دل تھام کر پڑھیں
حکومت نے آئی پی پیز سے کیپیسٹی پیمنٹس کے لیے 40 سال تک کے معاہدے کر رکھے ہیں۔
سینئر صحافی ریاض الحق کے مطابق ن لیگ کے گزشتہ دور حکومت میں 49 معاہدے اور پی ٹی آئی کے تقریبا نصف عرصہ کے دور میں 27 معاہدے کیے گئے۔
وفاقی وزارتِ توانائی کی پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 مہینے کی ہیں۔
نیپرا (NEPRA) کے انکشاف کے مطابق مجموعی طور پر حکومت آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً 3400 ارب روپے کی ادائیگیاں کرتی ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آئی پی پیز کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ کیپسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کی مد میں شامل
حکومت چاہے تو لیوی کو ختم کرکےآئی ایم ایف شرط کے مطابق پرائمری سرہلس پورا کرنے کیلیے دیگر ذرائع استعمال کر سکتی ہے لیکن وہ ایسا چاہتی ہی نہیں ہے٫ شہباز رانا
افغانستان میں انڈین یوٹیوبر کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک افغانی کہہ رہا ہم پہلے ہندو ہی تھے۔
کبھی سے بنی اسرائیل کا بچھڑہ ہوا قبیلہ بن جاتے ہیں کبھی یہ ہندو بن جاتے ہیں آجر پنچ ہزار سالہ تاریخ والے یہ ہیں کون ؟
کمرشل فلائٹ کی بزنس کلاس بہترین آپشن تھی. نجانےایسےمشورے کون دیتا ہےجو عوام میں نفرت پیدا کرتےہیں. مجھےتو مریم اورنگ زیب کی وہ ڈھٹائی آج تک نہیں بھولتی جب وہ اسمبلی میں ببانگ دہل کہہ رہی تھیں کہ "ہاں 12 ارب کا جہاز خریدا ہے تو پھر؟" ایسےانداز اور لہجےعوام کو اشتعال دلاتےہیں.
بھارت میں 1990 میں آنے والے معاشی بحران پر بنی فلم "گورنر" ھمارے حکمرانوں کو دیکھنی چاھئے،اور یہ سبق لینا چاھئے کہ جب ملک میں کساد بازاری ھو تو حکمرانوں کو سب سے پہلے اپنی عیاشیاں بند کرنی چاھئے ،اخراجات کم کرنے چاھئے،یہاں ھمارے ملک میں 2021 سے معیشت کی ایسی تیسی ھوئی پڑی ھے،وزیر داخلہ سے لیکر وزیر خزانہ،وزرائے آعلی اپنے جہازوں کو موٹرسائیکل بناکر گھومتے ھیں،عدالتیں جہاں انصاف مہیا نہیں ھوتا ان کی تنخواہیں اور مراعات ملک کی معیشت پر بڑا بوجھ،پھر فوجی اور سول افسران کی لمبی چوڑی تنخواہیں،مراعات الگ،سیاسی قیادتوں کے خاندان تک حکومتی خزانے پر پل رھے ھیں۔خدارا عوام کو سادگی کے فوائد گنوانے کی بجائے سادگی پر عمل کرکے دکھائیں،ھم قرض پر پلنے والی قوم ھیں،جب حکمران سادگی اپنائینگے تو یہ قوم بہت ذرخیز ھے یہ گھاس کھاکر ایٹمی قوت بننے والی قوم ھے۔خدارا ھوش میں آئیں۔
جب پنجاب حکومت نے یہ لگثری جہاز خریدا تھا وزیر اطلاعات پنجاب نے اس کی وضاحت میں کہا تھا کہ یہ پنجاب ائر لائن کے لیے لیا ہے بعد میں ان کی بات غلط ثابت ہوئی اس لیے ان کا زبانی کہا اب کوئی تسلیم نہی کرے گا
مکرر عرض ہے جب اپنے خرچے پر جانا تھا اور مریم صاحبہ افورڈ کر سکتی تو چارٹر کر لییتے مفت میں ایک موقع کیوں دیا ہے ؟
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ پٹوارخانہ کے جید پُرانے اور اوکھے ویلے میں ساتھ کھڑے ہونے والے اور فتنہ عمرانیہ گولڈ سمتھیہ کے ساتھ کھلی جُتی چلانے والے اکاونٹس بھی موجودہ حالات میں حکمرانی ڈیفینڈ لائن پر کھڑے ہونے سے قاصر ہوچکے ہیں اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ آخر ہارڈ لائن اور نواز شریف کے نام پر کئی سال سے نوازلیگ کا دفاع کرنے والے بھی ناقدین کی فہرست میں کیوں پہنچ چکے ہیں
میاں صاحب تھوڑا نہیں بلکہ پورا سوچئیے کیونکہ فیر نہ کہنا ہم لیٹ ہو گئے ہیں
اب تو موجودہ حکومت خود ہی روز ثابت کرتی ہے کہ وہ واقعی ووٹ کی بنیاد پر اقتدا میں نہیں آئی اور نہ ہی آئندہ انہیں ووٹ کی ضرورت ہے۔۔۔
پیٹرول اور ڈیزل مزید 3 روپے تا 6 روپے مہنگا
Levy on Petroleum Products certainly feels like extortion by force, but the government keeps insisting that the IMF demands it for helping Pakistan stabilise its economy.
عمران جب اقتدار میں تھا چین امریکہ ترکی ہر دوست ملک سے پاکستان کے تعلقات بگاڑ دیے پھر ایران گیا وہاں بطور وزیر اعظم بیان دیا کہ ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے
اب اپوزیشن میں یوتھیا سوشل میڈیا ہر اس ملک پر حملہ آور جس سے پاکستان کے دوستانہ مراسم یو اے ای سے جنگ کے دنوں میں پنگا لیا وہ اب ویزے کینسل کر رہا پاکستانی نکال رہا اگلا نمبر سعودیہ کا ہے
اپ ڈیٹ: بیٹی نے رات سوتے ہوئے مجھے عجیب باتیں بتائیں، اُسے کسی نے اسکول میں ہراساں کیا، اُس نے بتایا اُسے درد ہو رہا ہے، میں نے پوچھا کیا کسی نے ٹچ کیا تو اُس نے کہا ہاں، بحریہ ٹائون فیز 7 پنڈی کے اسکول میں پیش آئے واقعے سے متعلق خاتون کا الزامات والا وائس نوٹ، باقی سُن لیں۔۔!!
معاملہ کچھ ایسا بھی ہے منہ گھر کی طرف دل یار کی طرف ہے
کل کو سعودیہ نے بھی یو اے ای کی طرح آنکھیں پھیر لیں تو ایران تو سوائے زینبون فاطمین اور ایٹمی پروگرام کی مخبری جیسے کام کے علاوہ کچھ نہی دے سکتا ہے
پنجاب حکومت نے گلف سٹریم کا ٹریکنگ سسٹم بند کیا ہوا ہے مگر اس کے استعمال کی معلومات اور خرچہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ رہے گی اور کبھی نا کبھی یہ معلومات پبلک بھی ہوں گی یہ ایک ایسا پنگا ہے جو سیاست میں لمبا عرصہ پیچھا کرے گا پبلک ریسورس استعمال کرنے کے عمل کو اوپن اور ٹرانسپیرنٹ رکھیں
بحریہ ٹاؤن فیز 7 اسلام آباد میں قائم Westminster International School میں مبینہ طور پر سویپر کی جانب سے پانچ سالہ معصوم طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا افسوسناک وقوعہ منظر عام پر آگیا
معصوم بچی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے Janitor کی شناخت “لالا” کے نام سے ہوئی ہے
والدین کی شکایت پر سکول انتظامیہ جانب سے انسانیت سوز وقوعہ پر سرد مہری خلاف والدین و ویسٹ منسٹر انٹرنیشنل سکول کے سینکڑوں طلبہ و طالبات کو کل بروز جمعرات بڑا احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان
زرائع مطابق WN International School بحریہ ٹاؤن فیز سیون اسلام آباد میں زیر تعلیم پانچ سالہ طالبہ نے گھر جاکر اپنی ماں سے پرائیوٹ باڈی پارٹس میں پین کی شکایت کی
ماں کے استفسار پر بچی نے بتایا کہ اسے سکول کے واش رومز ایریا میں سویپر نے جنسی طور پر ہراساں کیا
بچی کی ماں اور والد نے انسانیت سوز وقوعہ کی شکایت سکول پرنسپل سے کی جنہوں نے معاملہ کو سیریز نہ لیا جس پر والدین نے اس وقوعہ متعلق Parents Teachers Whatsaap Groups اور دوسری سوشل میڈیا ایپس بشمول Instagram اور Facebook پر ڈسکشن شروع کردی
زرائع مطابق والدین نے اس واقعہ پیش آنے بعد اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے
زرائع کا دعویٰ ہے کہ آج بروز جمعرات O Level اور A Level کے طلبہ و طالبات سکول کے فٹ بال کے گراؤنڈ میں جبکہ والدین سکول کے باہر شام چار بجے احتجاجی مظاہرہ کریں گے
جبکہ دوسری جانب سکول انتظامیہ کی پانچ سالہ بچی جنسی ہراسگی کیس پر مجرمانہ خاموش پر طلبہ و طالبات سمیت والدین جانب سے Instagram پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے
دولت تو نواز شریف کے پاس بھی تھی وہ بھی مائیکل جیکسن جیسے کپڑے پہن کر ذاتی استعمال کو جہاز لے سکتے تھے،
اردگرد لاہور کے مال دار دوستوں کا جمگھٹا لگا سکتے تھے،
اور سپورٹس کار میں یا ہیوی بائیک پر جا سکتے تھے،
لیکن عوام کی بات کرنی تھی عوام کی سیاست کرنی تھی، تو شلوار قمیض اور واسکٹ پہنا آس پاس وہ لوگ رکھے جو حلقوں میں جاتے تھے گلی محلوں میں گھومتے تھے اور عوام کی نبض سمجھتے تھے،
آپ نے جہاز لے لیا اردگرد ان خواتین کا گروپ بنا لیا جو گلی محلے میں چلیں تو سکن خراب ہو جاتی،
خوبصورت لگنا اور اچھا لباس پہننا آپ کا ذوق سہی لیکن جس غریب سے ایک لیٹر پر ڈیڈھ سو ٹیکس لیا جا رہا ہو اور وہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ چکا ہو مہنگائی کے سبب اس کے سامنے چشمہ لگا کر بڑے بڑے ناخن رکھ کر اور لاکھوں کا جوتا پہن کر بھلا کیسے اسے یقین دلائیں گی آپ کہ جی یہ سب میں اپنی جیب سے کر رہی آپ کا پیسہ نہیں ہے؟
اوپر سے سہیلیاں وہ جو کہیں ہاں لیا ہے جہاز کیا کر لو گے؟
اس سب سے پہلے پوچھ لیا ہوتا چچا سے وہ بتاتے کے دس سال خاکی سوٹ لمبے بوٹ پہن کر گھوما وہ تب جا کر عوام نے سمجھا کہ یہ ہمارے جیسا ہی اور ہمارا ہی ہے،
آپ کے شوہر آج بھی مونڈھے پہ چادر ڈالے پاؤں میں کھیڑی پہنے لوگوں کو مسلم لیگ نون میں لاتے یہ کہتے ہوئے جی دیخو میں بھی تساں جیا عام آدمی آں وہیں آپ کہ آپ کو تو بازار بھی وہ چاہیئے جو جاذب نظر ہو فورس بھی وہ چاہیئے جو سمارٹ دکھے،
بھلا چالیس ہزار تنخواہ میں لیوی، کپیسٹی پیمنٹ ،وغیرہ نکال کر غریب کے پاس وہ ذوق بچے گا جس سے وہ دیکھے کہ کیا جاذب نظر ہے کیا بدنما...!