پریس کلب کوئٹہ: امیرِ جمعیت علمائے اسلام صوبہ بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع صاحب، آل پارٹیز کے رہنماؤں کے ہمراہ بلوچستان کی موجودہ مخدوش صورتحال اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
محسن نقوی جیسے رپورٹر ، شہباز شریف جیسے غبی ، عمران خان جیسے کرکٹر لوفر وغیرہ اگر اسٹبلشمنٹ میں اتنی جگہ بنا لیتے ہیں کہ وزارت اعظمی تک پہنچ جاتے ہیں یا اس کے قریب قریب ، تو مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک سیاستدان کیلئے کیا مشکل ہے جو اعلیٰ صدارتی عہدہ نہ لے لیں —- بس مسئلہ اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ اپنا ایک معیار رکھتے ہیں اپنی ایک حد مقرر کرتے ہیں اپنی اقدار و روایات رکھتے ہیں —- وہ کسی بھی مفاد کے لئے اپنی روایات اقدار اور معیار سے خود کو نہیں گراتے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں تک کم ظرف پہنچ جاتے ہیں لیکن اعلیٰ نسل اور صفات کے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں — !
مولانا فضل الرحمن نام ہے “معیار” کا اور اسی وجہ سے ہمیں ان سے محبت ہے !
(مرشد)✍🏻 @Murshid_222
بلوچستان کی پوری حکومت وزیراعلی سمیت،پوری اسمبلی،ریاستی ادارے، خضدار کی ایک معصوم لڑکی اسماء جتک کو تحفظ نہیں دے سکتے؟ ان کی والد کو شہید کیا گیا۔یہ سرکارہے یا جھوٹوں کی ایک منڈی ہیں؟
صرف دعوے ، وعدے، نعرے ، عملی کار کردگی کچھ نہیں۔
آج سے سال ڈیڑھ سال پہلے کے مولانا فضل الرحمن صاحب کے الفاظ۔
فرق صرف اتنا ھے کہ محسن نقوی 1973 کے آئینی پارلیمانی نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے ھیں جبکہ مولانا فضل الرحمن صاحب اس ھائبرڈ نظام کے کولیپس ھونے کی بات کررھے جس کے محسن نقوی وکیل ھیں
جمعیت علمائے اسلام کو شہداء کی آڑ میں نشانہ بنانے والے آج یہ بھی بتائیں کہ شانگلہ کے غریب محنت کش، جو حادثے میں شہید ہوئے، باقی سہولیات تو ایک طرف، انہیں بروقت سرکاری ایمبولینس تک کیوں فراہم نہ کی گئی؟ اس افسوسناک غفلت پر ان کی خاموشی کیوں ہے؟ کیا ان کے نزدیک عام عوام شہداء کی فہرست میں شامل نہیں ہوتے؟
افسوس! 💔 ایسی ایک نہیں، بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔....👇👇👇
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
جی ابابیلو!
ان دنوں یقیناً ایکس پر کچھ مزہ نہیں آ رہا ہوگا، ایک جیسی صورتحال ہے ، کیونکہ ہم تحریکی لوگ ہیں اور قیادت سے ملنے والی دلیل کی طاقت ہی ہمارا اصل زیور ہے۔
فی الحال جب غلاظت کے منہ بند ہیں تو کیوں نہ اس فرصت کو غنیمت جان کر اپنی صفوں کو مضبوط اور مربوط کریں؟
جیسے فیس بک پر ہم ایک مضبوط کمیونٹی بن چکے ہیں، ویسے ہی ایکس پر بھی ایک دوسرے سے جڑیں۔ روزانہ باقاعدگی سے سرگرم رہیں، جماعتی سرگرمیوں، قیادت کے مؤقف اور ا��نی مثبت آواز کو بھرپور انداز میں آگے بڑھائیں۔
فالو اور فالو بیک دن میں 4،5 مرتبہ وقفے سے ضرور کریں۔ حد پوری ہوجائے تو کچھ دیر وقفہ، پھر دوبارہ سلسلہ جاری۔ ساتھ ہی ایک دوسرے کی مفید پوسٹس پر حقیقی لائک، ری پوسٹ اور ریپلائی بھی باقاعدگی سے کریں ۔
یاد رکھیں! فالوورز ایک دن میں ہزاروں نہیں بڑھیں گے، مگر تسلسل، نظم اور باہمی تعاون سے آہستہ آہستہ سب کے فالوورز ہزاروں میں پہنچ سکتے ہیں۔
میری دیرینہ خواہش ہے کہ ہر ابابیل کی آواز ہزاروں لوگوں تک پہنچے۔ اسی مقصد کے لیے فالوورز مہم شروع کرنے کا ارادہ ہے، لیکن کامیابی تب ہی ہوگی جب آپ سب بات مانیں گے اور عملی تعاون کریں گ��۔
احباب مشورہ بھی دیں۔
ایسا کون سا آسان، منظم اور مؤثر طریقہ اپنایا جائے جس سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ساتھیوں کے فالوورز بڑھ سکیں؟
آئیں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں، اپنی آواز کو مضبوط کریں اور ایکس پر بھی اپنی صفوں کو منظم و مربوط کریں۔
(نوٹ پوسٹ پوری پڑھیں اور سب تک پہنچائیں )
سب سے پہلے ان تمام اکاونٹس کو فالو کریں ۔
@MoulanaOfficial
@juipakofficial
@ziaurrehman76
@SoomroOfficial
ھم نے روز اول سے امریکی پشت پناھی میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور فلسطین سے آگے عرب دنیا اور ایران تک اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور اور غیر مبہم مخالفت کی ھے لیکن خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب پر حملوں کے نتیجے میں ایران کے بارے میں پیدا ھونے والا توسیع پسندانہ عزائم کا تاثر بھی مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کے لیے ناقابل قبول ھے اور ایران کو اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاھئیں کیونکہ پاکستان کی نظر میں یہ حملے غیر ضروری کشیدگی بڑھانے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن رھے ھیں۔
سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست وگریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ھے ھم بار بار اس کی نشاندھی کررھے ھیں کہ اسلامی م��الک کو آپس میں تحمل اور برداشت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف یکجہتی کا مظاھرہ کرنا ھوگا اور اپنی آزادی وحریت اور خودممختاری کے اعلی ترین قومی اور ملی مقاصد کے حصول کے لیے ایک اسلامی بلاک کی تشکیل کی طرف جانا ھوگا جہاں اسلامئ دنیا سیاسی اقتصادی اور معاشی میدانوں میں ایک دوسرے کا سہارا بن سکے۔
ھم ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ھوئے ان میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ھوئے سعودی قیادت وحکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتے ھیں
امریکی حملے کا ٹل جانا حالات کی عارضی بہتری خوش آئند ہے،پاکستان سمیت چار برادر اسلامی ممالک خطہ میں پائیدار اور مستقل امن کے قیام کیلئے اس دورانیہ کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اسلامی برادری کا اس بات پر متفق ہونا ضروری ہے کہ اسرائیل کا وجود اب عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ عرب اور خلیجی ممالک فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کی صورت میں ہی اپنے ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کرسکتے ہیں۔