محسن نقوی جب سری لنکا جا رہے تھے، مجھے پیغام ملا کہ محسن نقوی نے گارنٹی دی کہ شفا انٹرنیشنل میں ہی علاج ہوگا، ہمارا مطالبہ شفا انٹرنیشنل اسلام آباد کا تھا ، علیمہ خان کی پریس کانفرنس
🚨اہم ترین
عمران خان کا بشریٰ بی بی کی بیٹی کے ذریعے پیغام
نمبر1: میری آنکھ ٹھیک نہیں ہے
نمبر 2: میری بہنوں سے کہو میرے لیے آواز اٹھائیں
نمبر3: ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کو میرے تک رسائی دی جائے
نمبر 4 : میرے ٹیسٹوں کی رپورٹس میرے ذاتی معالجین سے شئیر کی جائیں
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ مجھے پچھلے 2 ہفتوں سے کچھ نظر نہیں آ رہا میں گزشتہ 2 ہفتوں سے تکلیف میں ہوں
میں کہتا ہوں کہ میرے لیے آواز اٹھائی جائے
آج ہم اڈیالہ جیل اس امید کے ساتھ جا رہے تھے کہ آج ہ۔اری ملاقات عمران خان سے ہو جائے گی اود ہماری تسلی ہو جائے گی لیکن انہوں نے چکری کے مقام پر ہمیں روک کر حراست میں رکھ لیا ہم واپس بنی گالا آنا چاہتے تھے تاکہ میڈیا سے بات کر سکیں لیکن ہمیں روکا گیا۔
علیمہ خان کی بنی گالا میں پریس کانفرنس
🚨 URGENT HEALTH APPEAL 🚨
Imran Khan has told his wife Bushra Bibi today that he remains deeply concerned about his eye.
His first and only priority is an immediate emergency meeting with his PERSONAL DOCTORS :
Dr Faisal Sultan and Dr Asim.
Let’s put politics aside for a moment and only focus on this one, extremely reasonable demand.
عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر کو کہا کہ دو ہفتے مجھے آنکھ سے نظر کچھ نہیں آرہا تھا میں سپرنڈنٹ جیل کو بارہا کہا لیکن میرا چیک اپ نہیں کروایا گیا۔
جیل سپرنڈنٹ کس کے کہنے پر علاج نہیں کروارہا تھا ، سینکڑوں کیمرے لگا کر یہ عمران خان کی نگرانی کررہے ہیں انہوں نے جب جان بوجھ کر دو ہفتے علاج نہیں ہونے دیا تو اب یہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ان کے ڈاکٹر کی رپورٹ پر یقین کریں کیسے یقین کریں ہم؟
ہم نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ذاتی معالجوں اور فیملی کی موجودگی میں کروایا جائے۔ علیمہ خان
'مجھے فوری طور پر اپنے ڈاکٹرز فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف تک رسائی دی جائے۔ میرے جو ٹیسٹس ہوئے انکے رزلٹس تاحال مجھے فراہم نہیں کیے گئے'۔ عمران خان کا بشری بی بی کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#ImranKhan
بشریٰ بی بی نے آج الفاظ استعمال کیے Emergency ہے عمران خان تک فوری طور پر ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو رسائی دی جائے عمران خان کو ٹیسٹوں کی رپورٹس نہیں دیکھائی گئیں،صدیق جان
"عمران خان کا علاج کیوں نہیں کروانا چاہتے؟ رپورٹس سامنے کیوں نہیں لاتے؟ کیا پتہ کوئی زہر دیا جا رہا ہو جس کی وجہ سے بینائی متاثر ہوئی ہو! — بیرسٹر اعتزاز احسن"
@therealaitzaz
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
International Community Raises Voice Over Imran Khan Medical Treatment.
In particular, we urge human rights organizations to raise their voice for Imran Khan.
@hrw@UNHumanRights@volker_turk
It is deeply shocking and irresponsible that a respected newspaper like Dawn published a planted report from a FAKE account falsely attributed to Noreen Niazi on its front page, without any verification from her. This raises extremely serious concerns for us and further undermines our trust in the government’s intentions and the information being circulated. Please note that my sister’s real account on X is @Noreen_KhanPK , please report all other accounts as they are all fake.
Our position has been clear and consistent. Imran Khan must be urgently admitted to Shifa International Hospital (Islamabad) for proper examination and treatment. His personal doctors have already provided the government with several acceptable specialist options. Any tests and treatment are only acceptable to our family if conducted in the physical presence and supervision of his personal doctor, Dr Asim Yusuf and Dr Nausherwan Burki representing the family. We had previously nominated Dr Uzma Khan to represent our family, but we were informed that none of Imran Khan’s sisters would be allowed to be present. Therefore, we have complete faith and trust in Dr Nausherwan Burki, who is like an elder brother to us, to represent our family.
It is extremely concerning and unacceptable that the government is resisting the presence of Imran Khan’s personal doctor and family representative during his examination and treatment. Without the physical presence of both his personal doctor and family representative, we categorically REJECT any claims made by the government regarding his examination, treatment, or medical condition.
ڈاکٹر عاصم یوسف کا تازہ بیان، جو انہوں نے عمران خان کے موجودہ علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کانفرنس کال کرنے اور ان ڈاکٹروں کے حالیہ چیک اپ وزٹ کے بعد جاری کیا ہے۔
“اسلام آباد کے ڈاکٹرز نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کب سے خان صاحب کو دیکھ رہے ہیں، کون کون سے ٹیسٹ کیے گئے، کیا تشخیص ہوئی، اب تک کیا علاج ہوا اور آئندہ علاج کا کیا پلان ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فالو اپ کس طرح کیا جائے گا۔
ڈاکٹرز کے مطابق انہوں نے آخری بار کل دوپہر خان صاحب کو دیکھا، اور تمام رپورٹس و تازہ اسیسمنٹ کے مطابق خان صاحب کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، آنکھ میں بہتری آئی ہے اور بینائی بھی امپروو ہوئی ہے۔
میری خواہش ہے کہ میں پورے یقین سے اس کی تصدیق کر سکوں، مگر افسوس کہ میں نہ تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے خود خان صاحب کو نہ دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بات ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ خان صاحب کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹرز کو بھی ابھی تک انہیں دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسی لیے میں ایک بار پھر اتھارٹیز سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یا ڈاکٹر فیصل سلطان کو، اور خان صاحب کی فیملی کی جانب سے نامزد ڈاکٹرز کو اسلام آباد میں معائنے اور علاج کے عمل میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔
میری خصوصی درخواست ہے کہ آئندہ تمام ٹیسٹ، اسیسمنٹ اور علاج Shifa International Hospital میں کیا جائے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ یہ عالمی معیار اور مناسب اسٹیندرز کا حامل اسپتال ہے، جہاں عمران خان صاحب کو ان شاء اللہ بہترین علاج میسر آ سکے گا”