”ہمارے وکلاء کو جج کے منتیں کرنی پڑ رہی تھیں کہ ایک دفعہ عمران خان سے ملاقات کروا دی جائے۔ ہم صرف ایک ملاقات کیلئے منتیں کیوں کریں؟ ہمارا مطالبہ عمران خان کے مکمل حقوق کی بحالی ہے۔ ہمارا درد سمجھیں، آپ کے گھر میں بھی جب کوئی پیارا بیمار ہو تو ترجیح ایک بہتر ہسپتال میں اس کا علاج ہوگی۔ آج آپ سب کو وہی درد ہمارے بھائی کیلئے نہیں ہے؟ آپ اس چیز پر قائم رہیں کہ عمران خان کا علاج اور ان کے تمام حقوق بحال ہونے چاہیئیں۔“
علیمہ خان
#ReleaseImranKhan
”ہم عمران خان کے کیسز کیلئے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، جج ڈوگر کے چہرے سے صاف دِکھائی دیتا ہے کہ وہ مکمل مینڈیٹ کیساتھ آئے ہیں کہ ہر حال میں عمران خان کو قید رکھنا ہے۔ اس جج نے ایک دفعہ بھی انسانیت نہیں دِکھائی۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی ہوں کہ ہم ان عدالتوں میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے تو ہمیں ��رک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ میں وکلاء سے بھی پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے انصاف کیخاطر کب کھڑے ہونا ہے؟“
علیمہ خان
#ReleaseImranKhan
🚨 اہم ترین
"جو صورتحال میں نے خود ��پنی آنکھوں سے دیکھی ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے؛ عمران خان کو دنیا سے بالکل کاٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ بچوں سے رابطہ�� ٹی وی، اخبار اور یہاں تک کہ کتابیں پڑھنے پر بھی مکمل سنسرشپ ہے۔ مہینوں سے فیملی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔"
— بیرسٹر سلمان صفدر
ہمارا درد سمجھیں، جب آپ کے گھر میں آپ کا بھائی ی�� والدہ بیمار ہوتی ہیں تو آپ بتائیں سب سے پہلے آپ کی ترجیح کیا ہوگی؟
جو درد آپ کا اپنے بھائی یا والدہ کے لئے ہوتا ہے وہی درد ہمارے بھائی کے لئے کیوں نہیں؟
علیمہ خان نے سچ میں رولا دیا 💔
میرے اکاؤنٹ کی ��یٹ تو تقریبا وفات پا چکی ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں ارہی کہ اس پوسٹ پر لائکس صرف 500 ہیں اور ری پوسٹ بھی چند ہیں پھر اتنے زیادہ ویوز میری پوسٹ پر کیسے اگئے
@grok @Support @elonmusk
۔انا للہ وانا الیہ راجعون
یہ الطاف حسین ہیں ان کا تعلق لاہور سے ہے چھ ماہ پہلے نو مئی کی مقدمہ 1280/23 میں، میں نے ان کو بری کرایا ہے، کوٹ لکھ کے جیل میں ہی یہ شدید بیمار ہو گئے تھے اس کے بعد بس ان کا دوائیوں پر گزارا رہا اور اج خالق حقیقی سے جا ملے۔
🚨🚨"سوشل میڈیا پر عمران خان کی وائرل ہونے والی تصویریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں،
بلکہ وہ جعلی (Fake) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گزشتہ سات ماہ سے قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اور جسمانی مشکلات سے گزر رہے ہیں اور ان کی صحت کافی ناساز ہے۔ ایسی جعلی تصویریں محض عوام کو گمراہ کرنے اور جھوٹی تسلی دینے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، بڑی سے بڑی آفرز دی گئیں، لیکن کپتان کا جواب ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے بجائے 3 بنیادی مطالبات سامنے رکھے:
پہلا مطالبہ: قید میں موجود تمام سیاسی رہنماؤں اور بے گناہ کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ: ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے اور فوری شفاف الیکشن ہوں گے۔
تیسرا اصول: ہم اقتدار میں آ کر کسی سے بدلہ نہیں لیں گے، بلکہ ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
یہ ایک حقیقی مدبر (Statesman) کی نشانی ہے جو ذاتی عناد سے اوپر اٹھ کر ملک کا سوچتا ہے۔
سجاد کے بچے آج بھی اپنے والد کے منتظر۔
تین سال انصاف کی راہ تکتے گ��ر گئے۔
7 مئی کو دیے گئے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرے تاکہ ان سویلین افراد کو فوجی عدالتوں میں مقدمات کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا جا سکے۔
اس فیصلے کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی ملٹری قیدی اپیل کے حق سے محروم ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
عمران خان اور ان کی شریک حیات بشریٰ بی بی پر ناجائز جیل میں ظلم ہو رہا ہے۔ عمران خان کی 8 ماہ سے ملاقات بند ہے۔ ان کے دور میں اگر ایک دن نواز شریف کی ملاقات نہ ہوتی تو بان بان ٹوں ٹوں شروع ہو جاتی تھی۔
سیاسی جدوجہد کی بات پر ہمیں وہ لیکچر نہ دیں جن کی ساری سیاست جنرل ضیاء اور جنرل جیلانی کی گود میں بیٹھ کر کی گئ�� ہو۔
جو ظلم و زیادتی ان لوگوں نے کیے، وقت بدلے گا۔ اگر میں حکومت میں ہوا تو ان کی ناکوں سے اسی طرح خون نہ نکلا جس طرح ہمارے ورکرز کا نکلا ہے تو میں اسمبلی سے استعفیٰ دے کر چلا جاؤں گا۔
"عمران خان کی رہائی کی جدوجہد ہمارے لیے ایک نظریاتی جنگ ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر قربانی، یہاں تک کہ شہادت دینے کے لیے بھی تیار ہیں اور قید و بند کی صعوبتیں ��میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔"
آواز اٹھائیں 🚨
بشریٰ بی بی نے اپنی والدہ کو پیغام بھجوایا ہے کہ انہوں نےمجھ پہ بہت ظلم کیا ہے۔ خان صاحب نے بھی کہا تھا کہ یہ مجھے توڑ نہیں سکتے اس لیے اب وہ میری اہلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بشری بی بی کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے خلاف سوشل میڈیا بھرپور آواز اٹھائیں