یہ شاہراہ فیصل ہے، جہاں lane بدلنے پر چالان لگنا شروع ہوچکا ہے۔اتنا مردار ضمیر کییے کسی حکومت کا ہوسکتا ہے کہُ اسے صرف عوام کی جیب سے پیسہ چاہئے ہو، اور عوام کو بدلے میں سہولیات صفر دی جائیں؟
زرا یہاں کے حالات ملاحظہ کیجئے۔
کیا روشنیوں کا شہر کراچی اب رہنے کے قابل رہ گیا ہے ؟ بجلی کیلئے سولرسسٹم یا UPS گیس کیلئے سلنڈر، پانی کیلئے ٹینکر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں۔ تنخواہ دار طبقے سے جو ٹیکس لیا جاتا ہے وہ کہاں جاتا ہے ؟ پھر بھی صوبائی وزرا کراچی کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ یہ سونے کی چڑیا ہے۔ایک خاتون سیاستدان نے تو اسے پیرس قرار دے دیا۔ کراچی کی تباہی میں سیاسی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے لیکن گزشتہ 18 برس میں پیپلز پارٹی کی ناقص حکمرانی نے اس شہر کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ مئیر کراچی کو ویڈیو بنانے سے فرصت نہیں، کراچی جو دنیا کے شہروں کی فہرست میں 170 ویں نمبر پر ہے اس کا اب اللہ ہی حافظ ہے، اپنی راۓ کا اظہار ضرور کیجئیے گا۔
دل تھام کر بیٹھیں on my radar جو کہانی آپ کے سامنے رکھ رہا شاید وہ سننے کی آپ میں ہمت ہی نہ ہو کراچی کی کہانی صرف ٹوٹی سڑکوں، پانی کی قلت اور ٹریفک جام کی نہیں، بلکہ سیکڑوں ارب روپے کے ان نامکمل بیمار منصوبوں کی بھی ہے جو آج شہر پر بوجھ بن چکے ہیں۔ K-4 پانی منصوبہ، S-3 سیوریج منصوبہ، کراچی سرکلر ریلوے، سیف سٹی اور ریڈ لائن بی آر ٹی جیسے منصوبے دسیوں سالوں سے تباہ حالی کا شکار ہیں اور سیکڑوں ارب رپے نگل چکے ہیں سیکڑوں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کئی منصوبوں کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے جبکہ تکمیل کی نئی نئی تاریخیں دی جارہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کراچی کے عوام کب تک ان ادھورے خوابوں اور ناکام وعدوں کی قیمت چکاتے رہیں گے؟کراچی کے ان نام نہاد میگا پروجیکٹس کی چونکا دینے والی تفصیلات جاننے اور اس سنسنی خیز رپورٹ سے بھرپور لطف اٹھانے کیلئے OMR کا مکمل ایپی سوڈ دیکھنے کیلئے نیچے دیے گئے یوٹیوب لنک پر کلک کریں https://t.co/SplyW6YGq3
35فیصد کراچی کو کنٹرول کرنے والی اشرافیا خود 65 فیصد وفاق کے زیر اثر کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈی ایچ اے میں رہتے ہیں پھر کہتے ہیں کراچی کو وفاق سے کنٹرول نہیں کرنے دے گے کراچی کو وفاق نے برباد کردیا اب عوام فیصلہ کرے 35 فیصد کراچی چلانے والے بہتر ہے یا 65 فیصد کراچی چلانے والے
پہلی بات Yellow بیلٹ ہی کم از کم بنادیتے
کوئی بنیا بھی کمانے کیلئے پہلے دکان میں سامان ڈالتا ہے آپ Yellow بیلٹ ڈارک کروائی نہیں چالان تھوب دیا
دوسرا
سلو ٹریک پر جب بڑی گاڑی رکے گی تو کیمرے کے سامنے بائک والا سینٹر بیلٹ میں آئے گا جس سے چالان ہوگا
خدارا قانون بنائیں مزاق نہیں🙏
صدر زرداری سی پیک لائے ، تو ن لیگ نے لاہور میں اورنج لائن ٹرین بنادی۔ صدر زرداری سی پیک نہ لاتے تو ممکن نہ ہوتا۔
کیا بلاول بھٹو یہ بات کہہ کر سندھ حکومت کو شرمندہ کررہے ہیں؟؟
سندھ حکومت نے اپنے شہروں میں کوئی ماس ٹرانزٹ منصوبہ کیوں نہیں بنایا؟؟؟
آج بلاول بھٹو نے شگر جی بی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شگر کے وسائل پر یہاں کے لوگوں کا حق ہے۔
یہ ہمارے سیاسی لیڈر وہاں جا کر جہاں ان کی حکومت نہیں ہوتی کتنی اچھی باتیں کرتے ہیں
کتنے سنہرے خواب دکھاتے ہیں
حیرت ہوتی ہے کبھی کبھی
بھائی
صحافی کا کام سچ بولنا ہے
جو کڑوا ہوتا ہے۔
کراچی شہر کے ساتھ ہی نہیں
کراچی میں رہنے والوں کے ساتھ بھی شدید زیادتی ہورہی ہے۔
جو بات ہے وہ کہنی چاہئے ڈرے بغیر
فاروق ستار نے کہا ہے
کہ بجٹ کی منظوری کے لئے کامڑان ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ بحالی ان کی ریڈ لائن ہے
ایم کیو ایم کا المیہ یہ ہے۔
کہ یہ چھوٹے چھوٹے مطالبات کرکے اور انھیں حاصل کرکے خوش ہوجاتے ہیں۔
ان کے بڑے مقاصد ہیں ہی نہیں۔
بڑا مقصد کراچی کو حقوق دلوانا ہوسکتا تھا۔
عید پر کراچی آئی ہوں ۔ہر طرف بے بسی ہی بے بسی نظر آتی ہے۔بجلی آتی کم جاتی زیادہ ہے تو کچھ رشتہ داروں نے سولر لگوا لیئے ہیں۔انکے بھی دن تو جیسے تیسے گزر جاتے راتیں حرام ہیں۔کراچی کے 70فیصد ٹیکس پئیر سولر جیسی ذاتی سہولت بھی افورڈ نہیں کرسکتے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں چھوٹے چھوٹے سلنڈرز رکھے ہوئے ہیں۔البتہ بھاری بلز باقائدگی سے آتے ہیں۔پانی نلکوں میں نہیں آتا ٹینکرز ہزاروں روپے میں کچھ سو گیلن پانی دے جاتے ہیں۔ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گندگی کے ڈھیر نے سونے پہ سہاگا کیا ہوا ہے۔بہت اچھا گاؤں ہے کراچی۔یہاں بڑی بلڈنگز بھی ہیں۔ مہنگی ترین سندھ اسمبلی اور خوبصورت گورنر ہاؤس بھی ہے۔بڑے بڑے شاپنگ مالز بھی ہیں۔ایک بڑے سے گاؤں کراچی کو رہنے کے قابل 173شہروں کی لسٹ میں 170 نمبر پر رکھوانے کے بڑے کارنامے پر سندھ حکومت اور مئیر کراچی کو۔ خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
#Karachi
From Shahra e Faisal to Shahra e Bhutto, Karachi road history is imazing. It has now become the most profitable business with commission and cuts. No wonder why projects takes so long. One expect from the CM, Sindh and Mayor, Karachi to let people know the origional and actual cost of roads like BRT at University road, Shahra e Bhutto and Lyari Expressway? Why none of these projects were completed on time? What action have been taken against those responsible for delay.
....نام ہے شاہراہِ بھٹو....
آج ہم بتا رہے ہیں شاہراہِ بھٹو(ملیر ایکسپریس وے) کی وہ حقیقت جس سے پیپلز پارٹی کی فطرتاً نالائق اور کرپٹ صوبائی حکومت نے قوم کو جان بوجھ کر قطعی بےخبر رکھا۔
کیونکہ نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
سب سے مضاحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ 18 سال سے کراچی کے تمام تر وسائل اور اختیارات پر قابض وہ پیپلز پارٹی جو کراچی ہی سے نوچے گئے اربوں روپے غرق کرکہ 4 سال میں 16 کلومیٹر کی ایک یونیورسٹی روڈ تعمیر نا کرسکی وہ "گیم چینجر" شاہراہِ بھٹو(درحقیقت ملیر ایکپریس وے) کی تعمیر کا کریڈٹ لے رہی ہے اور نام رکھا شاہراہِ بھٹو...!
حقیقت یہ ہے کہ شاہراہِ بھٹو (ملیر ایکسپریس وے) پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں BOT ماڈل(بناؤ، آپریٹ کرو اور ٹرانسفر کرو) کے تحت تعمیر ہونے والا منصوبہ ہے، اس ماڈل کے تحت منصوبے کی فنانسنگ، تعمیر اور آپریشن کا ایک بہت بڑا حصہ نجی کنسورشیم اور بینکنگ فنانسنگ کے ذریعے پورا کیا جارہا ہے جبکہ سندھ حکومت نے صرف ایک محدود حصہ بطور شراکت فراہم کیا ہے۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
پیپلزپارٹی کی مکار، کرپٹ اور نالائق صوبائی حکومت نے جان بوجھ کر مالی ماڈل BOT ڈھانچے کی کوئی تفصیل قوم کے سامنے بیان نہیں کی، جس سے منصوبے کی اصل مالی ساخت عام شہری کی نظر اور سمجھ سے بلکل اوجھل ہے لیکن پیپلز پارٹی بھول رہی کہ یہ 1971 نہیں جہاں اس نے ملک کو دو لخت کرکہ الزام افواج پاکستان پر دھر دیا تھا بلکہ یہ 2026 ہے جہاں آپ کچھ بھی چھپا نہیں سکتے۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
شاہراہِ بھٹو(درحقیقت ملیر ایکسپریس وے) کا مالی ڈھانچہ ایک ہائبرڈ ماڈل ہے، جس میں حکومتِ سندھ کی شراکت، نجی کنسورشیم ایکویٹی اور کمرشل بینکوں سے لیے گئے قرضے شامل ہیں جبکہ منصوبے کی اصل فنانسنگ اور رسک کا بڑا حصہ نجی مالیاتی ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!!
اب آتے ہیں اس منصوبے کی مالی و کارپوریٹ ساخت کی تفصیل پر:
39 کلومیٹر طویل اس منصوبے کی مالی و کارپوریٹ ساخت روایتی سرکاری منصوبوں سے بلکل مختلف ہے۔ اس ماڈل میں منصوبے کی تعمیر، فنانسنگ، آپریشن اور رسک کا بڑا حصہ نجی کنسورشیم اور بینکنگ سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!!
یہ منصوبہ ملیر ایکسپریس وے لمیٹڈ (MEL) کے ذریعے مکمل کیا جارہا ہے، جو ایک SPV (Special Purpose Vehicle) ہے۔
نجی کنسورشیم کی ساخت:
—جے این اینڈ کمپنی (JN & Co.) لیڈ ممبر
—حبیب کنسٹرکشن سروسز لمیٹڈ (HCS)
—نیاز محمد خان اینڈ برادرز (NKB)
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
مالیاتی ڈھانچے کا بریک ڈاؤن:
ابتدائی فریم ورک کے مطابق مالی تقسیم کچھ یوں ہے:
—حکومتِ سندھ: صرف 4.137 ارب روپے (15%)
—نجی کنسورشیم ایکویٹی: 5.517 ارب روپے (20%)
—کمرشل بینک سے قرضے: 17.929 ارب روپے (65%)
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ منصوبے کا بڑا مالی حصہ سندھ حکومت کی فنڈنگ سے نہیں بلکہ بینکوں سے قرض لے کر اور نجی مالیاتی اداروں کی فنڈنگ سے پورا کیا گیا۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
مجموعی لاگت اور فنانسنگ:
منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 54.8 ارب روپے ہے
—حکومتِ سندھ کا حصہ: تقریباً 31 ارب روپے
—نجی کنسورشیم + بینک فنانسنگ:
24 ارب روپے
جس میں مختلف بینک شامل ہیں: HBL، بینک الفلاح، UBL، میزان بینک وغیرہ
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
غیر لسٹڈ کارپوریٹ ڈھانچے کے مطابق شیئرہولڈنگ اسٹرکچر:
—JN & Co.:
44% کلاس A
(ووٹنگ حقوق کے ساتھ)
—حکومتِ سندھ:
37% کلاس B
(نان ووٹنگ شیئرز)
باقی حصص:
HCS اور NKB کے پاس
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور نالائق سندھ حکومت ہر سال NFC کی مد میں 1.8 ٹریلین روپے وفاق سے وصول کرتی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کا سندھ بجٹ 3.45 ٹریلین روپے تھا جس میں کراچی کا حصہ تقریباً 3 ٹریلین روپے ہے؛ اس سب کے باوجود پیپلز پارٹی کی نالائق، کرپٹ اور متعصب سندھ حکومت پہلے ہی صوبہ سندھ کو 441 ارب روپے کا ناصرف مقروض بنا چکی ہے بلکہ اس قرض/سود کی ادائیگی کے نام پر کراچی کو مزید نوچ نوچ کر کھا رہی ہے۔
لیکن نام ہے شاہراہِ بھٹو...!
پیپلز پارٹی یاد رکھے، آپ جتنا جھوٹ بولیں گے ہم کراچی والے اُتنا سچ بولیں گے اور یقین کرلیں کہ آپ ہمارے سچ کو برداشت نہیں کرسکیں گے۔
#آپ_سے_نا_ہو_پائے_گا
#Karachi #Pakistan
سندھ کو 95 فیصد اور وفاق کو 68 فیصد دینے والے پاکستان کے معاشی دارالخلافہ کراچی کے وسائل پر 18 سال سے قابض پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری ایک سڑک کا ایک حصہ بنا کر پوچھ رہے تھے کہ بتاؤ کراچی کے لیے کیا کیا...؟
پیپلز پارٹی جواب سننے اور دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرئے کیونکہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔
#MQMP #PPP #Karachi #Pakistan #MustafaKamal
پل پاروالوں نےنیاپل بنالیاہے
تاکہ پل کےاِس پار آناہی نہ پڑے
ہمارے دوست نے اس پل کے حق میں دو ٹوئٹ کئے
وہ میرے لئے محترم ہیں
لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ پل پار رہتے ہیں۔
کراچی کوپل کےآر پارتقسیم کرنےوالوں کوسمجھنا چاہئے۔
پل کےاس پار والوں کےمسائل حل کئےبغیر
مسئلہ حل نہیں ہوگا
کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن میں ڈکیتی پر زرا سی مزاحمت پر 35 سالہ شخص کے قتل کرکے ڈاکو آرام سے فرار ہوگئے۔ جس صوبے کی عوام سڑکوں پر دن دہاڑے قتل ہورہی ہو، وڈیرے بچیوں کے والدین کے آگے ریپ کررہے ہوں، پولیس عوام پر صرف سوال کرنے پر بندوقیں تان رہی ہو، اس صوبے کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار صاحب کو ملنے والا ستارہ امتیاز شاید اب خود ہی اپنی بے عزتی پر شرمسار ہورہا ہوگا۔
سندھ صرف ایک قوم یا ایک زبان کا نہیں، صدیوں سے مختلف قومیتوں، زبانوں اور تہذیبوں کا گھر رہا ہے۔
اگر “ایڈجسٹمنٹ” کا پیمانہ صرف زبان بدل دینا یا اپنی شناخت مٹا دینا ہے، تو پھر دنیا کی کوئی بھی بڑی تہذیب زندہ نہ رہتی۔
اردو اسپیکنگ کمیونٹی خالی ہاتھ نہیں آئی تھی۔
وہ اپنے ساتھ تعلیم، بیوروکریسی، تجارت، صحافت، ادب، صنعت، طب، انجینئرنگ اور شہری نظم و نسق کا ایک وسیع تجربہ بھی لائی تھی، جس نے کراچی سمیت پورے سندھ کی معیشت اور شہری ڈھانچے کو مضبوط کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ لاکھوں مہاجر خاندانوں نے ہجرت میں اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں، رشتے اور قبریں چھوڑیں۔ ان کی قربانیوں کو صرف “انہیں گھر دیے گئے” تک محدود کرنا تاریخ کے ایک بہت بڑے انسانی المیے کو چھوٹا کر دینا ہے۔
اور اگر زبان ہی وفاداری یا ایڈجسٹمنٹ کا معیار ہے، تو پھر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ریاستِ پاکستان نے کبھی تمام قومیتوں کو ان کی زبانوں، شناخت اور حقوق کے ساتھ برابر کا احترام دیا؟
کیا صرف اردو اسپیکنگ کمیونٹی ہی اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہی، یا ہر قوم اپنی تہذیب اور زبان بچانے کی کوشش کرتی ہے؟
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون ایڈجسٹ ہوا اور کون نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست نے سندھ کے لوگوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا رکھا، جبکہ عام سندھی، مہاجر، پنجابی، پختون اور بلوچ دہائیوں سے ایک ہی شہروں، بازاروں، اسکولوں اور دکھوں میں ساتھ رہ رہے ہیں۔
سندھ کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے، سچائی، انصاف اور باہمی احترام کی زبان زیادہ ضروری ہے۔