گلگت بلتستان انتخابات نتائج کے بعد سے نواز لیگی سوشل میڈیائی ورکر اپنی جماعت پر دل کھول کر ثواب سمجھ کر تنقید تیر چلا رہا ہے اور مہنگائی کے ایشو پر اپنی حکومت کو لتاڑ رہا ہے اور اس مباحثہ سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ لیگی ووٹر نہ تو اندھی تقلید میں پاگل ہو کر کلٹ طرح اپنے لیڈران کی پوجا پرستش کرتا ہے بلکہ جماعتی خرابیوں پر کھل کر تنقید کرتا ہے اور یہی جمہور کی نشانی ہے
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
منجی کا ترٹ گیا ہے پاوا خبر
اور ناظرین اس وقت نوازلیگ گلگت میں آگے جارہی ہے اور اسی وقت آزاد کشمیر میں ریا��ت ہندوستان امن کیمٹی کی تہہ لگارہی ہے اور اسی وقت خواجہ آصف نہر میں چھلانگ لگا چکے ہیں اور ٹھنڈا ٹھار ہندوانہ کھاچکے ہیں اور اسی وقت پاء کیمرون زیورخ کی ہواؤں میں سابق مادر زلت جمائما پر برتری حاصل کئے ہوئے چاروں شانے چت کرچکا ہے جبکہ اسی وقت لطیف پاکپتنی لوڈشیڈنگ باعث “ ویڑے “ میں بغیر قمیض گھوم رہا ہے
آگے کا حال جاننے کیلئے جُڑے رہیں
شاداب نے بولنگ میں کٹ کھائی اور پھر یاری دوستی گینگ نے اسکو گالیوں سے بچانے کے لئیے بیٹنگ کے لئیے بھیجا ہی نہیں اور چھٹے نمبر پر پہلا میچ کھیلنے والے عرفات منہاس کو اسکی جگہ بھیجا. پکڑو اس پین لن شیطان مولوی ثقلین کو