✍️ Think You’re the Only One Who Can Write for Your Business?
Think Again.
Thinking no one knows your business better than you.
Ok, that’s true…
But what do you say when it comes to copywriting? 🤔
1/5
ریاست نے عمران کو تقریباً منظر سے مٹا دینے کی کوشش کی ہے، جو سوشل میڈیا کے دور میں کرنا مشکل ہے، ہم نے دوسرا خط لکھا، جس میں عمران خان کے لیے مطلوبہ سطح کا طبی علاج فراہم کرنے کی انسانی بنیادوں پر اپیل کی گئی تھی، مائیکل ایتھرٹن (سابق انگلش کپتان)
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
#ImranKhan
سُدھنوتی میں پرامن ، نہتے عوام پر فورسز کی جانب سے ایک بار پھر فائرنگ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ظاہر کر رہی ہے- طاقت کے ذور پر کشمیریوں کو فتح نہیں کیا سکتا- ظُلم و جبر کی یہ داستاں صرف اور صرف نفرت کی دیواریں کھڑی کر رہی ہے - عوام پُرامن ہیں - یہ ریاستی دہشتگردی حالات کو جس طرف لے کر جائے گی شائد حکمران سمجھنے سے قاصر ہیں-
اہلیان سدھنوتی کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں- ہم نے 100 سے ذائد تحریک کے مخلص ساتھیوں کو کھویا ہے اور اب کسی صورت مطالبات پر عمل درآمد کے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے-
مل کر لڑیں گے اور جیتیں گے انشاء اللہ
پمز ہسپتال میں 14 نومولود بچے آتشزدگی میں جاں بحق۔ کوئی مہذب مُلک ہوتا تو وزیراعظم، وزیرِ صحت اور استعفوں کی لائن لگ چُکی ہوتی۔ یہ محظ حادثہ نہیں، بلکہ ہسپتال کے حفاظتی/انتظامی نظام کی سنگین ناکامی ہے۔ حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کی انتہا بھی۔
یہ مختلف چارٹس ہیں، ان میں بجلی کی قیمت سے لے کر ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے تک اور جی ڈی پی کی صورتحال سے لے کر روپے کی قدر گرنے تک تمام معاشی اشاریوں کی ناگفتہ حالت ہےـ
آپ کو صرف zoom کرنا ہوگا اور پھر سوال پوچھیں کہ یہ فارم 47 کے ذریعے جو جعلی نظام کھڑا کیا گیا ہے، اس کا کیا فائدہ ہوا پاکستان کو؟
#TorturingImranKhanIsACrime
🔸 میرے یونیورسٹی کے پُرانے کولیگز بتا رہے ہیں کہ ،
سرحد یونیورسٹی کے 35 سے زیادہ سٹوڈنٹس کو ہاسٹلز سے گرفتار کرکے ان پر تشدد ہو رہا ہے اور ان کے خلاف ایف آئ آرز کروا رہے ۔۔ احتجاج میں شامل لڑکیوں کو بھی یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہے اور ان کے والدین سے رابطہ کرکے دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔
🔸 کیا یونیورسٹی میں کوئ ذمہ دار ایڈمنسٹریشن نہیں ہے جو سٹوڈنٹس کے حقوق کا تحفظ کرے ؟
🔸 سرحد یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لئے آواز اُٹھائیں پلیز
اس شخص کے گھر کی خواتین کی بھی تو عزت ہے۔ انکا کیا قصور ہے؟ کیا یہ بھی بندوق اٹھا لیں؟ یا پھر خاموش رہیں کیونکہ انکی عزت پر حملہ کرنیوالے کوئی اور نہیں سرکاری لوگ تھے۔
میاں محمود الرشید کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی بد ترین تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سوچنا چاہیئے کہ انکا زاتی عناد لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔
دنیا بھر سے عمران خان پر ہونے والے ناحق ظلم کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔
پاکستانیو۔۔ حق بات پر ڈٹے رہو۔ انشاءﷲ، ہم سب مل کر عمران خان کو اللّه کی مدد سے ان کا بنیادی حق ضرور دلوائیں گے۔ بس حق بات کہتے جاؤ۔۔
ڈاکٹر عاصم کی اپیل 🚨
عمران خان کو فوری ریٹینا اسپیشلسٹ کے علاوہ اپنے دیگر طبی مسائل کے مکمل جائزے کے لیے کسی اعلیٰ اسپتال جیسے شفا انٹرنیشنل اسلام آباد، میں فوری اور مکمل طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا فرض سمجھ کر آواز اٹھائیں
فبأي الاء ربکما تکذبان
نوجوانوں کو لاہور میں کورکمانڈر ہاوس جلاتے ہوئے دیکھ لیا ، جی ایچ کیو کے دروازے ہلاتے دیکھ لیا ، فوجی مجسموں کی توڑ پھوڑ دیکھ لی ، اسلام آباد میں کرنل کی پٹائی ہوتی دیکھ لی ، پٹائی کو قومی جشن میں تبدیل ہوتے دیکھ لیا ، آئی ایس پی آر کے بند کمنٹس دیکھ لیے ، قابض جرنیلوں کے لیے ابلتی نفرت دیکھ لی آکھو سبحان اللہ۔ جو رہ گیا وہ بھی دیکھ لیں گے۔ ہم بھی دیکھ لیں گے جرنیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہم دیکھیں گے۔ ہم دیکھیں گے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
پاکستان تحریک انصاف کے اولین اور مخلص ساتھیوں میں شمار ہونے والے چاچا شاہ عالم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
چاچا شاہ عالم اُن خوش نصیب کارکنوں میں بھی شامل تھے جن کے بارے میں چیئرمین عمران خان نے جیل سے ہدایت دیتے ہوئے کہا:
”شاہ عالم کو جیل سے جلدی نکالو۔“
9 مئی کے مقدمات میں نامزد کیے جانے کے بعد چاچا شاہ عالم کو تقریباً ایک سال تک سرگودھا جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید رکھا گیا۔ اس طویل آزمائش کے دوران بھی ان کی ترجیحات اور وفاداری میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ وہ اپنے وکلاء سے اپنے مقدمے کے بارے میں زیادہ سوال تک نہیں کرتے تھے۔ ان کے لبوں پر اگر کوئی سوال ہوتا تو وہ صرف یہی ہوتا۔
”خان صاحب خیریت سے ہیں؟“
قوم ایسے مخلص اور ثابت قدم کارکنوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
#TorturingImranKhanIsACrime
#May9th_FalseFlag
کل جب ہمیں پل پر کھڑا ہونے دیا نعرے لگانے دیے تو مجھے شک ہورہا تھا کے کہیں کچھ غلط ہورہا ھے کیونکہ تین سال سے ہم یہ فسطائیت برداشت کررہے ھے تحریک انصاف والوں کی اتنی اوقات کہاں کے وہ ازادی سے کھڑے ہوکر نعرہ بازی کرسکے اور میری چھٹی حس صحیح کہ رہی تھی کے یہ سب ڈرامے وہ ہمارے ساتھ کررہے تھے اب عوام دیکھ لے اپنی اوقات کے ان کے نزدیک اس عوام کی کیا اوقات ھے
تم کھرچ کھرچ کر مٹاتے رہے۔ ہم سینت سینت کر رکھتے رہے۔ تم کوڑے دان میں پھینکنا چاہتے تھے۔ ہم نےسینوں سے لگا لیا۔ پھر تمہاری وحشت بھری آنکھیں ہار گئیں۔ ہمارے لرزتے کانپتے ہاتھ جیت گئے۔ تمہاری طاقت کے زعم نے شکست کھائی ہے۔ ہماری استقامت رنگ لائی ہے۔ تم جیت نہیں سکتے تھے۔ ہم ہار نہیں سکتے تھے۔