یقین کریں! میں نے پرویز مشرف دور سے لے کر آج تک سارے دور کوور کئے ہیں، آج تک کسی سیاسی راہنما سےاسٹیبلشمنٹ کو خوف زدہ نہیں دیکھا! پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کو اتنا خوف زدہ دیکھا ہے، وہ صرف ایک لیڈر ہے جو اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے: عمران خان ! اسد طور
@AsadAToor
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan #ImranKhan
کہانی بس اتنی سی ہے کہ حالات خراب کرنے کی وجہ حکومت،معاملات عدالتوں تک پہنچانے کی وجہ حکومت،عدالتی توہین کی وجہ حکومت،PTI کو لانگ مارچ تک پہنچانے کی وجہ حکومت،مذاکرات ڈیڈ لاک کی وجہ حکومت اور اب آگے جو کچھ بھی ہوگا اس کی وجہ بھی حکومت،باقی سب قصے،کہانیاں اور افسانے ہیں۔۔
کبھی یہ نہ سوچو کہ ہارو گے تو کیا ہوگا، ہمیشہ یہ سوچو کہ جیتو گے تو کیا ہوگا! جیت گئے تو آزادی، نیا پاکستان، حقوق، آئین و قانون کی بالادستی، ہنستا مسکرتا خوف سے آزاد معاشرہ۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کا سب سے عظیم لیڈر عمران خان! موت برحق ہے، ایک دن آنی ہے لیکن زندگی جتنی بھی ہے، اسے رائیگاں نہ جانے دیں: خرم ذیشان
@khurramzeeshan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
“حکومتی وفد سے تین سوال کئے گئے جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ راجہ ناصرعباس کا نے پوچھا کیا آپ اپنے لیڈر سے مشاورت کے بغیر فیصلہ کرسکتے ہیں؟ اسکا کوئی جواب نہیں تھا۔۔ دوسرا سوال تھا کہ ایم این ایز اور خیبرپختونخوا میں گرفتاریاں کون کررہا تھا۔تیسرا سوال جس کا کوئی جواب نہیں تھا وہ یہ تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ عدالتوں سے امید رکھیں، کیا عدالتیں آزاد ہیں جن کے فیصلوں پر آپ عمل نہیں کررہے؟” اسداللہ خان
@AUKhanOfficial1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
اہک شخص کو مائنس کرنے نکلے تھے،نتیجے میں،
عدلیہ،میڈیا،پارلیمان،صحافت،معیشت،روزگار،کھیل،اور
عوامی اعتماد بھی مائنس ہوگئے،
اب مائنس ون نہیں،سوال یہ ہے،کہ باقی کیا بچا۔خدا نخواستہ
سب کو مائنس کرتے کرتے،،ملک مائنس نہ ہوجائے؟
اب بھی وقت ہے،،ملک اور عوام پر رحم کرے،خدا کا خوف کرے،
میں اتنا بڑا فیصلہ تنہا نہیں لے سکتا۔ بحیثیت سہیل آفریدی، بحیثیت بیرسٹر گوہر، یا بحیثیت سلمان اکرم راجہ، ہم یہ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ مارچ ختم یا معطل ہو، تو سہیل آفریدی کو اپنے لیڈر سے ملنے دیں۔ ہمیں ملنے دیں، ہمارے دوستوں کو ملنے دیں۔ محمود خان اچکزئی
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
عمران خان کو اللہ نے دور اندیشی کی بڑی نعمت دی ہے آج جس طرح فوج اور اسکے ٹٹو پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ حکومت کو دہشت گردوں کی سہولت کار کہہ رہے ہیں اگر عمران خان نے عوام کو تین سال پہلے یہ بیانیہ سمجھا نہ دیا ہوتا تو آج یہ کے پی میں کچھ نا کچھ بیانیہ بنالیتے اس میں مراد سعید کا بھی بڑا کردار ہے جنہوں نے دہشت گردوں کی دوبارہ آبادکاری کی ناصرف کھل کے مخالفت کی بلکہ قوم کو سارا منصوبہ بھی سمجھا دیا آج کسی کو کوئی شک نہیں
ایک شخص کو مائنس کرنے نکلے تھے، نتیجے میں، عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، صحافت، معیشت، روزگار، کھیل، اور عوامی اعتماد بھی مائنس ہوگئے، اب مائنس ون نہیں، سوال یہ ہے، کہ باقی کیا بچا۔ خدا نخواستہ سب کو مائنس کرتے کرتے، ملک مائنس نہ ہوجائے؟ حافظ حمد الله
#pakistan@iHafizHamdullah
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
عمران خان سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی سے لانگ مارچ منسوخ کروانے کا مطالبہ ایسے ہی ہے جیسے حکومت کہہ دے کہ ہم تین ماہ کے اندر صاف شفاف الیکشن کروا دیں گے اور جس کو عوام ووٹ دے گی حکومت اسکے حوالےکر دیں گے
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔
پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔
دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔
تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟
بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔
باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔
4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
میں اتنا بڑا فیصلہ تنہا نہیں لے سکتا۔ بحیثیت سہیل آفریدی، بحیثیت بیرسٹر گوہر، یا بحیثیت سلمان اکرم راجہ، ہم یہ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ مارچ ختم یا معطل ہو، تو سہیل آفریدی کو اپنے لیڈر سے ملنے دیں۔ ہمیں ملنے دیں، ہمارے دوستوں کو ملنے دیں۔
محمود خان اچکزئی
“ بہادر شاہ ظفر نہ بنیں خود کو ٹیپو سلطان بنائیں، اسٹبلشمنٹ کے ٹٹو نہ بنیں، عمران خان کے نظریے پر عمل کریں” وزیراعلی کے پی کے سہیل آفریدی کا کور و سیاسی کمیٹی اجلاس میں مصلحت کی تجویز دینے والوں کو جواب : صحافی محمد فہیم کی خبر
@MeFaheem
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
ادھر مزاکرات ادھر ڈی آی خان کرفیو۔۔۔۔
اب بھی سمجھ نہیں آرہی تو ایک بار تحریک انصاف قیادت کشمیریوں کو فون کر لے۔
بلوچ پہاڑوں سے اتروا کر ہھانسی والوں کے رشتہ داروں کو پوچھ لیں یا لبیک پارٹی والوں سے بات کر لیں یا 26 نومبر شیدا کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے دیکھیں وہ سچ بتاہیں گیں
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
زمان پارک میں مالدار لوگوں کو ٹکٹ لینے کے لیے قطاروں میں لگا دیکھا تھا، اور آج جب خان صاحب کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کرنا ہے اور پیسوں کی ضرورت ہے تو آج بھی ایک قطار دیکھی، لیکن اس میں وہ مالدار لوگ نہیں، بلکہ عام ورکرز تھے۔ عتیق ریاض
#pakistan@attique_riaz06
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔