مریم نواز کا عطا تارڑ اور طلال چوہدری سمیت تمام ترجمانوں کو ٹاک شوز میں فیصل واوڈا کی تلخ باتوں کا جواب نہ دینے کا حکم؟
مخالفین کو گالم گلوچ کرنے پر ہر ترجمانوں کو سراہنے والی مریم نواز نے پوری پارٹی کو فیصل واوڈا کے سامنے سرنڈر کا حکم دے دیا؟؟
کیوں بھائی؟ کیا ہوا؟واوڈا صاحب کو کیوں جواب نہیں دینا؟؟
Khan’s wife has applied for his relief to be shifted and upgraded from his current prison / cell
She has listed three reasons: he was the captain of cricket team; he went to Oxford; he was PM
If this is how one of Pakistan’s highest achievers has to plea for mercy, imagine the fate of an ordinary man…
اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس عامر فاروق عمران خان کے ساتھ جاری ظلم کے خلاف کیس سنے بغیر ہی پچھلے ہفتے کی طرح دوبارہ چھٹی پر چلے گئے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس جانا ہو جو بیٹھتا ہی جج صاحب کے دفتری اوقات میں ہو۔
قانون کی نظر میں یہ بہت چھوٹے مسائل ہیں کہ عمران خان کو گندی C کلاس جیل میں رکھا گیا ہے، محفوظ اور معیاری کھانا گھر سے نہیں جا پا رہا، وغیرہ۔
کل آ�� لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ جو پولیس عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں فیصلہ آنے پر پانچ منٹ میں لاہور گرفتاری کرنے زمان پارک پہنچ گئی،
وہ کل جڑانوالہ میں دنگا فساد کرنے والوں کو کیوں نہ پکڑ سکی۔
پولیس کی اپنی ترجیحات ہیں۔ جج صاحب کی اپنی۔
اب بندہ اپنا علاج بھی نہ کرواۓ؟ کمال کرتے ہیں آپ لوگ بھی۔🤧
جج عامر فاروق صاحب واقعی کمپروماہزڈ جج ہیں ورنہ اس طرح غاہب ہونے کی کوی وجہ نہیں، یہ کیا ایک ہی جج ہے پورے پاکستان میں جو روزانہ سماعت کی خواہش کرتا تھا اب کدھر گیا۔
عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی ، گھر کا کھانا فراہمی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق کی عدم موجودگی کی وجہ سے آج سماعت نہیں ہو سکے گی عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر رکھا تھا ۔۔۔ عدالتی حکم عدولی پر اٹک انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت درخواست پر بھی سماعت نہیں ہو سکے گی
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق ایک بار پھر چھٹی پر چلے گئے،
عمران خان کی اڈیالہ منتقلی ،گھر کے کھانے کی فراہمی اور جیل میں سہولیات دینے کی درخ��است پر سماعت نہیں ہو سکے گی،
گزشتہ ہفتے بھی جمعرات کو عمران خان کا ٹرائل کورٹ میں حق دفاع ختم کرنے پر اپیل کی سماعت تھی لیکن عامر فاروق صاحب بیمار ہو کر ڈاکٹر کے پاس چلے گئے تھے اور سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گئی تھی،آج بھی شاید ان کی طبیعت خراب ہو،
اللہ کریم چیف صاحب کو شفائے کاملہ عطا فرمائے🤲
تم جسے ہرانے کے لیے گرے جارہے ہو، وہ تو کب کا جیت چکا ہے۔ یہ لڑائ تو شروع ہی اس کی جیت سے ہوئ تھی۔ جب تم نے جان لیا تھا کہ تم اسے ہرا نہیں سکتے تب ہی تو تمہاری بغلوں میں چھپے خنجروں پر تمہاری انگلیوں کے نشان چمکے تھے۔ کل تک جنہیں تم پیٹھوں میں گھونپتے تھے اس نے تمہیں مجبور کیا کہ وہ تم اس کے سینے پر رکھو اور وہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ گواہی دے کہ لا الہ الا للہ۔۔ نہیں ہے کوئ معبود اللہ کے سوا!
اس کی نظروں کی بے خوفی ہی نے تو تمہیں نظروں سے گرا دیا ہے۔ آج اس کا زندان بھی روشن ہے، اور تمہارے محلوں پر بھی آسیب کا سایہ ہے۔ اب تم بین ڈال ڈال کے اپنی مظلمویت کا پرچار کرو یا اپنے ہی جگر گوشوں کے کلیجے چباؤ۔ جیت تو وہ گیا ہے تم تو خجالت میں صرف اپنے نقاب نوچ رہے ہو۔
I’m honoured to have been offered the post of the interim Information Minister of Pakistan.
However, due to my natural intolerance for illegal authority, raging mediocrity, endemic corruption, prevalent nepotism, pageant freeloading and pathological lying that is rampant among many of my fellow cabinet members, I humbly decline.
I’d rather jump off a cliff. Or drive an Uber. Or even report from a bathtub.
Sincerely,
WSK
Pakistan Zindabad
Pak Fauj Paindabad
After long flights and hours of transit before reaching Sri Lanka, I got the shock of my life when I watched PCB’s short clip on the history of Pakistan cricket minus the great Imran Khan… political differences apart but Imran Khan is an icon of world cricket and developed Pakistan into a strong unit in his time and gave us a pathway… PCB should delete the video and apologise.
جو شخص تین اتنے بڑے ہسپتال بناسکتا ہے وہ دس پرائیوٹ جہاز بھی خرید سکتا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ جہاز خریدنے والا اپنا اور اپنے بچوں کا سوچتا ہے اور میں میں کرتا ہے۔ یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے والا دوسروں اور ُان کے بچوں کا سوچتا ہے۔
سائفر کہاں گم گیا : کمال ہے عمران خان نے سائفر قومی اسمبلی کو بھیجا پھر سپیکر نے سپریم کورٹ کے چیف کو بھیجا اور اصلی کاپی تو وزارت خارجہ میں ہی پڑی ہے - پھر یہ بیوقوف حکومت کے لوگ پرچہ کاٹ رہے ہیں کہ سائفر کہاں گیا اورعمران خان کو دوبارہ گرفتار کریں گے - انکی عقل پر پردہ پر گیا ہے یا پریشانی میں دماغ پاگل ہو گیا ہے - بھائی جان کیس کرنا ہے تو چیف جسٹس پر کرو آخری خبریں آنے تک سائفر وہیں موجود تھا !!!
ماشاءاللّه۔ PCB کا سوشل میڈیا جو کوئ بھی چلا رہا ہے، اس کی عقل پر اجتماعی فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔
پہلے جو ویڈیو بنائی، اس میں عمران خان کو 1992 کے ورلڈ کپ کی جھلکیوں سے کاٹ دیا
پر زور عوامی احتجاج اور عالمی میڈیا سے عزت افزائی کے بعد عمران خان کو شامل کر کے نئی ویڈیو لگائی لیکن وسیم اکرم کو اس نئی ویڈیو میں جان بوجھ کر کاٹ دیا۔
کیوں؟ کیونکہ وسیم اکرم نے پہلی ویڈیو میں عمران خان کو Minus کرنے پر بھرپور احتجاج کیا تھا۔
ایسے professional اداروں میں ناکارہ سیاسی بھرتیوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔ پورے ملک کا بیڑا غرق اسی طرح ہوا ہے۔
Bold & Defiant Prisoner No. 804 meets Wife Bushra while lawyers were not allowed; she describes him in small dingy dirty cell with an open toilette & a bucket of water to flush. What is the goal behind this humiliation for country's ex-PM, who happens to the most popular leader of Pakistan? And important leader of the Muslim world? Is there a bigger arrogance of power in the history of modern world? https://t.co/ggyzDI7jap
گذشتہ سال جون میں حکومتی اداروں سے بارہا گزارش کی کہ ہمیں خدشہ ہے کہ ملک ایک مرتبہ پھر بدامنی کی طرف جارہا ہے، جنازوں کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت اقدامات کیے جائیں۔
اگست ۲۰۲۲، دہشتگرد مالاکنڈ ڈیویژن میں پر پھیلانے لگے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ فوج سے بھی اپیل کی کہ اس معاملہ پر کوئ پالیسی وضع کی جائے علاقے کے عوام حالات سے متعلق تشویش میں مبتلا ہیں۔ جواباً مجھے قتل کی دھمکیاں ملیں۔ وزیر داخلہ نے میرے خدشات کو پراپگینڈہ قرار دیا اور ادارے کی جانب سے میرے خلاف مہم چلائ گئی۔
میری قوم نے البتہ میرا ساتھ دیا اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم نے دہشتگردی کو عوامی طاقت سے شکست دی اور انہیں سرحد پار لوٹنا پڑا۔
انہی دنوں، یعنی آگست ۲۰۲۲ میرے گھر پر اسلحہ بردار موٹر سائیکل سوار بجھوائے گئے میں چونکہ اس سے کچھ دیر پ��لے شہباز گل کو دیکھنے ہسپتال چلا گیا تھا وہ گھر کی دیوار کے ساتھ ہی میرا انتظار کرتے رہے لیکن میرے دوست کی اپنے گارڈز ��ے ساتھ آمد کے بعد انہیں ریڈ زون کے راستے فرار کردیا گیا۔ عدالتی حکم کے باوجود تھانہ آبپارہ نے میری ایف آئ آر درج کرنے سے انکار کیا۔ آئ- ایس- آئ خیبر پختونخواہ کے مطابق ان لوگوں کو سیکٹر کمانڈر اسلام آباد بریگیڈئیر فہیم نے بھیجا تھا۔ (یاد رہے کہ یہ وہی دن تھے جب ارشد شریف کو دبئی سے نکلوایا جارہا تھا)۔
اسی اثناء میں میرے گھر اور خاندان والوں کو بھی دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوئیں کہ اس کو سمجھائں بڑی گیم میں انوالو نا ہو ورنہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
ستمبر ۲۰۲۲ سی ٹی ڈی، پولیس اور دیگر اداروں نے خاندان سمیت ملک چھوڑنے کا کہا اور بتایا کہ ہم صرف دعا کرسکتے ہیں آپ کے لیے، جو آپ کو مارنا چاہتے ہیں ان سے سیکیوریٹی مہیا کرنا ہمارے لیے ممکن نا ہو شاید۔
اکتوبر ۲۰۲۲ ارشد شریف کے جنازے کے بعد فیلڈنگ سیٹ تھی جس کو وہاں موجود ��حافی دوستوں نے بھی نوٹ کیا۔ ارشد کے گھر سے نکل کر پختونخواہ ہاؤس پہنچا تو نا معلوم افراد نے اس کو بھی گھیر لیا۔ آدھی رات کو چیف منسٹر کے سٹاف نے وہاں سے پشاور منتقل کیا کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق کے پی ہاؤس بھی محفوظ نہیں تھا۔
نومبر ۲۰۲۲ میں خان صاحب پر قاتلانہ حملے کے بعد پریس کانفرنس کی تو صوبائ حکومت کو بھی دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونا شروع ہوئے۔ میں پشاور سے ہی جلسوں میں شرکت کے لیے جاتا رہا۔ سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کی جانب سے وزیر اعلی کو رپورٹ دی گئ کہ اس کو عوامی اجتماعات سے دور رکھیں قاتلانہ حملے کی روپورٹس ہیں۔ وزیر اعلی کو ادارے کی جانب سے بھی واضح پیغا�� دیا گیا کہ اپنے مہمان کو سمجھائیں۔ اسی دوران رجیم چینج کے بعد پہلی مرتبہ مجھ سے ڈائریکٹ بھی رابطہ کیا گیا اور تصدیق کی گئ کہ ابھی تک کی منصوبہ بندی ہماری ہی جانب سے کی گئ تھی لیکن اب ان باتوں کو بھول جائیں فریش سٹارٹ لیتے ہیں اپنی سیاست کریں لیکن جنرل باجوہ اور میجر جنرل فیصل نصیر کا نام نا لیں۔ جہاں ایک طرف میری زباں بندی کی کوشش جاری تھی وہیں ایک نئے منصوبے پر کام جاری تھا کہ جس میں میرے قتل کو حادثے کا رنگ دیا جانا تھا۔ جب اس منصوبے کا پردہ فاش کیا تو بجائے شرمندگی کے یہ پوچھ تاچھ ہونے لگی کہ آخر یہ معلومات مجھ تک کیسے پہنچیں۔ جب یہ واضح ہوگیا کہ میں نے نا ارشد شریف کے قتل کی پیروی سے پیچھے ہٹنا ہے نا حقیقی آزادی کی بات میرے لیے کوئ سیاسی نعرہ ہے تو وارننگ دی گئ کہ نہ صرف رجیم چینج کا ایک تسلسل ہے بلکہ آگے حالات کی سختی میں اضافہ ہونا ہے۔
اس دوران صوبائ حکومت کے ادارے مستقل ملک چھوڑنے پر آمادہ کرتے رہے کہ سر آپ کو پروٹیکشن مہیا کرنا ہماری بساط سے باہر ہوگا آپ اپنے خاندان کو لیکر ملک سے چلے جائیں ریاستی سطح پر آپ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
جنوری ۲۰۲۳ میں پشاور پولیس لائن پر حملہ کے بعد پشاور امن مارچ کا اعلان کیا تو آئ ایس آئ کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور واضح پیغام دیا گیا کہ مارچ میں شرکت نہیں کرو اور اگر کی تو ہر قسم کے نتائج کے لیے تیار رہو۔ شرکت تو کرلی لیکن زندہ واپس کیسے آیا یہ میرا اللہ ہی جانتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانے پر مجھ پر دہشتگردی اور بغاوت کے نئے مقدمات درج ہوئے۔
مارچ ۲۰۲۳ میں جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی پیشی کے وقت کے حالات پر قوم گواہ ہے اس کے بعد جوڈیشل کمپلیکس میں اپنی ضمانت کے لیے پیشی میری آخری پبلک اپئیرنس ہے۔ یہ وہ دن ہے جب حسان نیازی کو پہلی مرتبہ اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ریاست نے جہاں اپنی کوششیں جاری رکھیں وہیں میری ہیڈ منی بھی دے دی۔
اپریل ۲۰۲۳ میں گلگت بلتستان میں وزیر اعلی جی بی کے ساتھ موجود تھا جب علم ہوا کے ٹارگٹ کلرز جی بی پہنچ چکے ہیں۔ سو وہاں سے فوری ایویکیوٹ کیا گیا، اس کے بعد خان صاحب نے اپنے ساتھ پیشیوں تک پر جانے یہاں تک کہ زمان پارک کے گیٹ سے باہر آنے جانے پر بھی پابندی لگا دی کیونکہ عید الفطر سے پہلے مجھے قتل کرنے کی گارنٹی دی جا چکی تھی۔ اس منصوبے کا علم آئ ایس آئ، ایم آئ کے ان افسران کو بھی تھا جو اس گیم میں شریک نہیں تھے۔ پارٹی میں خان صاحب کے علاوہ سی ایم جی بی، محمود خان�� پرویز خٹک، اسد قیصر، اسد عمر، علی امین، تیمور جھگڑا، کامران بنگش وغیرہ ان تفصیلات سے واقف ہیں۔
اپریل میں سی ٹی ڈی تھانے پر ہونے والے حملے کے بعد موصول ہونے والے آڈیو میسجز جو کہ پہلے ہی یہاں شئیر کر چکا ہوں سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئ کہ اس حملے کا اصل نشانہ سی ٹی ڈی تھانہ نہیں میں تھا۔ اس حملے کے بعد بھی جب امن کے لیے لوگوں کو متحرک کیا تو مجھ پر مزید دہشتگردی اور بغاوت کے پرچے درج کیے گئے۔
جن کو بنیاد بنا کر مئی کے پہلے ہفتے میں انتظامیہ اور پولیس پر شدید دباؤ ڈالا گیا کہ بہر صورت زندہ یا مردہ پکڑا جائے۔ اس کے متعلق بلاآخر میں نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا۔ جس کے بعد مالاکنڈ لیویز کو اسی وقت اس حکم کے ساتھ لاہور روانہ کیا گیا کہ آپ ٹوکن حاضری دیں باقی معاملات ادارے اور پنجاب ہولیس سنبھال لے گی۔ متعلقہ فورسز کو آئ ایس آئ کے ریجنل ہیڈ کوارٹر میں زندہ یا مردہ پکڑنے اور زندہ پکڑنے کی صورت میں جیل میں ہی قتل کردینے پر بریف کیا گیا۔ میرے دعوی کی تردید کے بجائے وہ لاڈلے صحافی کہ جن سے ��مران خان پر قاتلانہ حملے کے وقت بھی بیانیہ بنانے کا کام لیا گیا تھا، ان کی جانب سے یہ بیانیہ بنایا جانے لگا کہ تحریک انصاف کے ایک مقبول رہنما کو گولی مار دی جائیگی یا جیل میں زہر دیا جائیگا اور اس کا الزام ادارواں ہر لگایا جائیگا۔ اور وہ رہنما مراد سعید ہے۔ مطلب پکڑنے کی صورت میں بھی مارنا ہے اور کہیں نظر آنے کی صورت میں بھی گولی مارنی ہے لیکن دونوں منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے پہلے مناسب بیانیہ بنانا ہے۔
ان حالات کا ادراک خان صاحب کو بھی بخوبی بلکہ ہم سے زیادہ ہی تھا اور انہوں نے سختی سے احتیاط کی تاکید کررکھی تھی چنانچہ ۹ مئی کو بھی میں اسی طرح روپوش رہا اور جس طرح باقی مواقع پر وائس نوٹ کے زریعے پبلک کال دی تھی اسی طرح ۹ مئی کے بعد تقریبا چار یا پانچ مرتبہ پارٹی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پبلک کال دی۔ چونکہ سر چاہئے تھا سو ان میں سے ایک کو آڈیو لیک کہہ کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ جس کی بنا پر ملٹری ٹرائل کیا جائے۔
یاد رہے کہ منصوبہ بندی ۹ مئی سے پہلے ہوچکی تھی اور میں ان کے متعلق صدر پاکستان اور چیف جسٹس کو گذشتہ سال خط لکھ چکا ہوں۔
بہانہ اب جو بھی ہو وجوہات دراصل یہی ہیں؛ ارشد شریف کو بچانے کی کوشش کیوں کی؟ اپنی قوم کے لیے امن کیوں مانگا؟ ہم سے ہماری زمہ داری کے متعلق سوال کیوں کیا؟ ارشد شریف کے لیے انصاف کیوں مانگا؟ حقیقی آزادی کی بات کیوں کی؟ مرو اب!
میری زندگی موت کا فیصلہ تو میرے رب کا اختیار ہے لیکن ان ناموں اور ان کے مکروح چہرہ دلالوں کو میری قوم یاد رکھے۔
جج ہمایوں دلاور کے فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس لاہور سے عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے 12 منٹ میں پہنچ گئی، جڑانوالہ میں 4 گرجا گھر اور اقلیتوں کے سینکڑوں گھر جل گئے، 12 گھنٹے بعد تک مقامی اور ضلعی پولیس نہ پہنچ سکی
Imran Khan with British billionaire Richard Branson, owner of Virgin Atlantic airlines in the 80s, when Aleem Khan was playing gulli danda in his mohalla
عمران خان کی اہلیہ بشرہ بی بی کی ملاقات جیل کی کالُ کوٹھری میں کرائی گئی تاکہ وہ بتا سکیںُ کہ پاکستان کا سابق وزیراعظم اور سب سے مقبول لیڈر کس حالُ میں ہے؟ تاکہ سب لوگ سمجھ جایں کہ اگر یہ ہمُ تمہارے لیڈر کا حال کر سکتے ہیں اور دنیا سے کوئی آواز نہیں اٹھتی تو سوچو ہمُ تمہارا کیا حشر کر سکتے ہیں؟ کوئی شک نہیں کہ بادشاہوں نے ہمیشہ ظلم اور طاقت سے حکومت کی ہے! اور خوف کی فضا کامُ کرتی ہے! مگر پھر اس کے عجیب نتائج Unintended Consequences بھی ہوتے ہیں! پاکستان صرف ایک صوبہ اور قوم نہیں ہے، یہ ایک وفاق ہے اور جو کچھ کیا جا رہا ہے، اس سے بہت عجیب ذھنی کیفیت جنمُ لے رہی ہے! آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے! https://t.co/ggyzDI7jap via @YouTube