عمران خان سے جتنا بھی سیاسی اختلاف ہو، ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ انہوں نے جیل کا وقت بڑی بہادری اور حوصلے کے ساتھ گزارا ہے۔ آج عمران خان کو جیل گئے 1111 دن ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی 79 سالہ سیاسی تاریخ میں کسی بھی وزیرِاعظم یا صدر نے اتنا طویل عرصہ مسلسل جیل میں نہیں گزارا۔
عمران خان نے اس مشکل وقت کا جس بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، شاید کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی طویل قید اس حوصلے کے ساتھ برداشت کریں گے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تین برسوں کے دوران وہ کبھی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔ جب بھی انہیں طبی معائنے یا چیک اَپ کے لیے ہسپتال لے جایا گیا، معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن عمران خان کی اس استقامت اور حوصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔
پورے پاکستان کو ناحق قید میں کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جشنِ آزادی مبارک۔
آج جشنِ آزادی کے اس موقع پر ایک دعا ہے، ایک عہد بھی اور ایک امید بھی کہ وہ دن ضرور آئے گا انشااللہ جب پاکستان صرف نقشے پر ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بھی آزاد ہوگا۔ جہاں عوام کی آواز مقدم ہو گی ، ووٹ کا احترام ہو گا اور انصاف سب کے لیے برابر ہوگا۔
آئیں عہد کریں کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک حقیقی آزاد، خودمختار اور باوقار ملک بنائیں گے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
#جناح_کا_جانشین_عمران_خان