@RShahzaddk Har terha ka Kota finish hona chaheay. Employees, overseas, _______ Kota khatam kero marks lo or admission lo.agar hamaray bachon nay 90% marks lay k private universities ki fees deni hai to phir _ _ _ _ hi keh saktay hain hum.
جو مرضی ہو جیسا مرضی ہو سندھ سے پیپلزپارٹی اور خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف جیسے ناسور کا صفایا ہونا ضروری ہے ایک زندہ بھٹو کو روتے رہتے دوسرے 804 کو روتے رہتے دونوں کے نزدیک ترقیاتی کام کرنا گناہ ہے پئیں پئیں پالٹی کو مسلط ہوئے 15 سال سے زیادہ عرصہ ہو چُکا اور تحریک انصاف کو مسلط ہوئے 15 سال ہونے والے دونوں صوبوں کی حالت موہنجوداڑو جیسی ہے
ظلم کی دہائی
ڈیموں میں پانی کی کمی نہیں ہے۔ کھپت کم ترین ہے موسم کے مطابق لیکن لوڈ شیڈنگ دس گھنٹے تک جا پہنچی ہے۔ بجلی کے بلوں نے چیخیں نکلوا دی ہیں۔
سولر عوام نے خیرات سے نہیں لگوائے اپنی کمائی سے لگائے ہیں۔
ائی پی پیز کو لگام دینے کی جرات نہیں غریب کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے
وزیر اعظم صاحب جواب کون دے گا؟
پمز کے بچوں کے وارڈ میں آگ… اور 14 نومولود زندگیاں جھلس کر ختم ہوگئیں۔ جن بچوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا، وہ ہمارے نظام کی بے حسی کی نذر ہوگئے۔
یہ محض آگ لگنے کا واقعہ نہیں، یہ انتظامی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات اور جوابدہی کے فقدان کا المیہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی؟ سوال یہ بھی ہے کہ فائر سیفٹی کہاں تھی، ایمرجنسی انخلا کا نظام کیوں ناکام ہوا اور ان معصوم جانوں کی حفاظت کس کی ذمہ داری تھی؟
تحقیقاتی کمیٹی بنا دینا کافی نہیں۔ 14 نومولود بچوں کی موت 14 خاندانوں کا قیامت خیز دکھ ہے۔ ذمہ داروں کے نام اور ان کی غفلت قوم کے سامنے آنی چاہیے۔
کاش ہمارے ہاں سانحے صرف خبروں اور انکوائری رپورٹوں میں دفن نہ ہوتے۔
https://t.co/B8nlDiruE0
پمز میں نرسری وارڈ کا عملہ اتنا نالائق تھا کہ وارڈ میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی نہیں دیکھ سکا کہ وارڈ میں آگ لگی ہوئی ھے جبکہ ہر نرسری وارڈ میں کیمرے لگے ھوتے کیونکہ بچے چوری کر لیے جاتے تحقیقات مکمل کر کے ڈاکٹرز عملے سمیت جو بھی اس نااہلی میں ملوث ھو اُسے برطرف کرنے کے ساتھ ان پر ایف آئی آر بھی دینی چاہیے والدین بتا رہے کہ سارا عملہ دروازے لاک کر کے بیٹھا ھوا تھا یہ سب موبائل پر مصروف ھونے
یہ شہباز شریف کی حکومت ہے یہ محسن نقوی کی وزارت داخلہ کا دور ہے مصطفی کمال وزیر صحت ہے یہ مائیں اپنے بچوں کے ٹکڑوں کی بات کر رہی ہیں قیامت اس سے زیادہ اور کیا ہو گی ؟
محسن نقوی صاحب سسٹم اس سے زیادہ اور کتنا بیٹھے گا؟
غریب کے بچے تھے پیدا ہوتے جل گے ٹکڑے ہو گے حکمرانوں کو کیا پروا ہو گی ؟
وہ بگھی میں بادشاہ بن کر پھرنے والا بے شرم چور مین سئ ڈی اے کہاں ہے بلڈنگ سیفٹی چیک کرنا ان میں آگ سے متعلق پروٹوکول دیکھنا اس کا کام تھا سنا ہے فائر برگیڈ بھی دو گھنٹے بعد پہنچی ہے محسن نقوی کے اس لاڈلے کو کون پوچھے گا ؟
پی ٹی آئی نے وہی زیریلا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے سپریم کورٹ نے کہا تھا بیماری پر کوئی سیاست نہیں ھو گی کوئی سیاسی بیان بازی نہیں ھو گی جبکہ ساری پی ٹی آئی پریس کانفرنس کر رہی ہے اور مصر کے صدر مرسی کی طرح جیل میں مارنے کا کارڈ لیکر مارکیٹ میں آ گئی ہے اب آپ حکومت کو فیصلے کو داد دیں الشفاء کی بجائے پمز کیوں لیکر گئی
میاں عامر ھو یا محسن نقوی،یہ نظام سے ایک فیصد بھی واقف نہیں،یہ تجرباتی مینڈک ھیں،ان جیسوں کو ھر کچھ عرصے بعد اسٹیبلشمنٹ استعمال کرنے کی غرض سے ٹاکی شاکی مار کر نکال لیتی ھے،ملک سیاستدان چلاتے ھیں جن کو مقتدرہ نے ملک بننے کے بعد سے ملک چلانے نہیں دیا۔یہ ماڈل دراصل مشرف کے دور میں لایا گیا تھا،کچھ ناکام کاروباری اٹھاؤ،کچھ سابق جنرلز،کچھ سابق ججز،کچھ ناکام سیاستدان اور پھر ان کا مرکب بناکر استعمال کرتے ھوئے نے نئے تجربات کئے گئے،حاصل جمع صفر،مشرف گیا تو بجلی ،گیس کا بحران چھوڑ گیا،بجلی بحران حل کرنے گئے تو ایک بار پھر ملک میں پی ٹی آئی کے زریعے افراتفری کروائی گئی،پھر عمران خان کے ساتھ وہ لوگ لگائے گئے جن پر مقتدرہ کو زعم تھا کہ یہی لوگ مسیحا ھیں،اور پھر ملک میں آنے والی سب سے بڑی انویسٹمنٹ کو تباہ کیا گیا،اب مسئلہ صرف اتنا ھے کہ جو ملک چلارھے ھیں وہ ھر اچیومنٹ میں اپنا نام ضرور جوڑتے ھیں لیکن ناکام سیاستدان ھیں اور نظام کو کہلواتے ھیں،یہ جو صوبے والا شوشہ چھوڑا گیا ھے یہ بھی ایسی ھی ایک کڑی ھے،صوبے ضرور بنائیں ،لیکن جن کا کام ھے یہ وہ کریں نا کہ میاں عامر ،محسن نقوی۔
میرا اعتراض واحد یہ کہ جب آپ ایک مقروض غریب فاقہ زدہ ملک میں پروٹوکول اور لگثری دفاتر لیتے تو کم از کم اس کا اعتراف تو کریں اس میں نون لیگ کا مسلہ نہی پاکستان میں اس وقت ہر بڑی پارٹی اقتدار میں اور سب اتنا ہی شاندار پروٹوکول لیتے مگر تسلیم نہی کرتے عمران نے ایک ارب ہیلی کاپٹر پر لگا ڈالے مگر دعوی سادگی کا تھا اس حمام میں سب ننگے ہیں اور ہمیں اس پر لحاظ نہی کرنا چاہیے ان کو آئینہ دیکھانا چاہیے
آٹھ ہزار ارب ہم ہر سال سود دیتے یہ ہمارے ملک کے دفاع سے تین گنا سے زیادہ رقم ہے موجودہ حکومت نے چار سال میں پاکستان کی تاریخ کا 76 فیصد قرضہ لیا ہے سستا تیل مہنگا بیچ رہے بجلی کے بل پر ہزار طرح کے ٹیکس ہیں گیس کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے اور حکومت امریکہ سے مزید پیسے مانگ رہی
معیشت اور ملک کو اس بربادی تک پہنچانے والے وزیروں مشیروں افسر شاہی کو قومی ایوارڈ بھی دے رہے ہیں
بندہ پوچھے کونسی کارکردگی جس پر ایوارڈ دیا ؟
عوام نے مہنگے بلوں سے تنگ آ کر سولر لگا لیے اب نجی بجلی گھروں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے مزید بجلی مہنگی کر کے34 ارب نکالا جائے گا
شہباز شریف کی حکومت قوم کے اعمال پر اللہ کی سزا ہے
حکومت نے اگست کے مہینے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 75 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا اس سے حکومت کو تقریباً دس ارب روپے کی آمدن ہو گی
نون لیگ نے عوام کی کھال اتار کر ہڈیوں کا قیمہ بنانے کے وعدے پر اقتدار لیا ہے جبکہ منہ پکا کر کے راتب خور کہتے کہ معیشت بہتر ہو گئی ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے جبکہ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ موجودہ دور میں مالی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں