صدر مسلم لیگ (ن) شہبازشریف نے دعوت دی ہے کہ آئیں اپنی اکثریت ثابت کریں اور شوق سے حکومت بنائیں۔ جہاں سے جیتے وہاں دھاندلی نہیں اور ��ہاں ہارے وہاں دھاندلی کا شور مچا دیا۔
~ صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثناءاللّٰہ خاں
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) ونامزد وزیراعظم شہباز شریف واضح طور پر کہہ چکے ہیں آزاد امیدوار اپنی عددی اکثریت سامنے لائیں، حکومت بنائیں اور چلائیں اس نظام کو، ہم اپوزیشن میں بیٹھنے کے لئے تیار ہیں۔
منصوبہ بندی کے زریعے جعلی فارم 45 میڈیا کو جاری کیئے گئے، اور میڈیا نے آلہ کار بنتے ہوئے [190M£ + ٹی-آر-پی کے لیے] وہ رزلٹ اپنی سکرینوں پر چلائے، اور قوم کو جھوٹ پیچا گیا۔
یہ پورا معاملہ ہے اگر کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تو۔۔۔
فتنہ گروپ کے رکن رؤف حسن فرما رہے ہیں سیٹوں سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے، ٹھیکیداروں پریس کانفرنس کس لیے کرنے آئے ہو؟ یہ جھوٹ تو پہلے سے ہی بولتے آ رہے ہیں، قوم کو بیوقوف بنانے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔
کسی کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی، ’مولانا فضل الرحمٰن نے تو قمر باجوہ سے کہا تھا عدم اعتماد سے کیوں منع کررہے ہیں، مولانا نے کہا تھا کہ ”جنرل صاحب آپ ہمیں دستبردار کرنے کیلئے کیسے کہہ سکتے ہیں؟“ مولانا نے حقائق کے برعکس اور بر خلاف بات کی، مولانا ایک میٹنگ ثابت کردیں، کس کے ساتھ وہ میٹنگ ہوئی، کس کو کہا گیا؟ کیا مولانا کے ساتھ ہوئی؟ وہ ثابت کردیں۔ جو میٹنگ تمام سربراہوں کی تھی اس میں جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد نہ لائیں اور مولانا نے اسٹینڈ لیا تھا، جنرل فیض تو اس وقت کور کمانڈر تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن تحریک عدم اعتماد کی
تاخیر پر ناراض تھے۔
جنرل باجوہ 26 مارچ کو بانی پی ٹی آئی کا پیغام لائے کہ عدم اعتماد آئی تو ملک میں بحران پیدا ہوسکتا ہے تو نہ لائیں۔
مولانا اور ان کے بیٹے کا مؤقف انتہائی سخت تھا کہ ان لوگوں سے بات نہیں کرنی، مولانا فضل الرحمان کے بیٹے وفاقی کابینہ کا حصہ تھے۔
سینیئر رہنماء پاکستان مسلم لیگ (ن) ملک محمد احمد خان
@PresPMLNPunjab ماشاء اللہ بہت ہی بہتر ہو گیا ھے
اب مسلم لیگ ن پنجاب میں سادہ اکثریت حاصل کرچکی ھے اور ان شاءاللہ بہت مضبوط اور مستحکم حکومت بنا سکتی ھے ✌
@NawazSharifMNS@MaryamNSharif
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی ایک اور پنجاب اسمبلی کی مزید 6 نشستیں مل گئیں
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔
پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے کامیاب عامر عنایت شاہانی اور پی پی 272 مظفر گڑھ سے جیتنے والے رانا عبدالمنان کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان
پی پی 205 خانیوال سے اکبر حیات ہراج اور پی پی 212 خانیوال سے اصغر حیات ہراج کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئیر نائب صدر اور نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد ارکان اسمبلی کی ملاقات
رشید اکبر نوانی، احمد نواز نوانی، عامر عنایت شاہانی، رانا عبدالمنان، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج کا قائد محمد ��واز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار
مریم نواز شریف کا آزاد ارکان کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیرمقدم اور فیصلے پر مبارکباد
قائد محمد نواز شریف، شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پاکستان، عوام اور پنجاب کے لئے خدمات تاریخی ہیں، آزاد ارکان اسمبلی کی گفتگو
پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت اور قابل عمل ایجنڈا صرف مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے، آزاد ارکان اسمبلی کی گفتگو
اپنے حلقے کے عوام اور سپورٹرز کی مشاورت سے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، آزاد ارکان اسمبلی کی گفتگو
آپ کے جذبے اور قومی سوچ کی قدر کرتے ہیں، مریم نواز شریف کی آزاد ارکان اسمبلی سے گفتگو
آپ نے تعمیر پاکستان کے قافلے میں شمولیت اختیار کی، مریم نواز شریف
آپ کی حمایت پاکستان اور عوام کو مشکلات سے نکالنے میں بڑی مددگار ہوگی، مریم نواز شریف
ہمارے لئے اقتدار نہیں، ملک اور عوام کی خدمت اہم ہے، مریم نواز شریف
نواز شریف پاکستان کو انتشار سے بچانے اور متحد کرنے والی قوت کا نام ہے، مریم نواز شریف
نواز شریف آج بھی پاکستان جبکہ مخالفین اپنی ذات کی بات کر رہے ہیں، مریم نواز شریف
پاکستان کو انتشار نہیں، استحکام چاہیے، مریم نواز شریف
انتشار پھیلانے والے آج بھی انتشار ہی پھیلا رہے ہیں کیونکہ ان کا ایجنڈا ہی انتشار ہے، مریم نواز شریف
انتشار کا نشانہ پاکستان ہے، ادارے ہیں، مریم نواز شریف
پنجاب کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا، ان کی خدمت کا حق ادا کریں گے، ان شاءاللہ، مریم نواز شریف
پنجاب کو ترقی کی مثال بنائیں گے، ان شاءاللہ، مریم نواز شریف
پاکستان کو بچانے کے لئے ایک لاکھ بار بھی سیاسی مفاد قربان کرنا پڑا تو کریں گے، وطن پر جان بھی قربان ہے، مریم نواز شریف
نوازشریف کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے نہیں رہے، انکو تین بار اقتدار سے نکالا گیا،
اگر نوازشریف اسٹبلشمنٹ کے لاڈلے ہوتے تو جسطرح 2018 میں عمران خان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اقتدار بنا کر دیا گیا، حکومت بنانے کے لئے ایک تعداد مہیا کی گئی تو اب اگر نواز شریف لاڈلے ہوتے
ایک اعتراض یہ کیا جا رہا کہ مولانا کی پارٹی نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی اس کا جواب بھی حاضر ہے
یہ مفتی محمود ہیں مولانا کے والد اور انکا یہ انٹرویو پی ٹی وی پر چلا میں پہلے بھی ٹویٹ چکا اس کو جو صحافی لے رہے ان میں ایک انور خلیل صاحب ابصار عالم کے سسر ہیں
مفتی محمود صاحب آزادی کئ جدوجہد کا حصہ تھے انگریز کی جیل کاٹی ان کی جماعت کا ایک پلان ت��ا وہ مسلمانوں کی تقسیم نہی چاہتے تھے آپ انکی زبانی سن لیجئے کہ پلان کیا تھا اور پھر جب پاکستان بن گیا تو ان کا فیصلہ کیا تھا
پاکستان میں مسلۂ یہ نا کوئی تحقیق کرتا نا پڑھنے کی کوشش کرتا ہے