آؤ جانچ لیتے ہیں
درد کے ترازو پر
کس کا غم کہاں تک ہے
شدتیں کہاں تک ہیں
کچھ عزیز لوگوں سے
پوچھنا تو پڑتا ہے
آج کل محبت کی
قیمتیں کہاں تک ہیں
ایک شام آجاؤ
کھل کے حال دل کہہ لیں
کون جانے سانسوں کی
مہلتیں کہاں تک ہیں
@nameless8277
🚨حقیقی ڈیجیٹل انقلاب صرف کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں
ابھی ڈنمارک میں ایف ایس سی (Gymnasium) کے بعد یونیورسٹی داخلوں کا مرحلہ شروع ہوا ہے�� دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے لیے صرف ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم موجود ہے۔
طالب علم اپنی ڈیجیٹل آئی ڈی سے لاگ اِن کرتا ہے، اس کی بنیادی معلومات پہلے سے موجود ہوتی ہیں اسے نام پتہ تک نہی لکھنا ہوتا ہے، اور اسے صرف اپنی پسند کے ملک بھر سے آٹھ یونیورسٹی پروگرام ترجیحی ترتیب (Priority Order) کے ساتھ منتخب کرنے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی علیحدہ فارم، نہ کاغذات کی فوٹو کاپیاں، نہ تصدیق شدہ اسناد، نہ دفاتر کے چکر کا رولا ہے
سسٹم خودکار طریقے سے سکولوں اور متعلقہ اداروں سے تمام تعلیمی ریکارڈ آن لائن حاصل کر لیتا ہے۔ پھر ہر یونیورسٹی آزادانہ طور پر میرٹ کے مطابق درخواستوں کا جائزہ لیتی ہے۔
اس پورے عمل کے پیچھے Stable Matching Algorithm استعمال ہوتا ہے، جس کے خالقین کو 2012 میں معاشیات کا نوبل انعام ملا تھا۔ اس نظام میں اگر طالب علم اپنی پہلی ترجیح والے پروگرام میں میرٹ پر آ جائے تو باقی سات درخواستیں خود بخود بند ہو جاتی ہیں۔ اگر پہلی ترجیح نہ ملے تو دوسری، تیسری یا جس پروگرام میں اس کا میرٹ بنتا ہو، وہ آفر موصول ہو جاتی ہے۔ اس طرح سیٹیں ضائع نہیں ہوتیں اور پورا نظام زیادہ مؤثر اور منصفانہ بن جاتا ہےایک طالبعلم دس جگہ میرٹ خراب نہی کرتا نا سیٹ بلاک کر سکتا ہے۔
یہ ہے اصل ڈیجیٹلائزیشن؛ جہاں ٹیکنالوجی صرف موجودہ بیوروکریسی پر رنگ روغن نہیں کرتی بلکہ پورے عمل کو ازسرِ نو ڈیزائن کرتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً پنجاب میں اکثر ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب صرف QR کوڈ، موبائل ایپ یا آن لائن فارم سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ پسِ پردہ وہی نوآبادیاتی دور کا ریڈ ٹیپ، وہی فائل کلچر اور وہی افسر شاہی برقرا�� رہتی ہے۔
حقیقی ڈیجیٹل انقلاب کمپیوٹر لگانے کا نام نہیں، بلکہ غیر ضروری بیوروکریسی ختم کرکے شہری کے لیے نظام کو آسان، تیز، شفاف اور خودکار بنانے کا نام ہے۔
@saifullahawan40 لیکن عوامی نمائیندوں کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفادات کا خیال رکھیں۔ اور کوئی ایسا قانون پاس نہ کریں جس سے عوامی مفادات پر زد پڑتی ہو۔ ایسا نہیں کہ محکمہ جیسا مرضی قانون بنائے اور وہ سوئے رہیں۔ اس لیے زمہ داری تو متعلقہ وزراء کی بنتی ہے۔
@aamir_ibrahim01 کیا دنیا میں کسی اور ملک میں ایسے قانون کی نظیر موجود ہے جہاں RoW کے نام پر سرمایہ داروں کو عوام کی ذاتی پراپرٹی پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت ہو؟ کیا ٹیلی کام کمپنیز ایسٹ انڈیا کمپنی بننے کی کوشش تو نہیں کر رہیں؟
@RShahzaddk@Shaikh4537 یقیناً زمہ دار تو اس بل کو پاس کرنے والے سب لوگ ہیں لیکن زیادہ قصوروار وزارت آئی ٹی اور وزارت قانون کے وزراء اور سیکرٹری صاحبان ہیں ان سے وزیراعظم صاحب کو جواب طلبی کرنی چاہیے۔
الیکشن جیت کر اسمبلی میں آنے اور بذریعہ nomination سپیشل سیٹ پر MNA بن کر وزیر بننے کا فرق بہت واضح ہوتا ہے جس کی مثال ٹیلیکام کمپنیوں کی سسٹم انسٹالیشن بل سے سمجھ میں آ جاتی ہے الیکٹڈ کو عوام کی کچھ نا کچھ فکر ہوتی ہے لیکن سلیکٹڈ کو کچھ فرق نہیں پڑتا
@CMShehbaz@KhawajaMAsif
@fawadchaudhry آپ کے مبارک دور میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا اسے بھی ذرا بیان فرما دیں! میاں نواز شریف صاحب،انکی فیملی سے لیکر ممبران پارلیمنٹ سے کیسا ہتک آمیز سلوک کیا گیا۔ آپ کا مہاتما تو ہر وقت یہی راگ الاپتا رہتا تھا کہ سب کو اڈیالہ بند کروں گا حتکہ بیرون ممالک میں تقریر کے دوران یہی کہتا تھا!
🇫🇷 Statement of the leaders of France, the UK, Germany and Italy : We warmly welcome the announcement of the MoU between the US & Iran. We congratulate [...] all those involved, including Pakistan, Qatar and all other mediators [...].
See : https://t.co/gpyBSDxNqc
@Elysee
Le Canada salue le nouvel accord conclu entre les États-Unis et l’Iran. Nous remercions le Pakistan, le Qatar et les autres partenaires de la région pour le rôle indispensable qu’ils ont joué dans ces négociations.
Le Canada a clairement affirmé qu’un cessez-le-feu durable doit à la fois garantir la traversée sûre et sans entrave du détroit d’Ormuz et contrer la menace omniprésente que constitue le programme nucléaire iranien.
Pendant que les négociations se poursuivent, nous exhortons toutes les parties à dialoguer de bonne foi et à éviter l’escalade du conflit. Le Canada reste en contact étroit avec ses partenaires et se tient prêt à appuyer tout effort visant à apporter la stabilité et la paix durable dans la région, y compris au Liban.
@AzazSyed حضرت صاحب بہت سے ایسے کاروبار ہیں جو مناسب منافع نہ ملنے اور نقصان کی صورت میں ہر روز بند ہو رہے ہیں اور ملازمین بے روزگار ہو رہے ہیں ایسے ہی میڈیا ہاؤسز ہیں۔ اس میں کسی حکومتی ادارے کا کیا دوش ہے؟ میڈم @NaureenJanjua کی ہدایت پر توجہ فرمائیں۔
پارٹی کا سوشل میڈیا کون ہیڈ کرتا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔ جب تک مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی مسائل کم نہیں ہوتے، سوشل میڈیا کی بہترین مہم بھی عوا��ی حمایت میں خاطر خواہ فرق نہیں ڈال سکتی۔