ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا جنازہ رکھا لیکن کوئی جنازہ پڑھانے نہیں آیا امام کہتا ہے کہ میرے پاس ٹائم نہیں دوسرا کہتا کہ میں ربیع الاول کی محفل میں ہوں....
پیسے نے انسانیت ہی ختم کر دی ہے..
اس وقت سوشل میڈیا پر راولپنڈی سے وائرل ویڈیو ۔جس میں ایک کمسن بچے کو مارا جارہا ہے ہ
ویڈیو کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ راولپنڈی کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن بلاک C کی ہے۔ ویڈیو شیئر کرنے والے شخص کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے تقریباً 8 سے 10 سال کے اس بچے کو بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچے سے گھریلو کام کروائے جاتے ہیں، اسے ڈانٹا جاتا ہے اور مبینہ طور پر ڈنڈے سے بھی مارا جاتا ہے۔
اگر یہ ویڈیو درست ہے اور تحقیقات میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی معصوم بچے کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہو۔
میری راولپنڈی پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کے متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور بچے کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
@Rporwp@OfficialDPRPP@GovtofPunjabPK
میرے شہر بورے والا کا ہیرا ایک بہترین ایتھلیٹ پولیس میں سفارشوں کے درمیان چھوٹے سے نقطہ پہ بھرتی میں ریجیکٹ کیا پولیس دوڑ میں ہواؤں سے قلابے ملاتے ہوئے نا صرف پہلے نمبر پہ رہا بلکہ منفرد انداز سے قلابازیاں لگاتے سوشل میڈیا پہ وائرل ہوا۔۔
اور آج یہ ویڈیو دیکھ کر دل ٹوٹ گیا 💔💔💔
افسر کی جامن کھانے کی خواہش نے غریب کی زندگی اجاڑ دی، عمر بھر کیلئے معذور
لال سونہارا میں مبینہ طور پر ایک افسر کی خواہش پوری کرنا غریب ڈیلی ویجز ملازم کے لیے زندگی بھر کی سزا بن گیا۔ محکمہ جنگلات کے ڈیلی ویجز ملازم، 38 بی سی لال سونہارا کے رہائشی محمد ناصر کو مبینہ طور پر رینج افسر افتخار علی نے جامن توڑنے کے لیے ایک بلند درخت پر چڑھنے کا حکم دیا، تاہم چند لمحوں بعد محمد ناصر درخت سے نیچے آ گرا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہونے سے وہ مستقل معذوری کا شکار ہو گیا۔ واقعے کے بعد محکمہ جنگلات کے افسران نے زخمی ملازم کی خبر گیری تک نہ کی اور زندگی بھر کے لیے اپاہج ہونے والا غریب مزدور علاج اور دو وقت کی روٹی کے لیے در بدر ہو گیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محمد ناصر گھر کا واحد کفیل تھا اور اس حادثے نے پورے خاندان کو فاقوں اور پریشانیوں کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ واقعے کے بعد رینج افسر افتخار علی منظر سے غائب ہو گئے جبکہ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) لال سونہارا بھی معاملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔
@Imran_Nawaz_@KismatZimri
گلگت بلتستان کے الیکشن میں جناب خالد خورشید نے سیف اللہ نیازی اور علی امین گنڈا پور کو ٹکٹ جاری کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کا ممبر بنیا۔ اب آزاد کشمیر سے بھی ایسی ہی اطلاعات آ رہیں کہ ٹکٹ جاری کرنے میں انصاف کے تقاضوں کو بے دردی سے پامال کیا جا رہا ہے۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی مقبول ، بے انتہا مقبول پارٹی نے اپنے آپ کو اس طرح برباد کیا ہو ۔
یہ کمیرے کو دیکھ کر منہ کیوں چھپا رہے ہیں۔
احساس نام کی کوی چیز ہی نہی ہے ان میں ۔ رشوت دو تو جانے دیں گے ورنہ نہی ۔۔ اگلے کے لالھوں روپے ضائع ہو جاتے ہیں ان بیشرمو میں انسانیت ہی نہی ہے
ائیر پورٹ پر مسافروں کو روک کر ان سے کھلم کھلا پیسے مانگنا یہ تو دھندہ بنا لیا گیا ہے روزانہ کسی نہ کسی مسافر کی ویڈیو ای ہوی ہوتی ہے ۔۔
جس بندے نے یہ ویڈیو بنای ہے وہ اپنی ویڈیو میں سارے ڈاکومنٹس دیکھا رہا ہے ۔ ہر چیز اوکے بورڈنگ کارڈ بھی ایشو ہو چکا ہے ۔۔ مگر اف لوڈ کر کے اس کے پیسے ضائع کر دیے ۔
بقول ویڈیو بنانے والے شخص کے مجھے کہا گیا پچیس ہزار دو تو جانے دونگا یہ شخص کہتا ہے اگر حکومت کی طرف سے ایسا کوی قانون ہے تو دیکھا دیں میں دے دیتا ہوں ۔مجھے رسید دیں گورنمنٹ کی میں پھر بھی پیسے دیتا ہوں ۔۔
یہ ویڈیو میں نظر انے والے چہرے ہر بار پکڑے جانے پر انکو برطرف کر کے عوام کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے ۔۔
کیا ان سپاٹوں کی جرت ہے افسران کی اجازت کے بغیر کھلم کھلا رشوت کا مطالبہ کریں ۔۔
پہلے سرکاری دفاتر والے رشوت لینے کیلے دفاتر کے باہر اپنے ٹاوٹ کھڑا کر لیتے تھے جب کسی کا مسئلہ حل نہ ہو رہا تو وہ ٹاؤٹ دفتر سے باہر ڈیل کرتے تھے ۔
اب انکی بہادری کو سلام ہے کاونٹر پر کھڑے ہو کر سر عام پیسے مانگے جارہے ہیں ۔۔
کیا یہ بغیر کسی سرپرستی کے ایسا کیا جارہا ہے ؟ کس کس جو حصہ جارہا ہے وہ بھی ائیرپورٹ پر ۔
کوی ان کو روکے گا ۔۔ یا پھر عوام صبر و تحمل سے کام لے اپنی پونجی ان راشیوں کے منہ میں تھوستی رہے تاکہ ان کے بچے باہر کے ممالک میں سیٹیل ہو سکیں ۔۔
پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر کے ختم ہونے کیبعد سے زیادتی اور قتل کے کیسز میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ سرگودھا میں 9 سالہ بچی منتہیٰ حنیف کے ساتھ دوکان کے اندر زیادتی اور قتل کا واقع ہوا ہے ملزم نے بچی کا گلا گھونٹا اور گھی والے کنستر کے پّترے سے شہ رگ کاٹی اور دوکان کے اوپر گودام میں پھینک دیا۔ دکان کے مالک کے مطابق ملازم ارسلان دس سال سے یہاں کام کررہا تھا ۔ سی سی ڈی نے ملزم کو گرفتار کر لیا ۔
اس المناک سانحے پر پورا شہر غم و غصے میں ہے
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بے نظیر کرپشن ہوتی ہے
قہر خدا کا ساڑھے آٹھ سو ارب روپیہ یونہی ںرباد کر دیا جاتا ہے ؟
اتنے پیسوں سے کم ازکم ہر سال پندرہ سے بیس ورلڈ کلاس یونیورسٹیاں تعمیر ہو سکتی ہیں
ہر سال دو سے تین ڈیم بن سکتے ہیں
تعلیم مکمل فری کی جا سکتی ہے
مگر ملک دشمن عناصر کو یہ گوارا ہی نہیں ہے
#پاکستان
غربت سے ہارے ہوئے ایک اور باپ نے خودکشی کیوں کی؟
چکوال کے ایک چھوٹے سے گاؤں چک چکوڑہ میں رہنے والا 42 سالہ محمد ندیم فریج مکینک تھا۔ دن بھر محنت کے باوجود اس کی کمائی اتنی نہیں تھی کہ اپنے بڑے خاندان کا پیٹ بھر سکے۔ زندگی کی گاڑی پہلے ہی مشکل سے چل رہی تھی۔ پہلی بیوی سے اس کا ایک بیٹا اور سات بیٹیاں تھیں۔ بیٹا جوان ہو چکا تھا، چند بیٹیاں شادی شدہ تھیں اور باقی ابھی معصوم بچپن کی دہلیز پر کھڑی تھیں۔
غربت، ذمہ داریوں اور مسلسل جدوجہد کے باوجود ندیم نے تین سال قبل محبت کی خاطر دوسری شادی کر لی۔ اس کی دوسری بیوی عاصمہ بی بی گجرات سے تعلق رکھتی تھی۔ دونوں ایک بوسیدہ سے گھر میں رہتے تھے جہاں غربت ہر دروازے، ہر دیوار اور ہر سانس سے جھانکتی تھی۔ اس شادی سے ان کے دو ننھے بیٹے پیدا ہوئے، ایک دو سال کا اور دوسرا بمشکل ایک سال کا۔
جمعہ کی دوپہر ایک معمولی گھریلو جھگڑا ہوا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ جھگڑا ایک پورے خاندان کی تقدیر بدل دے گا۔
عاصمہ ناراض ہو کر اپنے دونوں بچوں کو چھوڑ کر گھر چلی گئی۔ بچے روتے رہے، وقت گزرتا رہا۔ جب ندیم گھر پہنچا تو اس کی دنیا اجڑ چکی تھی۔ عاصمہ چارپائی پر بے جان پڑی تھی۔ پولیس کے مطابق اس نے زہریلی گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر ندیم کے اندر باقی بچی ہوئی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ ایک ایسا شخص جو برسوں سے غربت، بھوک، قرضوں، ذمہ داریوں اور محرومیوں سے لڑ رہا تھا، اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے بیوی کا دوپٹہ لیا، چھت سے باندھا اور خود بھی زندگی کی جنگ ہار گیا۔
پولیس اہلکاروں کے مطابق گھر کی حالت انتہائی افسوسناک تھی۔ وہاں کھانے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ غربت نے اس خاندان کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں امید کے چراغ بجھ گئے۔
رات کو عاصمہ کے ورثا گجرات سے آئے اور اس کی میت اپنے ساتھ لے گئے، مگر دو معصوم بچے پیچھے رہ گئے۔ وہ بچے جن کے سر سے ایک ہی دن میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ اٹھ گیا۔ ایک بچہ ابھی ٹھیک سے بولنا بھی نہیں سیکھا ہے اور دوسرا ابھی ماں کی گود کا محتاج ہے۔
آج محمد ندیم کو چک چکوڑہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا، لیکن اس کے بعد سوال باقی رہ گیا
کیا ندیم کو مارنے والا صرف ایک گھریلو جھگڑا تھا؟
کیا ندیم کو محبت نے توڑ دیا؟
یا پھر وہ غربت تھی جو برسوں سے اس کے گھر میں بسی ہوئی تھی؟
وہ غربت جو انسان سے روٹی، عزت، سکون، خواب اور آخرکار جینے کی خواہش بھی چھین لیتی ہے۔
اس المناک و افسوسناک واقعہ کے سب سے بڑے متاثرین ایک پورے خاندان کے ساتھ ساتھ وہ دو ننھے بچے بھی ہیں جو اب زندگی کے سفر پر ماں باپ کے بغیر روانہ ہو چکے ہیں۔
ان سب بچوں کی آنکھوں میں شاید اب تمام حیات یہ سوال باقی رہے گا کہ آخر ان کا قصور کیا تھا؟
از قلم : مسعود چوہدری
کل لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملے کےحوالے سے ایک بہت ضروری اور سمجھنے والی بات یاد رکھیں
اگر خدانخواستہ آپ کے سامنے کسی پر تیزاب یا کوئی تیز کیمیکل پھینکا جائے، تو سب سے پہلے ویڈیو نہ بنائیں، مدد کریں۔
تیزاب کے زخم میں چند منٹ بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ درست فوری مدد چہرہ، آنکھ، جلد اور جان بچا سکتی ہے۔
سب سے پہلے متاثرہ شخص کو حملہ آور اور خطرے والی جگہ سے دور کریں۔
فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کریں اور مریض کو اسپتال لے جانے کا انتظام کریں۔
اگر کپڑے، دوپٹہ، زیور، گھڑی، جوتے یا کوئی چیز تیزاب سے آلودہ ہو تو احتیاط سے ہٹا دیں، لیکن جو کپڑا جلد سے چپک گیا ہو اسے زبردستی نہ کھینچیں۔
متاثرہ حصے پر فوراً صاف بہتا ہوا پانی ڈالنا شروع کریں۔
کم از کم 20 منٹ تک مسلسل پانی ڈالتے رہیں۔
جتنا جلدی پانی شروع ہو گا، نقصان کم ہونے کا امکان اتنا زیادہ ہو گا۔
اگر آنکھ متاثر ہو تو آنکھ کو فوراً پانی سے دھوئیں۔ پانی اس طرح بہائیں کہ کیمیکل دوسری آنکھ یا جسم کے دوسرے حصے پر نہ جائے۔
کسی قسم کا ٹوٹکا نہ لگائیں۔
دودھ، دہی، ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، آٹا، برف، مرہم یا تیل ہرگز نہ لگائیں۔
تیزاب کو کسی دوسرے کیمیکل سے “ختم” کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس سے زخم مزید خراب ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیں:
تیزاب کے زخم میں اصل علاج اسپتال میں ہو گا، لیکن ابتدائی چند منٹ میں بہتا ہوا پانی زندگی بدل سکتا ہے۔
ویڈیو نہیں، پانی۔
تماشا نہیں، مدد۔
تبصرہ نہیں، ایمرجنسی کال۔
یہ بات خود بھی یاد رکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں