The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
پاکستان میں بھی اگر مویشیوں کے چارے کے لئے یہ امریکی ہائیڈروپونک بارلے ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو کیا انقلاب نہیں آجائے گا؟
خصوصاً قربانی کے جانوروں کو صحت مند بنانے کے لئے؟
Digital twins are a model or blueprint that simulates a physical-world object or system. They aim to be a virtual replica of the dynamics of the real-world entity
https://t.co/Lr37zh2LDD
Digital twins are a model or blueprint that simulates a physical-world object or system. They aim to be a virtual replica of the dynamics of the real-world entity
https://t.co/Lr37zh2LDD
“They banned the bat, the symbol of the PTI, then they banned the batsman.
The American ambassador needs to visit Imran Khan in prison and make sure that he lives to tell the tale of how he was wrongfully imprisoned through selective prosecution.”
- Congressman Brad Sherman @BradSherman addressing Assistant Secretary of State Donald Lu during the #CongressionalHearing on State of Democracy in Pakistan.
#PakistanUnderFascism
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
اک لحظہ بہے آنسو اک لحظہ ہنسی آئی
سیکھے ہیں نئے دل نے انداز شکیبائی
یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تری آئی
اس عالم ویراں میں کیا انجمن آرائی
دو روز کی محفل ہے اک عمر کی تنہائی
اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی
ہر دردِ محبت سے الجھا ہے غمِ ہستی
کیاکیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی
چرکے وہ دیے دل کو محرومئ قسمت نے
اب ہجر بھی تنہائی اور وصل بھی تنہائی
جلووں کے تمنائی جلووں کو ترستے ہیں
تسکین کو روئیں گےجلووں کے تمنائی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے مھبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
دنیا ہی فقط میری حالت پہ نہیں چونکی
کچھ تیری بھی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی
اوروں کی محبت کے دہرائے ہیں افسانے
بات اپنی محبت کی ہونٹوں پہ نہیں آئی
افسونِ تمنا سے بیدار ہوئی آخر
کچھ حسن میں بے باک کچھ عشق میں زیبائی
وہ مست نگاہیں ہیں یا وجد میں رقصاں ہے
تسنیم کی لہروں میں فردوس کی رعنائی
آنکھوں نے سمیٹے ہیں نظروں میں ترے جلوے
پھر بھی دلِ مضطر نے تسکین نہیں پائی
سمٹی ہوئی آہوں میں جو آگ سلگتی تھی
بہتے ہوئے اشکوں نے وہ آگ بھی بھڑکائی
یہ بزمِ محبت ہے اس بزمِ محبت میں
دیوانے بھی شیدائی فرزانے بھی شیدائی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تری یادیں
جس سمت نظر اٹھی آواز تری آئی
اک ناز بھرے دل میں یہ عشق کا ہنگامہ
اک گوشہء خلوت میں یہ دشت پنہائی
ان مدھ بھری آنکھوں میں کیا سحر تبسم تھا
نظروں میں محبت کی دنیا ہی سمٹ آئی
صوفی تبسم
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
پروین شاکر
اگر سلیم صافی کے گھر کے ملازم کو اُٹھا کر اس کی بیوی کے شب و روز پر سوالات کیے جائیں تو سلیم صافی کو کیسا محسوس ہوگا ۔۔ ؟؟
کیا سیاہ صحافت کے اس سیاہ کردار کے پاس ان تمام سوالات کا کوئ جواب ہے ۔۔ 👇؟؟
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
خالد ندیم شانی