@DrAyeshaNaveed@ImranKhanPTI I have full faith in leadership of my Kaptaan. With the help of Allah (SWT) he had, he has and he will bring happiness in our country. Ya Allah Madad
پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں اتنا نیچے کیوں ہے ۔ وجہ سامنے آگئی ہے ۔ 57 ہزار بلو پاسپورٹ ہیں اور 13 سو ریڈ پاسپورٹس ہیں جبکہ ارکان اسمبلی صرف 1 ہزار کے لگ بھگ ہیں ۔ یہ پاسپورٹس کی تعداد اتنی زیادہ کیوں ہے ؟
انڈیا اور پنجاب میں ۳ کلومیٹر کا فاصلہ ہے، اُدھر نہیں جاتا، اتنا بڑا چکر لگاتا ہے، اِدھر آتا ہے، ہمارے گھر میں جا کر لوگوں کا قتل کرتا ہے؟ اتنا بےوقوف بھی ہمیں نہ سمجھو!
پہلی کہا کہ صحافی جھوٹ بول رہے ہیں۔ پھر شفیع جان نے کہا میں قانون پاس ہوتے ہوئے موجود نہی تھا۔ کیسا وزیر ہے جسے اپنی وزارت سے متعلقہ پاکستان کی تاریخ کا صحافیوں کے خلاف سب سے مکروہ قانون کا مہینوں پتہ نہی تھا۔ یہ تو یہ نالائق ہیں یا جھوٹے۔ اور پھر شرمندہ بھی نہی ہوتے۔ اختیار اور طاقت اتنی جلدی دماغ خراب کرتے پہلی دفع دیکھا ہے۔
"نوکری نہیں ہوتی؟ پھر تنخواہ، پروٹوکول، مراعات، پینشن، بیواؤں کی بھی مراعات—یہ سب کیا ہے؟" سائرہ بانو
@Saira_Banokhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
30.9.2025
میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں
نمبر 1 ریاست مخالف ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
#RetweetImranKhan
علاج، ۱۸ ملاقاتیں، کتابیں، بچوں سے بات چیت، اور قید تنہائی کا خاتمہ عمران خان کے قانونی حقوق ہیں! ظلم کے ماحول میں ملک میں کوئی برکت نہیں آتی۔ چار سال میں اتنا تو سمجھ آجانا چاہیے!
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
آزاد کشمیر، شجاع آباد میں پرامن مظاہرین پر تشدد اور شہادتوں کی مذمت کرتا ہوں، حکومت آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت فوری طور پر جموں و کشمیر جائینٹ ایکشن کمیٹی کیساتھ مذاکرات کرے،حکومت آزاد کشمیر، پاکستان حکومت اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد کرے،پاکستان کی سیاسی قیادت، جماعتیں کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد میں ساتھ دے۔
کیا سینٹر اور MNA کے پاس لائف ٹائم بلو پاسپورٹ ہے: علینہ شگری
ہاں جی: اختیار ولی جٹ
وہ کیسے صیح اور اب غلط ہو گیا؛ علینہ شگری
کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ اشرافیہ کے خلاف بات کی ہے اور غریب کیساتھ کھڑا ہونے کا کہا ہے: اختیار ولی جٹ
ن لیگ والے اب کھل کر مان رہے ہیں ہم غریب دشمن ہیں
اختر مینگل نے بلوچستان میں فتنہ الشیطان سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا
وہ فتنہ الشیطان سامنے لایا جائے جس کے مظالم سے لوگ پہاڑوں پر چڑھ گئے اس فتنہ الشیطان کو سامنے لایا جائے ۔ اختر مینگل
”بلوچستان، آزاد جموں کشمیر اور خیبر پختونخوا میں جو اس وقت مسائل نظر آ رہے ہیں وہ دراصل 2024ء انتخابات کے فارم 45 ہیں جو پاکستان کی فضاء میں اڑتے پھر رہے ہیں۔ ملکی معیشت پر انتخابی دھاندلی کا بوجھ پڑا ہے جس کو یہ اٹھانے سے قاصر ہے اور آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ ملکی مسائل کا حل انتظامی طاقت سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت ناگزیر ہے۔ عمران خان ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی بات کو سنا جا سکتا ہے، اگر مسائل حل کرنا ہیں تو ان سے بات کر لیں۔“ حبیب اکرم
@HabibAkram
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
علیمہ آپا کو جولائی میں سزا سنا کر کم از کم دسمبر تک جیل میں رکھنے کا پلان ہے
ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان میرے اللّٰہ کا ہے
اللّٰہ سب سے بڑا ہے۔۔۔۔۔
ہم سب علیمہ آپا کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔۔
جب مراعات اور بلیو پاسپورٹ سے متعلق بل سینیٹ میں پیش ہوا تھا تو اس پر میرا موقف بہت واضح تھا۔ اور ان قائمہ کمیٹیوں کا ہم حصہ نہیں ورنہ وہاں بھی اس کی ایسے ہی مخالفت کرتے۔
اپنے بغض میں اندھے نہ ہوا کریں
بلوچستان میں اصل چیلنج یہ نہیں ہے کہ جو پہاڑوں پر چلے گئے انہیں کیسے ختم کیا جائے اصل چیلنج یہ ہے کہ جو کالجوں، یونورسٹیوں میں موجود ہیں انہیں کیسے پہاڑوں پر جانے سے روکا جائے۔
شہید اکبر شیرانی کو جب محاصرے میں مدد پہنچنے کی امید ختم ہوئی تو قلم کاغذ نکال کر ان پر جن افراد کا قرض تھا وہ نام لکھے، سامنے قرض کی رقم لکھی۔ خون آلود کاغز انکی جسد خاکی کی جیب سے برآمد ہوا۔
سانحہ مانگی، ضلع زیارت
#Balochistan
یہ کروا رہا ہے، وہ کروا رہا ہے۔۔۔ ارے، آپ روک کیوں نہیں رہے؟ ہونے کیوں دے رہے ہیں؟ خالد انعم
#pakistan@khaledanam1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں