پاکستان تحریک انصاف کا ردِ عمل:
پاکستانی عوام نے بے نامی جائیدادیں سنی ہونگی، بے نامی بینک اکاؤنٹس بھی دیکھے ہیں اور بے نامی لین دین بھی بہت دیکھ چکے ہیں مگر ملک کے سیاسی کباڑ خانے سے پچھلے کچھ برس برس میں ایک نیا تماشہ بھی نکلا ہے، ایک بے نامی سینیٹر! یہ وہی شخص ہے جو ہر وقت پھٹے ہوئے مائیک کی طرح مسلسل شور مچاتا رہتا ہے، اور جس کی پوری سیاست صرف غیر مہذب زبان، دھمکیوں اور بازاری جملوں پر کھڑی ہے۔
اس بے نامی سینیٹر نے جو رکیک، گھٹیا اور لچر زبان استعمال کی، وہ اس کے اپنے ذہنی معیار اور "غیر سیاسی" ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کل تک یہی شخص عمران خان کے قدموں میں بیٹھ کر انہیں اپنا ’’والد جیسا‘‘ قرار دے کر سیاسی سایہ تلاش کرتا تھا، اور آج اپنی سیاسی یتیمی چھپانے کے لیے اسی عمران خان اور ان کی فیملی پر حملہ آور ہے۔
عمران خان اور انکی اہلیہ محترمہ بشریٰ عمران صاحبہ جو اس وقت سیاسی انتقام پر مبنی ڈھائی سو سے زائد جھوٹے مقدمات بھگت رہے ہیں انکے بارے اس طرح کی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔
عمران خان سر جھکانے کے بجائے سینہ تان کر کھڑے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ بے نامی کردار اپنی پوری زندگی دوسروں کے اشاروں پر بول کر گزارتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے منہ سے نکلنے والے ہر جملے میں بدزبانی ہے، منفی سوچ ہے اور ایک شدید خوف چھپا ہوا ہے۔
اس شخص کا عدالت کے فیصلے کے بارے میں ’’ایسی کی تیسی‘‘ کہنا کسی سیاسی جماعت یا خاندان کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست عدالتِ عالیہ کی توہین ہے، پہلے بھی یہی بے نامی کباڑی سینیٹر سپریم کورٹ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ چکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی عمران خان کی فیملی، وکلاء اور رفقاء کی ملاقاتوں کو بنیادی حق قرار دے چکی ہے۔ اسکے باوجود عدالت کے احکامات کی تذلیل کرنا اور فیصلوں کو روندنے کی دھمکی دینا نہ صرف جرم ہے بلکہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ یہ شخص خود کو قانون سے بڑا سمجھتا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کے بارے میں جو بازاری زبان اور دھمکیاں دی گئیں، وہ لاقانونیت اور سیاسی غنڈہ گردی کا ثبوت ہیں۔ ایک غیر منتخب، بے اختیار، بے مقصد سینیٹر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوامی مینڈیٹ کے حامل وزیراعلیٰ کو بیہودہ دھمکیاں دے۔ ایسا رویہ نہ سیاسی ہے، نہ اخلاقی اور نہ ہی قانونی۔
رہی بات اُس کے بلند بانگ دعوؤں اور گیدڑ بھبکیوں کی تو قوم جانتی ہے کہ یہ اس بے نامی شخص کی صرف ٹویٹر اور ٹاک شوز کی آوازیں ہیں اور حقیقی سیاسی وزن سے خالی۔
جنہیں اپنی پہچان بنانے کے لیے دوسری طاقتوں کے کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے، وہ سیاسی رہنما نہیں، سیاسی بھانڈ ہوتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف یہ بھی واضح کرتی ہے کہ عمران خان کی عزت، انکی فیملی کی حرمت، اور عدالتوں کے فیصلوں کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ فیملی ملاقات کو سیاسی کہہ کر روکنے کی کوشش دراصل اس ذہنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے جو ان قوتوں کو عمران خان کے بڑھتے ہوئے عوامی اعتماد سے لاحق ہے۔
عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون زبان درازی کر رہا ہے، کون عدالتوں کو للکار رہا ہے، کون دھمکیوں کے ذریعے سیاسی ماحول کو آلودہ کر رہا ہے، اور کون جمہوری قدروں پر کھڑا ہے۔
وقت آنے پر فیصلہ بھی عوام ہی کریں گے اور وہ فیصلہ ہمیشہ عمران خان کے حق میں آیا ہے، اور آئندہ بھی آئے گا۔
منجانب
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں” - عمران خان
My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.
میں تمام جمہوری راستے اور تمام فورمز سے رجوع کر چکا ہوں ،
اب میڈیا مجھے بتائے کہ میں کیا کروں ؟
مجھے رائے دیں
میرے حساب سے تو میرے پاس اب دو راستے ہیں،
ایک شہبازشریف والا راستہ اور دوسرا احتجاج کا راستہ ،
ڈگی میں جاؤں گا نہیں اور سڑکوں پر آنے سے مجھے کوئی روک نہیں سکتا
لیکن جب میں سڑکوں پر آوں تو آپ میڈیا والے گلہ نہ کرنا ،
سہیل خان آفریدی کی صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو
@SohailAfridiISF
ہرمیت سنگھ جی آپ پر بدترین تشدد کا سن کر شدید مایوسی اور تکلیف ہوئی۔ رب سوہنا آپ کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے یہاں واقعی دہرا معیار ہے۔ مڈل کلاس سے کھڑا ہونے والا کوئی بھی شخص اس نظام کو تب تک قبول نہیں ہوتا جبتک کہ وہ اس ایلیٹ کلاس کا سہولتکار نہ بن جائے جو بند کمروں میں اپنے مفاد کی خاطر ملک کی قسمت کے فیصلے کرتی ہے۔ یہ ہمیں صحافی تو کیا عام انسان تک نہیں سمجھتے۔
Strongly condemn the shameful treatment of my aunts outside Adiala Jail last night. The Pakistani government and its handlers have crossed every moral and legal line.
Attacking unarmed women, dragging them on the road and unleashing police force in darkness is the behaviour of a regime terrified of accountability. This fascist approach will not break our family and it will not silence the nation standing for justice.
"کتنے بے غیرت ہیں آپ"
والے کدھر ہیں؟
کرپشن کا پیسہ بہن اور بیٹی کے نام پر رکھا گیا،گرفتاریاں ہوئیں تو سب کو عورت کارڈ یاد آگیا!
آج وزیراعظم خان کی اہلیہ کی تذلیل عدت کیس سے کی گئی!
کالمز پر پوری ٹرانمیشن کروائی گئیں!
کل انکی بہنوں پر گندے پانی سے نورین آپا کوسڑک پر گھسیٹنے سے لے کر ہر طرح کی تذلیل کی گئی!
وہ بھی صرف ایک ملاقات سے روکنے کے لیے!
کسی کی غیرت نہیں جاگی!
دوہرا معیار
اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جو کچھ اڈیالہ کے باہر ہوا اس میں مریم نواز،نوازشریف ،زرداری ،شہبازشریف ،بلاول اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی آشیرباد شامل نہیں تو وہ اپنے دماغ کا علاج کروائے
وقت آئے گا تو ظلم کرنے والے اور کروانے والے سب حساب دیں گے انشااللہ
میں کھڑی تھی کہ پیچھے سے مجھے پولیس والی نے بالوں سے پکڑ کر زمین پر پھینکا باقی ویڈیو میں آپ لوگ دیکھ سکتے کیا کیا۔نورین خان نیازی
یہ ماں، بیٹی ،بہن ،عورت ہیں،عدالت کے حکم پر بھائی @ImranKhanPTI کو ملنے گئیں اتنا قصور اور ظلم کی انتہا!
جیئو شیر جوانو، کیا مقابلہ کیا ہے رات تم لوگوں نے جیل کے باہر بیٹھی نہتی بزرگ عورتوں سے، بجلی بند کر کے تشدد کیا تاکہ کسی کو کچھ نظر نہ آئے، یہ ہے تمہاری مردانگی؟ یخ رات میں پہلے پانی پھینکا اور پھر آپریشن کر کے انہیں گرفتار کر لیا، بس مریم اور بلاول کو نہ بھولیں جن کے مستقبل کے سنگھاسن کو بچانے کیلئے دو جماعتیں یہ سب قربانی دے رہی ہیں اور فسطائیت کے نظام کی سہولتکاری کر رہی ہیں