سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام :
۱- کل ختم نبوت کے حساس معاملے کے حوالے سے دینی جماعتوں کے اسلام آباد میں احتجاج کا امکان تھا، جس کے نتیجے میں تصادم کا خدشہ تھا اسی لیے اسلام آباد میں اپنا جلسہ ملتوی کیا۔ اگر گزشتہ روز جلسہ کرتے تو سازشیوں کی جانب سے ایک اور 9 مئی ہونے کا خدشہ تھا جبکہ یہ سامنے ہے کہ ابھی تک پہلے والے نو مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی نہیں کروائی گئی۔ ساری پارٹی بالخصوص ورکرز کو جلسہ ملتوی ہونے کا رنج اور غصہ ہے۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ جلسہ ہونا چاہیے تھا، لیکن معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف انتشار سے بچنے کے لیے جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
تحریک انصاف ملک کی واحد جماعت ہے جسے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت نہیں مل رہی۔ میں نے اسلام آباد کا جلسہ آخری مرتبہ ملتوی کیا ہے۔ 8 ستمبر کو کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ اب جو مرضی ہو جائے ہر ضلعے میں جلسہ کریں گے۔
۲-
نواز شریف کا بیک پیک لندن کے لیے تیار ہے، صرف ضروری سامان اٹھانا ہے۔ میں نے کسی فارم 47 کی حکومت سے کوئی بات چیت کی، نہ کروں گا۔ جب بھی ان کو خدشہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات ہوئی ہے ان کو فوری طور پر 9 مئی کا فالس فلیگ آپریشن یاد آ جاتا ہے۔ یہ سب چیف جسٹس فائز عیسی کی ایکسٹینشن کے لیے ہو رہا ہے۔ اس وقت انکی دو گیمز جاری ہیں: اگر یہ فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن نہ دے سکے تو پھر سینیارٹی پر اثر انداز ہو کر اندر سے اپنا بندہ لائیں گے۔ یہ دونوں صورتیں نا قابل قبول ہیں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کریں گے۔
۳-
میں ملک کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، میں نے زیرو سے پارٹی شروع کی اور 28 سال سے آئین کے اندر رہ کر جدوجہد کر رہا ہوں۔ الحمدللہ عوام میں اس قدر مقبولیت ہے کہ مجھے کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں! میری پارٹی کو آٹھ فروری کو 180 سے زیادہ سیٹیں ملیں۔
��یض حمید کا ٹرائل، ملٹری کے کسی اندرونی معاملہ کیوجہ سے ہے تو اپنے ملٹری قوانین کے تحت جو چاہے کریں مگر ۹ مئی کو فیض حمید سے مل کر سازش کا الزام مضحکہ خیز ہے۔ اور اس سے بھی مضحکہ خیز یہ امر ہے کہ یہ ٹرائل بھی اوپن نہیں کیا جا رہا۔ اگر 9 مئی میں فیض ملوث تھا تو اس کا اوپن ٹرائل ہو کیونکہ نہ یہ ملٹری کا اندرونی معاملہ ہے نہ ہی خفیہ انٹرنیشنل معاملہ ہے۔
۹ مئی کا الزام ہم پر لگا ہوا اور ہم ہی یہ چاہ رہے ہیں کہ اس کا اوپن ٹرائل ہو اور اس پر میری پٹیشن بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جسے فائز عیسی دبا کر بیٹھا ہوا ہے۔ اگر کمیشن بن جائے اور دو چیزوں کا تعین ہو جائے کہ مجھے اسلام آباد ہائیکورٹ سے اغوا کا حکم کس نے دیا تھا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو کس نے چرایا تھا تو ۹ مئی کا معاملہ فوری حل جائے گا۔
اگر حمود الرحمن رپورٹ پر عمل ہوجاتا تو ملک میں 3 مارشل لاء نہ لگت�� اور نہ ہی آج غیر اعلانیہ جزوی مارشل لاء نافذ ہوتا بلکہ آج ملک میں جمہوریت ہوتی۔
۴- رجیم چینج کے بعد ہماری پارٹی کے لوگوں کو پیغام دیا گیا کہ ہم عمران خان اور پی ٹی آئی کا نام و نشان مٹا دیں گے، اسی لئے چند لوگ ان کے ساتھ چلے گئے اور تحریک انصاف کے خلاف پریس کانفرنس کی۔ میں لا الہ الا اللہ کا ماننے والا ہوں۔ کامل یقین ہے کہ عزت اور ذلت اللہ دیتا ہے اور آج بھی میں اس آزمائش پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، اور صبر سے کام لیتا ہوں، کیونکہ اس آزمائش کو اللہ کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ جب آپ مشکل میں ہوتے ہیں تو یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے، اللہ نے قران میں صبر کا درس دیا ہے، اللہ فرماتا ہے کہ مشکل وقت، آپ کی آزمائش ہے اور مجھے پتہ ہے کہ میں اللہ کی مرضی سے جیل میں ہوں کیونکہ اللہ نے یہ میرے لئے ایسے ہی لکھا ہوا تھا۔ اس کامل ایمان کا تقاضا ہے کہ نہ میں گھبرایا ہوں نہ میری قوم گھبرائے۔ ہم اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری و ساری رکھیں گے او�� انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ اب پوری قوم ۸ ستمبر کے جلسے کی تیاری کرے اور اسے کامیاب بنائے۔
🚨Today at @DropSiteNews we're publishing some truly unbelievable audio we've put to animation.
A man in Pakistan was abducted by half a dozen men in black and taken to a jail cell. The man's brother, who lives overseas, then got a phone call from his brother's phone. It was his captors. The call is recorded.
What did they want? For the overseas brother to *delete tweets* and stop posting about Imran Khan for 30 days. He initially refused, and they beat his brother, making sure he could hear.
Please give a listen and share widely.
عمران خان سخت پہرے میں قید ہے۔ ہر وقت کیمرے اسے مانیٹر کرتے رہتے ہیں۔ تین کرنل تین شفٹوں میں اس پر نظر رکھتے ہیں۔ اس سے ملنے کیلئے جانے والوں کو کاغذ، پین تک رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ عمران خان کی نہ تو تصویر آنے دی جاتی ہے اور نہ ہی آواز۔ اس کے باوجود عاصم منیر دن میں کئی مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس سے پوچھتا ہے کہ عمران خان کی اگلی چال کیا ہوسکتی ہے؟
وہ دونوں اپنی دماغی استعداد کے حساب سے عاصم منیر کو عمران خان کی ممکنہ چال کے بارے میں بتا دیتے ہیں۔
پھر جب عمران خان اپنا پتہ کھیلتا ہے تو وہ کمپنی کے اندازوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ پھر عاصم منیر دوبارہ ڈی جیز کو کال ملاتا ہے اور کہتا ہے:
کنجرو، کدی تے عقل استعمال کرلیا کرو ۔ ۔ ۔
وہ آگے سے منہ سے کوئی جواب نہیں دیتے لیکن دل میں کہتے ہیں:
پین یکا، تُو کیہڑا آئن سٹائن دا سالا ایں ۔ ۔ تُو وی ساڈے نالدا ای ایں ۔ ۔ ۔
20 Years of Pakistan in One Frame
Generals Ruling Pakistan for last 77 years
Enjoying Power, Wealth, Resources
And Yet no shame
This image was intentionally published to spit on this Nation’s Face
They aren’t Heroes but the opposite tyrant rulers, dictators (one GumNaam General is missing, maybe he eventually went to hiding)
Haters will say it’s a deep fake and I created it using AI
Former Prime Minister Imran Khan's Message from Jail
Date: August 8, 2024
1.
On May 7, 2024 the DG ISPR stated in his press conference that they would not forgive us for the events that unfolded on May 9, 2023.
I want to make this absolutely clear; our stance is unequivocal - forgiveness is sought by the oppressor, not the oppressed. On May 9, I was abducted by hundreds of paramilitary personnel that stormed the Islamabad High Court. My abduction was declared unconstitutional and illegal by the Supreme Court of Pakistan. In the protests that followed, dozens of our workers were martyred, and subsequently hundreds abducted, and thousands arrested. The sanctity of homes was violated, and businesses destroyed merely because of political affiliation. And therefore, it is they who should apologize to me and Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI).
2.
My statement has been deliberately aired out of context. My position has remained the same as it was before: May 9 was a false flag operation, and hence the CCTV footage has been concealed to hide the crime. My demand remains that the CCTV footage should be made public, and based on this, an investigation should be carried out transparently. Dr. Yasmin Rashid, who was outside the CC House on May 9 as a representative of PTI can be seen in several videos instructing the workers to remain peaceful. This proves that no leader of our party was involved in vandalism and arson on May 9. I have always instructed my party and workers to protest peacefully wherever they may be in Pakistan. Our Constitution gives us the right to hold peaceful protests anywhere, including inside Cantts or GHQ.
If transparent investigations reveal that any PTI-affiliated leader was involved in acts of arson and vandalism, they shall be treated in accordance with the law.
3.
I’m predicting that this government will not last more than 2 months, and therefore, the names of Nawaz Sharif, Shehbaz Sharif, and Asif Ali Zardari should be placed on the Exit Control List (ECL) so they cannot escape [yet again].
Whether they keep me in prison or file even more bogus cases on me, I will not back down or make a deal with these crooks; deals are made by those who have committed a crime. My money isn’t stashed abroad, nor I have any property overseas. I have fought all the cases against me, and will continue to do so if needed. The sole purpose of filing cases against me and my wife was to tear PTI apart.
4.
The desire for negotiations should not be interpreted as a sign of weakness. For me, my country Pakistan comes first, and for its political and economic interests, I will do whatever I can to reduce tensions. Negotiations will be conditional and will only take place with the real decision-makers. The crooks in the government are ready to raze the country to the ground, as long as it prolongs their reign of power. These opportunists are provoking the army to dismantle PTI.
However, is it possible to eliminate a party that represents 90% of the population? Anyone who has such a dream should learn from history.
5.
Just as Western courts have given Israel an open permission to commit a genocide of Palestinians, Qazi Faez Isa has fully collaborated with the state in perpetrating oppression against us and has fully aided this tyranny and fascism. It is on the basis of this bias and lack of justice that we have long requested Qazi Faez Isa's recusal from my cases. The way Qazi Faez Isa facilitated the PDM and the Election Commission by revoking our electoral symbol in the February 8 elections is known to all.
1/2
لیفٹنٹ جنرل محمد عامر کو متحدہ عرب امارات میں سفیر نامزد کردیا گیا۔ یاد رہے کہ اس کا نام بھی عاصم منیر کے ساتھ آرمی چیف کی لسٹ میں آیا تھا اور اسے زرداری کی سپورٹ حاصل تھی کیونکہ یہ سابق دور میں زرداری کا ملٹری سیکرٹری رہا تھا۔
امارات میں چونکہ زرداری کا "سٹریٹجک" انٹرسٹ ہے، اس لئے اس نے اپنا ٹاؤٹ بطور سفیر نامزد کروا لیا ہے۔
ایک لیفٹنٹ جنرل سے ہم سفارتکاری بھی کروا لیتے ہیں، ٹی ٹی اے کا چئیرمین بھی بنا لیتے ہیں، نیشنل ٹیکنالوجی کونسل بھی سونپ دیتے ہیں، پبلک سروس کمیشن کی سربراہی بھی سے دیتے ہیں، نیب کا چئیرمین بھی بنا لیتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سے سویلین شعبوں میں کھپا دیتے ہیں۔
ایک عہدے سے ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو دوسرا تیار ہوتا ہے۔
یہ ناسور بن کر ملک کی جڑوں میں بیٹھ چکے ہیں!!!
Congratulations to Pakistan's Olympic flag bearer Arshad Nadeem for an absolute brilliant javelin performance winning a gold medal for Pakistan.
His persistence & perseverance has done him & the nation proud. It is the first time any Pakistani has won an individual gold for athletics in the Olympics. He is an inspiration for our younger generation.
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام
مورخہ 8 اگست 2024
۱۔
۷ مئی کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ۹ مئی پر ہمیں معافی نہیں دیں گے۔ ہمارا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے کہ معافی مظلوم نہیں، ظالم مانگتا ہے۔ ۹ مئی کو عدالت کے شیشے توڑ کر مجھے اغوا کیا گیا جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے- ہمارے درجنوں کارکنان کو شہید، سینکڑوں کو اغواء اور ہزاروں کو گرفتار کیا ��یا، گھروں کے تقدس کو پامال کیا گیا اور صرف سیاسی وابستگی کے جرم میں لوگوں کے کاروبار تباہ کر دئیے گئے۔ اس فسطائیت کے تناظر میں معافی تو مجھ سے اور تحریک انصاف سے مانگنی چاہیے-
۲-
میرے بیان کو بلا سیاق و سباق چلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میرا موقف شروع سے وہی ہے کہ ۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، جس میں جرم کو چھپانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی گئی۔ میرا مطالبہ اب بھی وہی ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو منظر عام پر لایا جائے اور اس کی روشنی میں شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جو بطور تحریک انصاف کی نمائندہ ۹ مئی کو کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، انہیں متعدد ویڈیوز میں کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایات دیتے سنا جا سکتا ہے- یہ ثابت کرتا ہے کہ ۹ مئی کو ہماری جماعت کا کوئی رہنما توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں شامل نہیں تھا- میر�� طرف سے میری جماعت اور کارکنان کو ہمیشہ ایک ہی ہدایت ہوتی ہے کہ پاکستان میں جہاں بھی احتجاج کریں پر امن احتجاج کریں۔ کنٹونمنٹ کا علاقہ ہو یا جی ایچ کیو ، ہمیں پاکستان کا آئین یہ حق دیتا ہے کہ ملک میں جب بھی ظلم ہو آپ کہیں بھی جا کر پر امن احتجاج کر سکتے ہیں - اگر شفاف تحقیقات کے نتیجے میں تحریک انصاف سے وابستگی رکھنے والا کوئی رہنما جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث قرار پایا گیا تو اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔
۳-
جیل میں بیٹھ کر پیشگوئی کر رہا ہوں کہ حکومت کے پاس 2 ماہ سے زیادہ وقت نہیں۔ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے نام ای سی ایل میں ڈالیں، یہ بھاگ نہ جائیں۔ کیسز بنائیں یا جیل میں رکھیں، میں ڈیل کرنے کو تیار نہیں؛ ڈیل وہ کرتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو-میرا کوئی پیسہ باہر نہیں پڑا نہ کوئی جائیداد،میں نے سارے کیسز لڑے ہیں، مزید بھی لڑوں گا،مجھ ��ر اور میری اہلیہ پر کیسز کرنے کا مقصد پی ٹی آئی کو توڑنا تھا۔
۴-
مذاکرات کی خواہش کو کمزوری سے تعبیر نہ کیا جائے۔ میرے لیے میرا ملک پاکستان مقدم ہے اور اسی کے سیاسی و معاشی مفاد کے لیے میں کشیدگی میں کمی کا حامی ہوں۔ مذاکرات مشروط اور اصل فیصلہ سازوں سے ہی ہونگے۔ حکومت میں موجود ریلو کٹے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے ملکی مفاد کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں۔ یہ ریلو کٹے فوج کو ورغلاتے ہیں کہ تحریک انصاف کو ختم کر دو۔ کیا ۹۰% عوام کی نمائندہ جماعت کو ختم کرنا ممکن ہے؟ جو بھی یہ خواب دیکھ رہا ہے، اسے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔
۵-
جس طرح مغربی عدالتوں نے اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی کھلی اجازت دی ہوئی ہےاسی طرح قاضی فائز عیسٰی نے ریاست کے ساتھ ہم پر ظلم کرنے میں مکمل شراکت داری کی ہے اور ان کا اس ظلم اور فسطائیت میں پورا پورا ساتھ دیا ہے- اسی تعصب اور انصاف کی عدم فراہمی کی بنیاد پر ہم نے کافی عرصے سے قاضی فائز عیسٰی کی میرے مقدمات سے علیحدگی کی درخواست دے رکھی ہے۔ آٹھ فروری کے انتخابات میں بھی ہماری پارٹی سے بلے کا نشان چھین کر قاضی فائز نے جس طرح پی ڈی ایم اور الیکشن کمیشن کی سہولت کاری کی ہے وہ سب کے سامنے ہے-
1/2
میرے بھائیوں پروفیسر مظہر اور پروفیسر ظہور کو آج سے دو ماہ قبل 6 جون کو لاہور سے ایجینسیز نے اغوا کیا، اور آج تک نہیں چھوڑا
لاہور ہائی کورٹ میں پہلی چند پیشیوں کے بعد مسلسل خانہ پُری چلتی رہی کیونکہ چند گنتی کے غیرتمند ججز علاوہ باقی اغواکاروں کے سہولت کار بننے کو ترجیح دیتے ہیں اور بس لمبی تاریخیں ڈال کر کیسز لٹکاتے رہتے ہیں
میرے والد نے چیف جسٹسز سمیت تمام ججز کو خط میں بھی ان کیسز کے حوالے سے تفصیلات بتائیں لیکن ان سب کو اپنی نوکریوں کے حوالے سے جاری لڑائیوں میں ذیادہ دلچسپی ہے
“کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابت۔۔۔
مشورے کرتا ہے منصف جو گناہ گار کے ساتھ”
سابق وزیراعظم عمران خان کا عدالت سے پیغام:
(۳۰ جولائی ۲۰۲۴)
پاکستان تحریک انصاف ۹۰ فیصد اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ فارم ۴۷ کے سہارے آئی ہوئی کٹھ پتلی حکومت بطور ادارہ فوج اور قوم کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بگاڑ کا سبب بننے والے اقدامات اور اشخاص پر تنقید کی۔ ماضی میں بھی چند اشخاص کے بند کمروں کے فیصلوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے پیچھے جنرل ضیاء تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے پیچھے جنرل یحٰیی خان کا ہاتھ تھا۔ اگر آپ ان غلطیوں پر آنکھیں اور تنقید بند کر دیں گے تو یہ ملک سے بالعموم اور فوج سے بالخصوص ظلم ہو گا۔ کوئی بھی فرد واحد ادارہ نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی بھی ادارے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ گھر کا کوئی بچہ بگڑ جائے تو اس پر اصلاح کی غرض سے تنقید کی جاتی ہے اور یہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے۔
فارم ۴۷ کٹھ پتلی مافیا سے کوئی بات چیت ہو گی نہ مذاکرات۔ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل نافذ ہے۔ سیاسی اور نتیجتاً معاشی عدم استحکام سے ہر طبقہ ب��ی طرح متاثر ہے۔ ہر عہدے پر انہی کے نمائندے مسلط ہیں۔ محسن نقوی اس کی سب سے بدترین مثال ہے۔ محسن نقوی سے کبھی بات نہیں کروں گا،اس نے آئی جی پنجاب سے ملکر ہمارے لوگوں پر ظلم کیا۔ یہ ظل شاہ کی موت کے ذمہ دار ہیں، یہ بیرون ملک کہیں نہیں جا سکے گا، باہر ممالک میں تشدد سے نفرت کی جاتی ہے۔ مریم نواز نے آئی جی پنجاب کو اسی لئے رکھا ہوا ہے کہ اس نے پی ٹی آئی پر ظلم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کٹھ پتلی حکومت کے بجائے اصلی فیصلہ ساز فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے، فوجی قیادت اپنا نمائندہ مقرر کرے تو ہم مشروط مذاکرات ��ریں گے۔
مذاکرات کے لئے پہلا مطالبہ ہے کہ ہمارا چوری کیا گیا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ مذاکرات کے لئے دوسرا مطالبہ اسیران کی رہائی اور جھوٹے مقدمات کا خاتمہ ہے۔ تیسرا مرحلہ صاف شفاف الیکشن کا انعقاد ہے جس کے بغیر ملک کی سالمیت خطرے میں ہے-
ملک میں غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ میرے جیل کے کمرے کی صفائی کرنے والے کا بجلی کا بل ۴۰ ہزار آیا ہے۔ بجلی کے بلوں اورٹیکسسز میں ہوشرباء اضافہ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کی حمایت کرتا ہوں۔میری پارٹی قیادت اور کارکنان کو ہدایات ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کریں۔
جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ یہ انسانیت کی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ہمارے ۲۵ ورکرز اور ان کے اہل خانہ اب تک غائب ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کوارڈینیٹر احمد جنجوعہ کو گھر سے گرفتار کرکے دہشتگرد بنا دیا گیا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے نکلنے والے بلوچ عوام کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور عوام میں بڑھتی ہوئی نفرت اور احساس محرومی کا سدباب کرنا چاہیے۔
میں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ان کا تعصب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا تو عامر فاروق نے اسے درست قرار دیا۔ میرے اور بشریٰ بی بی کے سارے کیسز کی سماعت عامر فاروق ہی کرتے ہیں۔ وہ مجھے ٹیریان کیس میں پھنسانا چاہتے تھے۔ جب میں ان پر عدم اعتماد کا واضح اظہار کر چکا ہوں تو انہیں اصولی طور پر میرے، میری پارٹی اور میری اہلیہ کے تمام کیسز سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔
یہ دونوں جماعتیں سمندر میں ڈوب رہی ہیں اور جوتے کے سہارے لٹک رہی ہیں جس پر ۹ مئی کا ٹیگ لگا ہے۔ اس لیے یہ ملک میں انتشار اور تفریق پیدا کر کے اپنے جعلی اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔ ۲۸ سالہ جدوجہد میں کبھی توڑ پھوڑ کی بات نہیں کی۔ ۹ مئی واقعات میں ہماری بے گناہی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھپی ہے۔ اگر ۹ مئی میں تحریک انصاف کا کوئی بندہ ملوث ہے تو اسے ضرور سزا دیں-
خوفزدہ جعلی سرکار ت��ریک انصاف کو دبانے کے لیے ہر غیر جمہوری ہتھکنڈہ استعمال کر رہی ہے۔ ساری جماعتیں جلسے کر رہی ہیں ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ۵ اگست کو ایک بہت بڑا جلسہ صوابی میں کر رہے ہیں۔ اگلا جلسہ اسلام آباد میں کریں گے۔ عوام تیاری کرے۔
Urgent attention!
Currently, the Pakistani Army and FC have launched another brutal and violent attack on the peaceful Baloch National Gathering sit-in in Gwadar.
Surrounding the sit-in from all sides, they have indiscriminately fired upon peaceful protesters and subjected them to severe violence, resulting in multiple injuries and the arrest of hundreds.
At this moment, the Pakistani state is committing extreme oppression and tyranny against peaceful protesters in Gwadar. The entire city has been held hostage at gunpoint by the Pakistani military. We are not being allowed to evacuate the injured, nor are ambulances being given passage.
Now, the scenes in Gwadar are nothing short of apocalyptic!
I urge you all to immediately write to human rights organizations, journalists, and anyone concerned with human rights, as thousands of lives are currently at extreme risk in Gwadar.
#BalochNationalGathering
#بلوچ_راجی_مُچی
اظہر مشوانی سوشل میڈیا سے وابستہ ہے۔ شہباز گل ولاگ کرتے ہیں۔ ملک برادران تحریک انصاف کی میڈیا کوآرڈینیشن سے وابستہ ہیں۔ عطاء ، عروبہ، احمد اور فرید بھی سوشل میڈیا کے لوگ ہیں۔
تازہ مقدمات و گرفتاریاں کسی سیاستدان کسی وکیل نہیں سوشل میڈیا سے وابستہ افراد یا انکے اہلخانہ کی ہورہی ہیں۔ کمپنی کے سروں پر سوشل میڈی�� سوار ہوچکا ہے۔ جسے مچھر کی طرح حقیر سمجھتے تھے وہ نمرودوں کے دماغوں میں گھس گیا ہے۔
انجام بھی نمرود سے زیادہ مختلف نہیں ہونے والا۔ اس مچھر کو مارنے کے چکر میں اپنے سروں پر جوتے مرواتے مرواتے خود مر جائیں گے۔
میں سوشل میڈیاکےاپنےتمام جنگجوؤں کاشکریہ اداکرتاہوں جنہوں نےحکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کیخلاف ہماری جنگ کو دلیری سےسماجی میڈیاکےتمام پلیٹ فارمز تک توسیع دی۔🇵🇰کی خودمختاری وجمہوریت کی ہماری اس تحریک کوآگےبڑھاتےرہئے۔آپ ہمارےصف�� اوّل کے سپاہی ہیں!
#MarchAgainstImportedGovt
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
۲۳ جولائی ۲۰۲۴
۱-
پرسوں میڈیا پر مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے عوام کو جی ایچ کیو جا کر احتجاج پر اکسایا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی تقریباً ۳ دہائی پر محیط تاریخ میں پرتشدد احتجاج کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران تحریک انصاف کے خلاف بدترین ہتھکنڈے استعمال کر کے تشدد پر اکسایا گیا۔ نومبر ۲۰۲۲ میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور میری مرضی کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی انکار کیا گیا۔ اس کے بعد ۲ مرتبہ میری رہائش گاہ پر عسکری ادارے نے حملہ کیا، ایک مرتبہ میری پیشی کے موقع پر مجھے قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنا کر سادہ لباس میں لوگوں کو چھوڑا گیا۔ صرف یہی نہیں ۹ مئی کو عوام کو انتشار دلانے کے لیے ایک سابق وزیر اعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کو جس ہتک آمیز انداز میں اغواء کیا گیا، وہ بھی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکنان کی سیاسی تربیت میں تشدد کا کوئی عنصر شامل نہیں۔ تحریک انصاف سیاسی، آئینی و قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
۲-
۹ مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ جس نے ۹ مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی، وہی ۹ مئی کے حقیقی ذمہ داران ہیں۔ ان کی عقل کا یہ عالم ہے کہ یہ ۹ مئی کو امریکہ کے کیپیٹل ہل کے احتجاج سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ وہاں باقاعدہ شفاف تفتیش اور سی سی ٹی وی کے باریک بینی سے جائزے کے بعد صرف ملوث افراد کو سزا دی گئی، پوری سیاسی پارٹی “ ریپبلکن” کو کچھ نہیں کہا گیا۔ لیکن یہاں نہ صرف ثبوت مٹانے کی غرض سے فوٹیج غائب کر دی گئی بلکہ پورے پاکستان میں ایکشن لیا گیا ہے۔ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے مختلف علاقوں کے لوگ جنہوں نے احتجاج میں حصہ نہیں لیا ان کو بھی اُٹھایا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امریکہ میں سابق صدر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو سیکرٹ سروس کی چئیرپرسن نے ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفی دیا جبکہ پاکستان میں جس سابق وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ ہوا، “سیکرٹ سروس” نے اسی وزیراعظم کو قید کر دیا۔
۳-
پوری پاکستانی قوم کو دہشتگرد کہہ کر قوم کو متنفر کیا جا رہا ہے۔ ۷۰ کی دہائی میں جینے والے چند افراد جو اس امر سے یکسر نابلد ہیں کہ سوشل میڈیا کام کیسے کرتا ہے، وہ ڈیجیٹل دہشتگردی کے لقب بانٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد آبادی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کی ۹۰ فیصد عوام نے ۸ فروری کو تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا تھا، ان سب کو اگر ڈیجیٹل دہشتگرد کہا جائے گا تو فوج اور عوام کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوگی۔ اور یہ نفرت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ جو بھی لوگ یہ کررہے ہیں ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ۱۹۷۱ میں بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ 25 مارچ 1971 کو جب ڈھاکہ کے اندر یحییٰ خان نے لوگوں کی بڑی تعداد کے خلاف آپریشن کیا تھا تو اس کے نتائج ملک کیلئے اچھے نہیں نکلے۔اب بھی اگر پاکستان کی اکثریت آبادی کو دہشتگرد کہا جائے تو اس کے ملک کیلئے خطرناک نتائج نکلیں گے۔
۴-
ملک، حکومتیں اور معاشرے اخلاقیات کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں باقی کچھ نہیں رہتا۔ آج لوگ اگر آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں تو وہ صرف آئین کی بالادستی کی بات کررہے ہیں۔ آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنا کوئی غداری نہیں ہے۔ یہ جو مضحکہ خیز کیسز بنائے جارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لوگ بالکل پر امن طریقے سے کام کررہے تھے اور جب آپ ان کو پر امن طریقے سے کنٹرول نہیں کر سکے تو پھر آپ نے ان کے خلاف فسطائیت کے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے۔
۵-
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں جلسے کی قیادت کریں۔ پوری قوم حقیقی آزادی کے حصول کے لیے اور ملک میں رائج ظالمانہ اور فسطائی نظام کے خلاف اس جلسے میں بھرپور شرکت کی تیاری کرے۔
فائر وال بمقابلہ ‘فائز وال’ ۔۔
فائز وال لگا کر بلّا چھینا تو عوام نے کدو گوبھی بیلچے پر مہریں لگا کر فائز وال توڑ دی۔
فائز وال کے ذریعے ہی دھاندلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن ججز ڈٹ گئے اور فائز وال پھر ٹوٹ گئی۔
اب فائر وال کے ذریعے عوامی رائے کنٹرول کرنے کی کوشش ہے لیکن جس عوام اور عدلیہ نے ‘فائز وال’ توڑ دی انکے لیے فائر وال بھی توڑنا مشکل نہیں ہوگا۔