورتیں۔ ہزاروں شکلیں۔
ہاں کچھ ہیں ہم جیسے بدقسمت ، مادہ پرست ، ہر چیز تولنا شروع کردیتے ہیں۔ زندگی کے اسٹئیرنگ پر یوں بیٹھے ہیں جیسے کوئی دوکاندار اپنے ٹھیے پر بیٹھتا ہے۔ ہر مال کو ہر نوٹ کو پرکھتا ہے ، دیکھتا ہے ، سودا وارے میں آئے تو کرتا ہے ورنہ مکر جاتا ہے۔ لیکن کچھ چیزوں کو ہم فیس ویلیو پر نہیں دیکھ سکتے۔ پھر ہر چیز میں ہی عادت پڑ جاتی ہے۔ کچھ پار اتر جاتے ہیں۔ کچھ ادھر رہ جاتے ہیں۔ کچھ میرے جیسے ، درمیان میں ، کبھی ادھر ڈول گئے ، کبھی ادھر لٹک گئے۔
میرا ایمان اس شخصیت کے سحر میں جکڑا ہے جو ایک دن حرا کے پہاڑ سے اترے اور جو کہا لوگ اسے ماننا شروع ہوگئے۔ پھر اپنے جینز ، اپنے ارتقاء ، اپنے کلچر ، اپنے سماج ، ہر چیز کو اس ایک شخصیت کے کہنے پر بدل دیا اور پھر بدلتے ہی چلے گئے۔ وہ جو اس ایک شخصیت کے اندر کشش ہے ، وہ میرا ایمان ہے۔ اگر میں مکہ میں ہوتا، اتنی بڑی تعداد میں یکایک لوگوں کو انکی جانب پلٹتے دیکھتا ، تو بغیر کسی سوال و جواب کے اس معجزے پر اس کرامت پر اس شخصت کے ایک ایک کہے پر ایمان لے آتا۔
کہیں مذہب ابھی تک جنگلوں اور غاروں سے ہی نہیں نکلا۔ کہیں مذہب احساس برتری کے پنجرے میں بند ہے۔ کہیں مذہب میں تہواروں کا شور ہے تو کہیں صدیوں پرانی خاموشی اور ٹھہراؤ ۔ کسی مذہب میں لچک اتنی اور کسی میں گنجائش اتنی کہ جدھر چاہے موڑ لو۔ لیکن وہ ایک شخصیت ، جن کی زبان سے نکلا ایک ایک لفظ حکم ہے اور قانون ہے۔ وہ جن کا کہا صحارا سے لیکر سکوئیر مائل یا وال سٹریٹ تک میں اپنی جگہ بناتا ہے میرا ان پر ایمان ہے۔
نبی کریم سے میرے باپ نے محبت کی ، میرے باپ کے باپ نے کی۔ میری ماں نے کی ، ماں کی ماں نے کی۔ یہ میرے جینز میں چلی آتی ہے۔ اگر میں زندگی کو ارتقاء بھی سمجھوں ، اس کائنات کے آغاز کو بگ بینگ بھی مانوں ، اگر میں ڈارون کے مشاہدات پر بھی ایمان لے آؤں جو چیز نسلوں سے میرے اندر رچی بسی ہے اسکی خوش بو کوئی نہیں نکال سکتا اور اگر ہمارے حساب کتاب سے ، اندازے سے ، ہماری سوچ اور وہم و گمان سے زرا پہلے ، زرا آگے پیچھے ، زرا مختلف قیامت آگئی ، تو اس خوش بو کو لیکر پیش ہوجائیں گے۔
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
عمران خان کی بہنوں کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 16 ستمبر یعنی اکیس دن بعد ہوگی۔ عرض کی تھی عدالتیں وہی کرتی ہیں جس کا انہیں حکم آتا ہے۔ یہ عدالتیں عمران خان کو بنیادی ترین حقوق نہیں دلوا سکتیں۔
بے غیرت بریگیڈ بیانیہ تھوڑا سا مزید لو گئیر میں کرلیں کیونکہ کچھ سی نئی تفصیل آگئی ہے۔ خاتون کرنل صاحب کی اہلیہ نہیں ہیں۔ کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہیں۔ تو اب یا تو یہ کہیں کہ کرنل صاحب نے اپنی دوست کو ہجوم سے بچایا۔ لیکن اللہ کی فوج کا کرنل اور غیر محرم عورت سے دوستی؟ توبہ توبہ۔ تو اب یہ ایڈجسٹمنٹ کریں کہ کرنل صاحب دفتر سے نکل کر جمعہ پڑھانے جارہے تھے یا پھر غریبوں میں لنگر بانٹنے جارہے تھے تو انہیں باہر سڑک پر گاڑی میں شور سنائی دیا اور کسی خاتون کی آواز کانوں میں پڑی کہ ہے کوئی محمد بن قاسم ، ہے کوئی عزتوں کا محافظ ، کرنل صاحب کا خون کھول اٹھا سیدھا یونیورسٹی کے اندر آئے خاتون کو ہجوم سے قتل ہونے سے بچایا اور پھر واپس سہ روزے پر چلے گئے۔ سبحان اللہ۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ گھریلو خواتین کو حراساں کرے ان پر مظالم کرے تو کوئی بات نہیں انکے مردوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں مگر کرنل صاحب کی اہلیہ کو استثنیٰ حاصل ہے اور کرنل صاحب کا غیرت میں آ کر مشتعل ہو جانا عین فطری ہے۔کمال کی لاجک
ہمارے ارتقاتے ہوئے پالنہار پھر چینی ایکسپورٹ کرنے لگے ہیں۔ پچھلی دفعہ کی دہاڑی میں چینی کی قیمت 90 روپے سے 170 روپے کابینہ میں بیٹھ کر طے ہوئی۔
قیمتیں دوبارہ چڑھیں گی، عوام دوبارہ اپنے پیچھے ہاتھ رکھ لیں کیونکہ میاں صاحب گھڑی وغیرہ جیسی معمولی چیزوں میں تو پڑتے ہی نہیں۔
فرض کرتے ہیں یہ بات درست ہے کہ عمران خان نے علیمہ خانم کے خلاف بہت سخت پیغام بھجوایا ہے۔ اب عمران خان کی صرف عظمی اور نورین خانم سے ملاقات ہوئی ہے۔ اب بہنوں نے اس سخت پیغام کو علیمہ خانم تک تو پہنچا دیا ہوگا کہ بھائی غصے میں ہے لیکن کسی صحافی ، کسی سورس ، کسی اندر کی خبر والے کے ساتھ تو ہرگز ہرگز شئیر نہیں کیا ہوگا کیونکہ ایسا کرنے سے بہن کی سبکی ہوتی۔
تو پھر یہ بات اسد اللہ خان تک کیسے پہنچی؟ یاد رہے ہم فرض کررہے ہیں کہ عمران خان نے ایسا کچھ کہا ہے۔ تو پھر یقیننا یہ بات ان مائکس میں ریکارڈ ہوئی ہوگی جو فوج نے عمران خان کے اردگرد بچھا رکھے ہیں۔ تو یعنی یہ بات فوج نے سنی ہوگی اور فوج نے اسد اللہ خان کو دے دی ہوگی۔ ممکن ہے فوج نے یہ خبر ڈائریکٹ صدیق جان کو دی ہو لیکن صدیق جان نے اسد اللہ خان کو دے دی ہو۔یاد رہے کہ ابھی تک ہم مفروضے کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ تو پھر یہ بات تو ثابت ہوئی کہ فوج انہیں یہ خبریں خود پھیلانے کے لیے دیتی ہے۔ اگر فوج نے نہیں دی ، یا کسی درمیانے صحافی کی مدد سے نہیں آئی تو یہ خبر پھر یا تو جھوٹ ہے یا اسد اللہ خان خود اس ملاقات میں موجود تھے۔
کیسا؟
جنہوں نے عمران خان کے ڈر سے آئین بدل دیا، سپریم کورٹ کا سٹرکچر بدل دیا اور اب نئے صوبوں کی صورت میں ملک کا نقشہ بدلنے جا رہے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی سپریم کورٹ سے کیوں ڈریں گے؟
“ ضیاء سے پہلے پاکستان بہت ماڈرن تھا “ یہ آپ کے دماغ میں انڈیلا گیا ہوگا۔ ثبوت؟ کراچی کے دو چار نائٹ کلبز کی تصاویر ، پی آئی اے پر شراب کی دستیابی اور ڈان کا ماضی کا کوئی اشتہار۔ پاکستان کے ماڈرن ہونے کا ایسا کوئی ثبوت کبھی جہانگیرہ ، لالہ موسی ، روہڑی یا چونیاں سے سامنے کیوں نہیں آیا؟ کیونکہ پاکستان کبھی اس سطح کا ماڈرن تھا ہی نہیں۔ ستر کی دہائی میں پاکستان کا لٹریسی ریٹ بیس بائیس فیصد تھا۔ ایک انگریزی اخبار کی سرکولیشن کیا ہی ہوتی ہوگی۔
اسی طرح افغانستان بہت ماڈرن تھا۔ ثبوت ؟ کابل کی کچھ تصاویر۔ ایسی ہی تصاویر کبھی قندھار ، جلال آباد ، مزار شریف کی کیوں نہیں سامنے آئیں ؟ ایران انقلاب سے قبل بہت ماڈرن تھا ؟ ایرانی انقلاب سے قبل بھی ایران صدیوں تک صفیوں اور دیگر شیعہ حکمرانوں کے زیر کنٹرول رہا۔ کور آبادی اہل تشیع ہی تھی۔ جی نہیں، نا پاکستان ماڈرن تھا، نا ہی افغانستان ماڈرن تھا ، نا ہی ایران کبھی ماڈرن تھا۔ کچھ ایلیٹ سوسائٹی ، کچھ اس وقت کے حکمرانوں کا خوشامدی طبقہ اور کچھ وہ ناہنجار حکمران جو بس اپنا ڈنڈا دینا چاہتے تھے ، انکی روشن خیالی یا آزاد خیالی انکے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔
پاکستان کی سوسائٹی کا کور ،کنزرویٹو ہے۔ فیملی سسٹم انٹیکٹ ہے۔ مشرقی روایات کو پسند کرتے ہیں ، اگرچہ منافق ہیں دوسروں کی بہن بیٹیوں کو ٹک ٹاک پر کروڑوں ویوز دیتے ہیں لیکن اپنی بہن بیٹیوں کے لیے پیمانے الگ ہیں۔ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل پر تالیاں پیٹتے ہیں۔ یہ آج بھی ایسا ہی ہے۔تھوڑے بہت فرق کیساتھ آج سے دس بیس برس پہلے بھی یہی تھا اور تھوڑے سے زیادہ فرق کے ساتھ پچاس برس پہلے بھی یہی تھا۔
عمران خان کی حکومت تھی۔ ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہوگئی۔ مل مالکان نے ایکسپورٹ کرکے پنجاب حکومت سے سبسڈی لے لی۔ بات نکلی ۔ بیشتر مل مالکان تحریک انصاف میں تھے۔ ملک کی ایک چوتھائی چینی جہانگیر ترین کی ملز پیدا کرتی ہیں۔ عمران خان نے تحقیقات شروع کروا دیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان کے معاملات بگڑ گئے۔ ( کچھ لوگوں نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترین کی بیٹیوں پر بلاوجہ مقدمات درج کروا دیے )۔ موقع آنے پر جہانگیر ترین نے فوج کی مدد سے فارورڈ بلاک بنا کر عمران خان کو کاری ضرب پہنچائی۔ عمران خان کی حکومت جاتی رہی۔
چوروں اور لٹیروں کی فوجی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے۔ چینی ایکسپورٹ ہوئی۔ اس پر مل مالکان نے سبسڈی لی۔ اب چینی امپورٹ ہوگی۔ کک بیکس کھائے جائیں گے۔ نا تحقیقات ہوں گی نا کوئی شور مچائے گا۔
عمران خان کی حکومت تھی ، شاہزیب خانزادہ نے اوپر تلے دو درجن پروگرام کردیے کہ عمران خان نے ایل این جی کے ایڈوانس معاہدے کیوں نہ کیے۔ ( ڈالر نہیں تھے اس لیے نہیں کیے )۔ گندم سکینڈل آیا ، چینی سکینڈل آیا ، جعلی حکومتیں بنیں ، عاصم منیر کی بیٹیوں کے ناجائز پاسپورٹس سامنے آئے شاہزیب خانزادہ کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔
ایماندار اور بے ایمان کا فرق ہے۔
چھوٹے صوبے بنانے کیلیے سب کی بڑی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اس سے گورننس بہتر ہو جاے گی۔ کیا کشمیر، جی بی اور بلوچستان کی گورننس پنجاب سے بہتر ہے؟ ہر گز نہیں۔
خرابی کی سب سے بڑی وجہ صرف اور صرف کرپٹ سول اور عسکری اشرافیہ ہے بس اسکا بندوبست کر لیں تو بہتری کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔
برصغیر میں تعینات ایک برطانوی افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمان خاص طور پر پنجابی مسلمان ہر چیز کو “ اللہ کی مرضی “ یعنی قسمت پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ چیز انہیں زندگی کی لڑائی کے لیے ناکارہ کردیتی ہے۔