سوچا جب وجہِ تخلیق دنیا ہے کیا؟
عرش سے تب ہی آنے لگی یہ نِدا
مصطفی، مصطفی، مصطفی، مصطفی
وہ ہے خیرالبشر وہ ہے خیرالانام
اس پہ لاکھوں درود اس پہ لاکھوں سلام۔
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
"میں"
5 ستمبر سے
منگل وڈھےگوشت ناغےدیہاڑے
ڈسٹرکٹ پروٹیسٹ
لاہور 2 دن پروٹیسٹ
تمام ڈسٹرکٹ پروٹیسٹ
شمولیت
تمام اقدامات کی
"شدید مذمت"
"لاتعلقی اختیار"
کرتاہوں
"پریس کانفرنس"
"اپنی روحانی شخصیت"
سے
"ملاقات"
کےبعد کررہاہوں
کسی
"دباؤ پریشر"
کی وجہ سےنہیں کررہا
"میرا ضمیر جاگ گیا"
بزم جہاں میں آج یہ کس کا ورود ہے
جبریل کے لبوں پر مسلسل دُرود ہے
فخرُ الرّسُل ہے شافعِ روزِ حساب ہے
اُمّی لقب ہے صاحبِ اُمّ الکتاب ہے
قرآن جس کا خُلق ہے وہ رحمتِ تمام
جس کیلئے ہوا ہے دو عالَم کا انصرام
جس کے غلام فاتحِ ایران و شام ہوں
لاکھوں دُرود اُس پہ، ہزاروں سلام ہوں
ﷺ
صدر عارف علوی کو کسی بھی صورت استعفی نہیں دینا چایئے اور کل صبح نو بجے خود سپریم کورٹ پہنچ کہ آئینی پٹیشن دائر کر کہ کورٹ روم نمبر 1 میں لہنچ جانا چایئے۔
اس وقت ریاست پاکستان ، آئین پاکستان ایک مذاق بنا دیا گیا ہے اور عالمی سطح پر ہم حقیقی معنوں میں کیلا جمہوریہ کا روپ دھار چکے ہیں۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ سائفر کی کاپی بھی وزیر اعظم کے دفتر سے عمران خان کی غیر موجودگی میں غائب کردی گئی تھی اور اب صدر کیساتھ یہ غداری۰۰۰۰پاکستان میں صدر اور وزیر اعظم کی سیکیورٹی کیلئے امریکی طرز پہ سیکرٹ سروس کی بہت ضرورت ہے اسکے بغیر جمہوریت کبھی نہیں آسکتی۰۰
آج سوشل میڈیا پر اپ کو بہت سارے منافقین بے نقاب ہوتے ہوئے نظر ارہے ہیں. یہ سارے منافق سیالکوٹ میں عثمان ڈار ہو یا لاہور میں میاں اسلم جب ان کے گھروں کی چادر چار دیواری پامال ہو رہی تھی تو یا ان کی زبانیں بند تھیں یا پھر فرمایا کہ ٹھیک ہو رہا یے. بیشک ایمان مزاری کی گرفتاری کا طریقہ کار غلط۔ قانون ہر گز رات گئے دروازے توڑ کر بغیر وارنٹ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ جرم کا تعین کورٹ آف لا کو کرنا ہے.
صدر عارف علوی نے تصدیق کردی کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ وہ ان قوانین سے متفق نہیں تھے ۔ اور ان کے بارہا پوچھنے کے باوجود انکے عملے نے وہ بغیر دستخط کیے بل واپس نہیں کئے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک بنانا ریپبلک بن چکا ہے ۔
جہاں صدر کے آئینی اختیارات کو سلب کرلیا جائے وہاں انصاف اور آئین کی پاسداری کی کیا توقع کی جائے ۔ ملک میں ایک ٹولے نے سازشیں کرکے ملک کو معاشی ، سیاسی ، آئینی طور پر تباہ و برباد کردیا ہے لیکن کوئ پوچھنے والا نہیں ۔
صدر مملکت نے سچ عوام کے سامنے رکھ دیا۔ بطور سربراہِ مملکت، انکا کام اتنا ہی تھا۔ کیونکہ یہ ایک آفیشیل اسٹیٹمنٹ ہے چناچہ ایف آئی اے کو صدرمملکت سے تفصیلات حاصل کر کے ایوان صدر، وزارت قانون اور پرنٹنگ کارپوریشن کے متعلقہ افسران کو گرفتار کر کے فوری کاروائی شروع کرنی چاہیے۔
جج ہمایوں دلاور کے فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس لاہور سے عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے 12 منٹ میں پہنچ گئی، جڑانوالہ میں 4 گرجا گھر اور اقلیتوں کے سینکڑوں گھر جل گئے، 12 گھنٹے بعد تک مقامی اور ضلعی پولیس نہ پہنچ سکی
پوری قوم صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی شکر گزار جہاں پوری پارلیمینٹ نے گھٹنے ٹیک کر ایک کالا قانون پاس کیا اس پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قوم کے آئینی حقوق معطل ہونے کیخلاف منظور شدہ کالا قانون پر دستخط نہ کرکے جرت کا مظاہرہ کیا۔
حیرانگی کی بات ہے کہ یہ وہ بلز ہے جس میں پاکستان کے بنیادی آئینی حقوق ختم کردئیے گے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے اس بل کو منظور کردیا اس بل کی مذمت کرنے کبجائے ایک مخصوص طبقہ یہ بیانیہ بنا رہا ہے کہ ڈاکٹر علوی استعفی دے۔ قوم انکے چہرے نوٹ کرلے یہ سب لوگ شریک جرم ہے
#NationStandsWithPresidentAlvi
صدر صاحب شکریہ۔ آپ سرخرو ہوئے۔ اللہ مالک ہے۔ جب خدا بننے کا فیصلہ کر کیا گیا ہے تو پھر خدا جانے اور زمینی خدا۔ آپ تاریخ کی درست سمت کھڑے ہو گئے۔ یہ چھوٹی بات نہیں جو آپ نے کی ہے۔ آپ نے آج صدر ہونے کا حق ادا کیا۔ اور اس نظام کو ایکسپوز کر دیا ہے کہ یہاں کیا کیا ہوتا ہے
عارف علوی صاحب کو اپنے عملے کے خلاف فورا تھانہ کوہسار میں فراڈ کی ایف آئی آر کٹوانی چاہیے اور سپریم کورٹ میں آئین کی خلاف ورزی پر صدارتی ریفرینس درج کروانا چاہیے
صدرِ پاکستان @ArifAlvi کے ہمیشہ کے لیے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے سچ بولا اور سسٹم میں موجود سنگین قباحتوں سے آگاہ کیا- قوم آپ کے حوصلے اور جذبے کو سلام پیش کرتی ہے اور سیسہ پلائ دیوار کی طرح آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جو ممکنہ طور پر ان بیماریوں کی اصلاح کا عمل شروع کر سکتا ہے جنہوں نے نظام کو طویل عرصے سے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔
ایٹمی طاقت رکھنے والی ریاست پاکستان کے آئینی سربراہ اور افواج پاکستان کے کمانڈر انچیف کے احکامات کو ان کے ماتحت عملے نے ماننے سے انکار کر دیا اور جعلی دستخط کرکے میڈیا پر چلوا بھی دیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون
صدر کا عہدہ دیکھیں اور پھر ان کے ساتھ ہوئی دھوکہ دہی اور غداری دیکھیں۔ کیا یہ واقعی مملکت پاکستان ہے یا بنانا ری پبلک؟ جہاں جعلی دستخط سے جعلی قانون بن گیا اور چند گھنٹوں بعد اصل گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ جس میں ملک کے سابق وزیراعظم، سابق وزیر خارجہ، سابق وزیر خزانہ کو جعلی قانون کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا۔ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ اتوار کو رات کے وقت کھلنے والی عدالتیں دن کی روشنی میں ڈالے گئے اس ڈاکے اور غداری پر کیوں خاموش ہیں؟
صدر مملکت نے اپنے ٹوئٹ میں خود سے غداری کرنے والوں کو بے نقاب کر دیا اور خاموش رہنے کے بجائے قوم کو حقائق بتا دئیے۔ صدر مملکت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے وہی لوگ ہیں جو زور زبردستی سے یہ بدترین قانون سازی کرانے میں آلہ کار بنے۔ قوم ان کا بھی محاسبہ کرے گی۔
قوم اعلی عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ صدر کی ٹویٹ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے کر ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔
صدر مملکت کی ٹوئٹ سولہ ماہ سے ملک میں آئین و قانون کے ساتھ جاری مذاق کے آگے بند باندھنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے ، پی ڈی ایم اور اتحادیوں نے آئین اور قانون کو مذاق بنایا، آئینی عہدوں اور آفسز کی حثیت محض پوسٹ آفس جتنی رہ گئی،اپنی مرضی کی ڈاک بانٹتے رہے۔ اپوزیشن لیڈر کا آفس پارلیمان اور عوامی شعور کی توہین سے کم نہیں تھا، آئین کو روندتے ہوئے دو صوبوں میں انتخابات نہیں کروائے گئے، تین ماہ کے لیے آنے والی نگران حکومتیں چھ ماہ بعد بھی چلی رہی ہیں، ایک صوبے میں چھ ماہ بعد بتایا گیا کہ نگران کابینہ تو غیرجانبدار نہیں، نئی "غیر جانبدار"کابینہ لائی گئی، اعلی عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد سے صاف انکار کیا گیا، شہریوں کے بنیادی حقوق معطل نظر آئے، آئین و قانون توڑنے کے ایسے بیج بوئے گئے کہ آج ملک کے سربراہ کا ماتحت عملہ مبینہ طور پر اس کی مرضی کے بغیر قانون سازی کر رہا ہے۔ جب قانون کی کوئی حثیت ہی نہ رہے تو پھر قانون سازی میں بھی ایسے ہی مذاق ہوتے ہیں۔
عارف علوی صاحب نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے آئین و قانون کے ساتھ جاری اس بھونڈے مذاق کو روکنے کے لیے پہلا بڑا قدم اٹھایا ہے لیکن سلام ہے ان دانشوروں کو جو معاملے پر تشویش اور تحقیقات کے بجائے الٹا صدرصاحب سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر مملکت استعفی دینے کے بجائے اپنے گھر سے چند قدم دور قائم عمارت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ لوگوں کو پتا تو چلے ملک کی اعلی ترین عدالت میں بیٹھے ججز اپنے حلف کے مطابق آئین کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کررہے ہیں یا صرف لاکھوں روپے تنخواہیں اور اتھارٹی انجوائے کرتے ہیں۔
وزارت قانون کی بوگس،غیرمنطقی اورصریحا جانبدارانہ وضاحت سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہوتی، پاکستان کےواحد منتخب ریاستی عہدیدار اور فیڈریشن کی علامت صدر مملکت کا بیان مستند ہے ۔باقی سب باتیں تعصب،بدنیتی اور جہالت کی شاہکار،استعفی کا مطالبہ مریضانہ سیاسی ذہنیت کا آئینہ دار۔۔
میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔
اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔