مخدوم جاوید ہاشمی کی کھری کھری باتیں
* عمران خان ایک لیڈر ہیں، ان کی اپنی حیثیت ہے۔
* عمران خان کو جو جیل سے منتقل کیا جا رہا ہے، لوگ یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے محنت کی، تو میں کہوں گا کہ میں نے آواز اٹھائی۔
* عمران خان کی صحت کو اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
* اگر وہ عمران خان کو الشفاء انٹرنیشنل لا رہے ہیں تو وہ اپنی شرائط پر لا رہے ہیں۔
* یہ صرف پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو دھمکانے کے لیے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
* فیلڈ مارشل کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے، ان کی جان پر بن گئی ہے۔
* اگر عمران خان باہر آ جائے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ یہ تو یہیں فیلڈ مارشل کے قدموں میں گر جائیں گے۔
* زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں، خوشی بس اتنی ہے کہ عمران خان کا علاج ہو جائے گا۔
* یہ صرف اپنا اقتدار بچا رہے ہیں، جسے بچانے کے لیے یہ کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔
* بنگلادیش کے وزیرِ اعظم نے فوج پر پابندی لگا دی ہے۔
* فوج کے اثاثے نیشنلائز کر دیے ہیں، ان کے دفاتر سویلینز نے سنبھال لیے ہیں۔
* فوج کو انہوں نے بارڈرز پر بھیج دیا ہے اور کہا ہے کہ تمہارا یہ کام ہے۔
* یہ ہوتی ہیں حکومتیں، یہ ہے قوم جو سو دو سو سال سے آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔
* کیا ہماری قوم فوج کو کہہ سکتی ہے کہ تم بارڈر پر جاؤ: میں نے تو چالیس سال پہلے ضیاء الحق کہا تھا۔
* میں تو مسلسل کہہ رہا ہوں لیکن بارڈروں پر یہ اس وقت جائیں گے جب یہ قوم انہیں بھیجے گی۔
* اب سہیل آفریدی، گوہر صاحب یا کوئی اور بھی یہ خوش نہ ہو کہ ان کی محنت رنگ لے آئی؛ یہ صرف ایک چال ہے۔
* اگر عمران خان کو اس حقیقت کا پتہ چل جائے تو وہ ہسپتال آنے کے بجائے جیل میں مرنا پسند کریں گے۔
* یہ اقتدار کے پجاری ہیں ،ایک ایک جرنیل کی کھربوں کی کرپشن سامنے ہیں ، یہ اقتدار کے لئے پاکستان کی ہڈیاں تک پیس کر کھا جائیں گے۔
تُعلن #وزارة_الدفاع عن وصول قوة عسكرية من جمهورية باكستان الإسلامية إلى قاعدة الملك عبدالعزيز الجوية بالقطاع الشرقي ضمن اتفاقية الدفاع الإستراتيجي المشترك الموقعة بين البلدين الشقيقين.
وتتكون القوة الباكستانية من طائرات مقاتلة ومساندة تابعة للقوات الجوية الباكستانية، بهدف تعزيز التنسيق العسكري المشترك، ورفع مستوى الجاهزية العملياتية بين القوات المسلحة في البلدين، وبما يدعم الأمن والاستقرار على المستويين الإقليمي والدولي.
At the UN, @Kasim_Khan_1999 warned of growing intolerance and systematic persecution in Pakistan, citing the prolonged detention of @ImranKhanPTI in harsh conditions. He called on the international community to act and press for the release of all political prisoners. #ImranKhanUnlawfullyDetained
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
علی وزیر اس وقت سکھر جیل میں جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں تنہا نظر بند رکھا گیا ہے لیکن اس تنہائی میں بھی سکون میسر نہیں اور بارک سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر دیگر قیدیوں سے ملنے پر بھی پابندی عائد ہے، جو قیدیوں کے بنیادی جیل حقوق کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔
مزید سنگین بات یہ بتائی جا رہی ہے کہ انہیں ایک ذہنی معذور قیدی کے ساتھ ایک ہی بارک میں رکھا گیا ہے، جو مسلسل شور شرابہ کرتا رہتا ہے اور جسے مناسب طبی یا ذہنی نگہداشت میسر نہیں۔ رات کے پچھلے پہر جب جیل کی راہداریوں میں سناٹا اترتا ہے، اسی وقت وہ شور اور بے ترتیب چیخیں فضا کو چیر دیتی ہیں۔ علی وزیر کے لیے نیند ایک خواب بن چکی ہے۔ مسلسل بے خوابی اور ذہنی دباؤ نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان پر دوسرے قیدیوں سے ملنے پر پابندی ہے، بارک سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں، اور نہ ہی کھلی فضا میں چند لمحے گزارنے کی سہولت.
جیل انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ تاہم ان کے وکیل کے مطابق اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا ہے۔
عدنان بیٹنی
حق نواز جھنگوی نے بھونکا تھا
'اگر اسرائیل یا امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا تو میری قبر پر آ کر پیشاب کر دینا”
کیا کسی دیوبندی نے اس کتے کی وصیت پر عمل کیا ہے؟
اس دی شکل اپنی نسلاں نو دکھانا کہ ایہہ اس حرامی فوج دا آخری بادشاہ سی،
اس تو بعد انشاللہ اک ریاستی چوکیدار آئے گا یا ریاست رہے گی۔
حرامی فوج نو بیرکاں وچ چوکیدار دی جگہ تے لیانا تاریخ ہوئے گی۔
عمران خان نے واضع کیا تھا کہ انہوں مصر کے مورسی کی طرح عمران خان کو قتل کرنے کا پلان بنالیا ہے یہ انکشاف انہوں نے ڈیڑھ سال پہلے کیا تھا جسکا مطلب ہے کہ اگر سلو پوائزننگ کی گئی ہے تو اتنا وقت لگ جاتا ہے تاکہ ثبوت بھی نہ ملے اور کام بھی ہوجائے!
The last 3 months I’ve been raising funds in USA for Imran Khan’s Shaukat Khanum Cancer Hospital.
I’m deeply saddened to hear the news of him losing vision in his eye. I hope he gets the best treatment and I’m wishing him a speedy recovery.
جرنیلا !!!!!!!
اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو تمہارا ذکر یہاں کی تاریخ کی کتابوں سے بھی مٹا دیا جائے گا۔ تمہاری عمارتیں ، تمہارے ڈی ایچ اے ، تمہارے گالف کلب ، تمہارے کارنر پلاٹ تے شے ای کوئی نہیں۔
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔