اور ٹھیک دس بارہ سال بعد ان بچوں کا اپنا ایک perspective ہوگا ۔۔بہت سے معاملات و موضوعات پر۔۔ ہھر یہ اپنے والدین سے پوچھیں گے ہمیں کارٹون بنا کر اڈیالہ لیجانے کا آئیڈیا کس کا تھا؟
بھارت نے جنگ کے دنوں میں اس شک کو یقین میں بدل دیاکہ وہ فصل کی بوای کے دنوں میں پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کرے گا۔ گو بھارت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ ایک دو دن س ذٰیادہ پانی روک سکے لیکن اس نے یہ گھٹیا منصوبہ بنایا۔
لیکن الحمدللہ عالمی عدالت میں انڈس واٹر ٹریٹی کے کیس میں پاکستان کے موقف کو سب نے تسلیم کیا اور بھارت ایک قطرہ بھی ہمارا پانی نہیں رو سکتا ۔
مصدق ملک کی پریس کانفرس۔
Will none of the sympathizers of terrorists speak out against the brutality of the BLA? Wake up @Malala, who is hailed as a champion of human rights.
BLA terrorists murdered a family traveling from Karachi to Quetta after they accidentally lost their way using Google Maps and ended up on a remote road in Balochistan. They allegedly shot the parents dead in front of their two young daughters, leaving the girls orphaned and helpless.
this is a horrific act of terrorism and a grave crime against innocent civilians. Such brutality deserves unequivocal condemnation, and those responsible must be held accountable. @hrw@HRCP87@AJEnglish@BBCWorld
On 27 June 2026, a cowardly terrorist attack was carried out on a Pakistan Rangers (Sindh) Camp in Karachi by Khwarij belonging to Indian proxy, Jamaat ul Ahrar.
The assailants, after a blast at main gate of the Camp, attempted to breach the perimeter security, however, their nefarious designs were decisively foiled by the vigilant and resolute response of Rangers troops eliminating three Kharjis and capturing one Kharji, who is an Afghan national, in injured condition.
During fire exchange, three brave sons of soil, rendered the ultimate sacrifice and embraced Shahadat in the line of duty, while 4x soldiers are injured.
Sanitization operations are being conducted to eliminate any other Indian sponsored kharji in the area as relentless Counter Terrorism campaign under vision “Azm e Istehkam” by Security Forces and Law Enforcement Agencies of Pakistan will continue at full pace to wipe out menace of foreign sponsored and supported terrorism from the country.
Pakistan shall undertake retribution operations against the perpetrators of this attack to avenge the Shahadat of its soldiers.
COAS & CDF expresses his deepest condolences with the families of the brave soldiers. These sacrifices further reinforce our unwavering commitment to safeguarding our nation at all costs.
حضرت حسین کے نقش قدم پر چلنا آسان کام نہیں۔۔۔ اپنی جان، پورے خاندان کی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنا، جسے حق سمجھنا اس پر ڈٹ کر کھڑے ہو جانا، ایک ایک پیارے کی لاش اٹھانا پھر اپنی جان قربان کر دینا۔ یہ کہنا شاید آسان ہو مگر اس پر عمل حسین جیسی جرات اور کردار مانگتا ہے۔
میں خود بہت کمزور انسان ہوں مگر ان سب کی جرآت کو سلام کرتا ہوں جو جبر کے سامنے ڈٹ کر اپنی بات کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر سے میرے نظریاتی اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی جرات کا دل سے احترام کرتا ہوں۔
جن لوگوں کو ہم نہیں جانتے ہیں، مگر پھر بھی جانتے ہیں۔گزشتہ ماہ عید کے موقع پر میری والدہ اور بہنیں کوئٹہ آئی ہوئی تھیں۔ سب مل کر فیملی کے ساتھ کابل جان ریسٹورنٹ گئے۔ چونکہ میری والدہ ویل چیئر استعمال کرتی ہیں اور غالباً فیملی سیکشن اوپر تھا، اس لیے میرے بڑے بہنوئی نے کہا کہ کوئی بات نہیں، ہم نیچے ہی مخلوط سیکشن میں بیٹھ جاتے ہیں۔
میری بہن بتاتی ہے کہ ریسٹورنٹ کے مالک، جن کا نام وہ اس وقت نہیں جانتی تھیں، خود آئے۔ انہوں نے فوراً اپنے ملازمین سے کہا کہ والدہ کو ویل چیئر سمیت اوپر فیملی سیکشن میں لے جائیں تاکہ وہ آرام سے بیٹھ سکیں۔ پھر دو نوجوانوں نے بڑی احتیاط سے ویل چیئر کو سیڑھیوں سے اوپر پہنچایا اور پوری فیملی وہاں بیٹھ گئی۔
میں ملک ہاشم نورزئی کو ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی، لیکن آج یہ خبر سن کر دل بہت بوجھل ہو گیا کہ نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر بھ��ہ نہ دینے پر انہیں قتل کر دیا۔
ایسے واقعات کے بعد گلے میں ایک عجیب سی تلخی محسوس ہوتی ہے۔ جس شہر کو ہم اپنا گھر کہتے ہیں، وہاں ہر روز کوئی نہ کوئی شخص نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، اور اگلے دن زندگی ایسے چلنے لگتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ اس شہر میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ کون یہاں کاروبار لگائے گا؟ کون اپنے بچوں کا مستقبل اس شہر سے جوڑے گا؟
میرا ایک خواب ہے کہ ایک دن تمام کوئٹہ والے اپنے شہر کے لیے، اور اس شہر میں بسنے والے ہر انسان کے لیے، بلا تفریق آواز اٹھائیں گے۔ وہ اس شہر کو اپنا سمجھیں گے، اس کی ذمہ داری لیں گے، اور مل کر اسے خوف، تشدد، بھتہ خوری اور مسلسل عدم تحفظ کے اس آسیب سے آزاد کریں گے تاکہ آنے والی نسلیں ایک پُرامن اور محفوظ کوئٹہ میں زندگی گزار سکیں۔
نظریہ گریٹر اسرائیل کی پراکسی BLA کی کمین گاہ/Hideouts پرسیکورٹی فورسز کے پے در ہے حملے
آپ حیران ہونگے یہ جان کر جومظلوم بن کر جنگ لڑررہے ہیں انکی ایک کمین گاہ سےدو کلوبارود، ایک تیارIED, دس راکٹ، فروٹ کاکٹیل کے50 کین راشن کےساتھ برآمدہوئے
اتناسب کچھ صرف بھتے کےپیسوں سے نہیں ہوتا
آزاد کشمیر پر پروپیگنڈہ کرنے والے بی بی سی کو ابصار عالم کا چیلنج
بی بی سی کو چیلنج ہے کہ غزہ پر بھی ��و کچھ لکھیں،ڈاکومینٹری بنائیں،بی بی سی اور برطانیہ کے نیتن یاہو نے 22 ہزار بچے ماردیے ہیں،بی بی سی والے پنجابی میں وی لاگ کررہے ہوتے ہیں،اردو میں لگے ہوتے ہیں،پشتو،فارسی سمیت پتہ نہیں کس کس زبان میں لگے ہوتے ہیں
لیکن اتنی غیرت نہیں ہے کہ اسرائیل کے خلاف اسٹوری کریں،میری بی بی سی میں کام کرنے والوں سے درخواست ہے ایک اسٹوری نیتن یاہو کے خلاف کریں،پنجابی میں وی لاگ بھی کریں،دیکھتا ہوں اگلا وی لاگ ہوتاہے یا نہیں
حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی حق، انصاف، صبر اور استقامت کی لازوال علامت ہے۔ یومِ عاشور ہمیں ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، سچائی پر قائم رہنے اور اتحاد و اخوت کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے آئیے اس مقدس دن پر اپنے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
بلا شبہ انوار کاکڑ۔ ایک سیلف میڈ سیاستدان جنہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اعلیٰ ترین مقام حاصل کیا۔ آپ کو ان کے خیالات سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ سرداروں اور وڈیروں کے غول میں ایک مڈل کلاس بندے نے اپنی جگہ بنائی۔ ایک نظریہ اپنایا اور ڈنکے کی چوٹ پر اس کا اظہار کیا۔ اختر مینگل صاحب جو کچھ ہیں بنیادی طور پر اپنے والد عطاء اللہ مینگل کی وجہ سے ہیں یعنی پدرم سلطان بود۔ میرے لیے وہ بھی محترم ہیں مگر انوار کاکڑ کی طرح clarity نہیں رکھتے۔ کنفیوز رہتے ہیں کہ کس طرف جائیں اور اسی وجہ سے وہ بلوچستان کی سیاست میں رفتہ رفتہ غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں۔
داوڑ کنڈی خود ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ریسرچ سکالر بھی ہیں۔ ایم فل ڈگری ہولڈر ہیں اور تعلیمی معاملات کو سہیل آفریدی سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ سہیل آفریدی کو چاہیئے تھا کہ اپنی پارٹی کے ایم این اے سے مشاورت کر لیتے مگر انہوں نے ڈاکٹر ظفر اقبال کو ہی جبری رخصت پر بھیج دیا۔
داوڑ کنڈی کی جرات کو بھی سلام کہ انہوں نے حق پر بات کی اور یہ نہیں دیکھا کہ ان کی پارٹی کا وزیر اعلٰی کیا سٹینڈ لے رہا ہے۔
@dawarkkundi@SohailAfridiISF
شہید ایف سی جوان شبیر بلوچ کی قبر پر ایک بلوچ ماں کی چادر آج بھی بچھی ہوئی ہے۔ 💔
شبیر بلوچ کے والد آج بھی اپنے بیٹے کی جدائی کا غم سینے میں لیے بیٹھی ہے، جسے پُرتشدد ہجوم کر کہ ماہرنگ اور اسکے ٹولے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
#Balochistan
شہید ایف سی جوان شبیر بلوچ کی والدہ حسن بانو ہیں، جن کے بیٹے کو ماہ رنگ لانگو کے پُرتشدد احتجاج کے دوران ہجوم کے تشدد اور پتھراؤ میں شہید کیا گیا۔
شہید کی والدہ حسن بانو کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی، حکومت نے ساتھ دیا اور عدالت نے درست فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا ملنا ضروری تھا۔
شہید کے بھائی نذیر احمد کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے انصاف ملا ہے، جبکہ واقعے میں ��لوث دیگر افراد کو بھی قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔
#Balochistan
#BalochistanStandsWithShabbirBaloch
شہید شبیر بلوچ محض ایک باوردی اہلکار نہیں تھے بلکہ وہ کسی ماں کے لختِ جگر، کسی بہن بھائی کے سہارے اور اپنے دوستوں کے ایک مخلص و وفادار ساتھی تھے۔ انہیں جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ پتھر مار مار کر شہید کیا گیا، وہ ایسا دلخراش سانحہ ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے ان کی معصوم ماں نے انصاف کے حصول کے لیے دو طویل برس صبر اور استقامت کے ساتھ انتظار کیا بالآخر قانون نے اپنا راستہ اختیار کیا عدالت نے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سنایا اور قاتلوں کو سزا ہوئی یہ وہ لمحہ تھا جب ایک غمزدہ اور دکھی ماں کے دل کو برسوں بعد کسی حد تک سکون اور قرار نصیب ہوا اور اسے یہ احساس ملا کہ انصاف میں تاخیر ضرور ہوئی، مگر انصاف ملا ضرور۔
جب ہمیں کہا جائے گا کہ بلوچستان سے لاشیں واپس اجاتی ہیں لیکن کشمیر سے نہیں ائیں گی تو پھر میرا جواب وہی ہوگا جو دے چکا ہوں کیونکہ پانچ جنگیں ہم نے لڑیں جانوں کا نذرانہ ہم نے دیا اور یہ لوگ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں میں اپنے الفاظ کے ساتھ کھڑا ہوں
ناظرین ہمارے بابے سنبھالے نہیں جارہے