میں بانی تحریکِ انصاف @ImranKhanPTI کی بہنوں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں، جنہوں نے آج اسلام آباد میں ہمارے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ ان کی حمایت اور بلوچستان کے مظلوم عوام، بالخصوص لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی قابلِ قدر اور حوصلہ افزا ہے۔
چار سال پہلے بھی یہی مائیں اور بہنیں تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر دس دنوں تک ٹھٹھرتی سردی میں دھرنا دیے بیٹھی تھیں۔ آج ایک بار پھر وہی مائیں اسلام آباد پریس کلب کے قریب اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبات کے ساتھ موجود ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت مریم نواز اپوزیشن میں تھیں اور وہ ان ماؤں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئیں، انہیں دلاسہ دیا۔ آج علیمہ خان صاحبہ آئی ہیں۔ شاید اقتدار میں رہنے والوں کے لیے وقت بدل گیا ہو، مگر ان ماؤں کا درد، ان کی پکار اور ان کی اذیت آج بھی وہی ہے جو سالوں پہلے تھی، نہ وقت نے اسے کم کیا اور نہ ہی ریاست نے اسے سنا۔
آج @PTIofficial جس طرح ریاستی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے بلکل اُسی طرح بلوچ عوام دہائیوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت مظالم اور ریاستی جبر کا شکار رہے ہیں۔ یہ جبر اور ناانصافی کا نظام تبھی بدلے گا جب ہم سب چاہے کسی بھی جماعت، قوم یا خطے سے تعلق رکھتے ہوں ایک ایسے منصفانہ نظام کے لیے متحد ہوں گے جو ظلم کے بجائے انصاف دے، طاقت کے بجائے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرے، اور جہاں ہر فرد کی جان، مال، حرمت اور آواز کی یکساں قدر ہو۔
Today the Baloch Yakjehti Committee (BYC) held a press conference at Karachi Press club.
In the press conference Sammi Deen Baloch, presented the “Semi-Annual Human Rights Report” prepared by BYC’s Human Rights Department. She further highlighted the ongoing human rights violations and the worsening crisis in Balochistan.
#StopBalochGenocide
#ReleaseBYCLeaders
It’s deeply disturbing that Advocate Hakeem Baloch was forcibly disappeared by CTD from his home on Brewery Road, #Quetta. He is a law student currently enrolled in his Bar Vocational Course. We demand his immediate & safe release. #ReleaseHakeemBaloch#StopEnforcedDisappearances
پریس کانفرنس
معزز صحافی حضرات،
آج اس پریس کانفرنس میں ہم دو موضوعات پر بات کریں گے۔ پہلے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی ششماہی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیل ہم آپ تک پہنچائیں گے۔ اس کے بعد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی گرفتاری کے خلاف لواحقین کی جانب سے اسلام آباد میں جاری پرامن احتجاج پر بات کریں گے، جہاں انہیں ریاستی ظلم کا سامنا ہے۔
ہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے آج آپ کے سامنے بلوچستان میں انسانی حقوق کی ششماہی رپورٹ (جنوری تا جون 2025) پیش کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے باسیوں کی تکلیف، ظلم اور ریاستی جبر کی داستان ہے۔ بلوچستان اس وقت مکمل طور پر جنگل کے قانون کے تحت ہے، جہاں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق معطل ہو چکے ہیں، بلکہ آئین، قانون اور انصاف کے تمام ستون بھی مکمل طور پر معطل ہیں اور مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ یہ رپورٹ ایک فکرانگیز دستاویز ہے، جسے متاثرہ خاندانوں، عینی شاہدین، مقامی انسانی حقوق کے اداروں اور شہادتوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
1۔ جبری گمشدگیاں
رپورٹ کے مطابق، سال کے پہلے چھ ماہ میں 752 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ ان میں سے 181 افراد کو مختصر مدت کے بعد رہا کیا گیا، جبکہ 25 کو دورانِ حراست قتل کر دیا گیا۔ باقی 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کی حالت یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ سب سے زیادہ کیسز مکران ڈویژن سے رپورٹ ہوئے، اور فرنٹیئر کور (FC) زیادہ لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے میں ملوث پایا گیا۔ جبری گمشدگیوں کی یہ لہر بلوچ سماج کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔
2۔ ماورائے عدالت قتل
جنوری سے جون 2025 کے دوران 117 ماورائے عدالت قتل رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر کیسز جعلی مقابلوں، "مارو اور پھینک دو" پالیسی، اور زیرِ حراست قتل سے جُڑے ہیں۔ مقتولین میں زیادہ تر نوجوان، طلبہ، اور سیاسی شعور رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ قتل عام نہ صرف بلوچ نسل کشی پالیسی کا حصہ ہے بلکہ اجتماعی سزا کی پالیسی کا بھی حصہ ہے، جس کی لپیٹ میں اس وقت پوری بلوچ قوم ہے۔ بلوچستان میں آئین اور قانون اس قدر معطل ہیں کہ کوئی شنوائی، قانونی چارہ جوئی یا جوابدہی ممکن نہیں رہی۔
3۔ ریاستی تشدد
جبری گمشدگی کے شکار تقریباً ہر فرد کو دورانِ حراست سخت جسمانی و ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، ماورائے عدالت قتل ہونے والے ہر فرد کی لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، جو اس امر کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ ریاستی ادارے شہریوں پر غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ تشدد کا مقصد نہ صرف معلومات حاصل کرنا ہے بلکہ خوف پیدا کرنا اور پورے سماج کو مفلوج رکھنا ہے۔
4۔ اجتماعی سزا
بلوچستان میں اجتماعی سزا کے واقعات اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں نہ صرف افراد بلکہ پورے خاندان اور برادری کو سزا دی جاتی ہے۔ جن لوگوں کے عزیز لاپتہ ہوتے ہیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، ان کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، عورتوں کو مارا پیٹا جاتا ہے اور بچوں کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔
5۔ شہری آزادیوں کی معطلی
بلوچستان میں اظہارِ رائے، پرامن احتجاج، اور نقل و حرکت کی آزادی مکمل طور پر معطل ہے۔ BYC جیسے سیاسی و انسانی حقوق کے اداروں کو نہ صرف دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے، بلکہ ان کے رضاکاروں اور قائدین کے خلاف جعلی ایف آئی آر، تھری ایم پی او، اور فورتھ شیڈول جیسے قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اپنے جبر کو جائز قرار دینے کے لیے آئینی ڈھانچے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
6۔ قانون بطور ہتھیار
2025 میں بلوچستان اسمبلی کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم نے ریاستی اداروں کو مزید غیر مشروط اختیارات دے دیے ہیں۔ اب کسی کو بھی بغیر الزام کے تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس ترمیم میں فوجی افسران کو بھی نظرثانی بورڈز میں شامل کیا گیا ہے، جو انصاف کی غیر جانبداری کے اصول کے منافی ہے۔ یہ قانون اب انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں، طلبہ اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
#StopBalochGenocide
ریاستی جبر اور بربریت کا اندازہ یہاں سے لگاجا سکتا ہے کہ شہر اقتدار اسلامآباد میں بلوچستان سے امید لئے آئے بلوچوں سے دشمنوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے. بلوچستان جہاں سے بلوچ قوم کی آواز کو سننے کی رسائی نہیں تو وہاں بلوچ قوم کے ساتھ کیسا ظلم ہوتا ہے
#ReleaseBYCLleaders
Baloch women are holding a sit-in in heavy rains, as government prevents them from protesting at the Islamabad Press Club.
@FoziaBaloch10 said that the government isn't allowing them to hold a sit-in demanding the release of BYC leaders and all missing persons. She pointed out that while the state pretends to care about woman killed in the name of honor, it simultaneously keeps Baloch women in jail and prevents them from holding a sit-in.
نیشنل میڈیا سے ایک بلوچ ماں کا سوال
ہماری آواز کہیں گم ہو گئی ہے۔ شاید آپ کے کیمروں کے زاویے ہم تک نہیں پہنچتے، شاید ہمارے آنسو آپ کے مائیک کی رینج سے باہر ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد کی سڑکوں پر چند بلوچ مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور نوجوان اپنے گمشدہ پیاروں کی تصاویر تھامے بیٹھے ہیں۔ ان کے چہروں پر صبر ہے، مگر آنکھوں میں وہ سوال ہیں جن کے جواب ریاست دینے کو تیار نہیں اور میڈیا کی آنکھوں اسے قید کرنے کیلئے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔
میڈیا سے ہمارا سوال ہے کیا ہمارا دکھ، ہمارا احتجاج، ہماری دہائی قابل نشر نہیں؟
کیا صرف بلوچستان کے وسائل، اس کا سی پیک، وہاں میں جاری بمب دھماکے ہی آپ کیلئے نیوز نہیں اور جو ایک بلوچستان اسلام آباد کی دہلیز پر بیٹھا ہوا ہے اس کا کیا؟ اسے کیوں نیشنل میڈیا کیوں کوریج دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔
آپ کیلئے بلوچستان سے کسی کا اسپیچ بریکنگ نیوز بن جاتا ہے، کوئی عالمی فارم پر بلوچستان کے حوالے سے بات کر رہا ہو تو وہ لمبی خبر بن جاتی ہے، بلوچوں کو غداری کا لقب دینے کیلئے نیشنل میڈیا ہمیشہ متحرک ہے لیکن ان آنسوؤں کو کوریج دینے کیلئے وقت نہیں، اس حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے وقت نہیں کہ ریاست بلوچستان میں لوگوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھا ہوا ہے۔
جب بلوچ ماں، جو اپنا بیٹا برسوں سے لاپتہ ہونے کے بعد تلاش کر رہی ہے، آپ کے دروازے پر بیٹھی ہے تو آپ کی اسکرین خاموش کیوں ہیں؟
آپ نے ریاست کے بیانیے کو ہمیشہ ترجیح دی، لیکن کیا ایک ماں کا درد، ایک بہن کی فریاد، ایک بیٹے کی تلاش آپ کے صحافتی شعور سے باہر ہے؟ کیا بلوچستان کے لوگ اس ملک کے شہری نہیں؟
اگر ہیں، تو پھر آپ کیوں ان کے ساتھ ہونے والے ظلم پر چپ سادھے بیٹھے ہیں؟
آپ کے کیمرے ان کی طرف کیوں نہیں گھومتے؟
ہم جانتے ہیں کہ آپ پر دباؤ ہوتا ہے، آپ کو سنسرشپ کا سامنا ہوتا ہے، لیکن صحافت صرف مراعات یافتہ طبقات کی نمائندگی نہیں، بلکہ وہ مظلوموں کی آواز بننے کا حلف ہے۔ اگر میڈیا بھی خاموش ہو جائے تو پھر بلوچ ماؤں کو کس سے امید ہو؟
ریاست سے؟ جو ان کے بچوں کو لاپتہ کرتی ہے۔ عدالت سے؟ جہاں برسوں مقدمے نہیں سُنے جاتے۔
اور اگر میڈیا بھی ان کی کہانی نہ سنائے تو پھر وہ اپنی بات کس سے کریں؟
جب عالمی میڈیا کوریج دیتا ہے تو آپ انہیں امریکی، یورپی اور نجانے کن کن کے غدار ہونے کا الزامات لگاتے ہیں لیکن جب وہ آپ کے پریس کلب کے سامنے آتے ہیں تو آپ کے کیمرے اسکریں بند ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ عالمی میڈیا سے رجوع نہ کرے تو کہاں جائیں۔
میڈیا سے ہمارا سوال ہے کیا بلوچ دکھ اتنے غیر اہم ہیں؟ کیا وہ صرف اداروں کی اجازت سے قابل ذکر ہوتے ہیں؟
ہم سوال کرتے ہیں، تماشا نہیں۔ ہم دکھ سنانا چاہتے ہیں، خود کو مظلوم ثابت نہیں کرنا چاہتے۔
بس اتنی گزارش ہے
آئیے، ہمارے ساتھ چند لمحے بیٹھ کر ہماری خاموشی کو خبر بنائیے، ہماری چیخ کو سنیے، انہیں اس ریاست کا شہری ہونے کا احساس دیجئیے۔
ایک بلوچ ماں کی طرف سے،
اسلام آباد کے پریس کلب کے باہر، جہاں خاموشی چیخ بن چکی ہے۔
#ReleaseBycLeaders
#StopBalochGenocide
سوشل میڈیا پر ایک خاتون کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس کے متعلق دعویٰ ہے کہ اسے غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ بطور ایک عورت، یہ لرزہ خیز واقعہ میرے لیے نہایت تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا ہے۔ کسی بھی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرنا نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ انسانیت کی بدترین تذلیل بھی ہے۔
بلوچ اور بلوچستان کی خواتین نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف باشعور، باہمت اور خودمختار ہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، جدوجہد، اور فیصلے لینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم نے حالیہ برسوں میں دیکھا ہے کہ بلوچ خواتین کیسے پرامن مزاحمت کی صفِ اول میں کھڑی ہو کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے قربانیاں دینے سے لیکر اپنی قوم کی نمائندگی کر رہی ہیں، ان کی استقامت اور حوصلے کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا چکا ہے۔
میں بلوچ اور پشتون قبائلی عمائدین، معاشرے کے مؤثر طبقات، اور اہلِ دانش سے اپیل کرتی ہوں کہ خواتین کے فیصلوں کا احترام کریں، آج کی عورت وہی عورت ہے جو تعلیم یافتہ، باشعور اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔
میں مطالبہ کرتی ہوں کہ اس المناک قتل، جس کی مکمل تفصیلات، مقام، اور محرکات ابھی تک سامنے نہیں آئے، کی فوری طور پر ایک شفاف غیرجانبدار اور جامع تحقیقات کی جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور آئندہ کسی کو یہ وحشیانہ فعل دہرانے کی جرات نہ ہو۔
Baloch women in Islamabad have been barred from peaceful protest — no camp, no sit-in. Police have even removed them from their residence. The message from the state is loud and clear: Baloch are not treated as part of this country.
#ReleaseBYCLeaders#ShameOnIsbPolice
https://t.co/bR9D4nERN4
“آپ نے انہیں کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی، وہ بارش میں بھیگتے اور جلتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ انہوں نے خود کو اذیت دی، مگر انتظامیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی پریشان نہیں کیا۔”
ہم دل کی گہرائیوں سے محترمہ ایمان مزاری @ImaanZHazir کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو گزشتہ چار دنوں سے مسلسل مشکلات کے باوجود ان مظلوم لواحقین کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں ان کے اس بے لوث ساتھ نے امید اور مزاحمت کو طاقت دی ہے۔
ہم اسلام آباد کی باشعور اور حساس عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے آئے ان لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، کیونکہ یہ صرف بلوچستان کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں پریس کلب کی طرف بڑھنے اور احتجاج کرنے کیلئے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس ہمارے ساتھ مجرموں اور دشمنوں جیسا برتاؤ رکھ رہی ہے۔ کیا بلوچستان سے اسلام آباد آنا اور پرامن احتجاج کرنا جرم ہے ؟ پاکستان کے ادارے ہمیں بتائیں کہ ہمارے شہری اور انسانی حقوق پر کیوں قدغن لگایا جا رہا ہے ؟ ہمیں کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ہمیں کسی بھی طرح کا نقصان پہنچا اس کی براہ راست زمہ داری اسلام آباد و ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔
بلوچ قوم و میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہمارے ساتھ ہونے والے جانوروں جیسے سلوک کے خلاف آواز اٹھائیں۔
اسلام آباد: 'بلوچ مظاہرین' کو آج پانچویں روز اسلام آباد پریس کلب کے سامنے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
پولیس نے گذشتہ روز پریس کلب کے جانے والی راستوں کو خاردار تاریں لگاکر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا۔