#PAKWatch🇵🇰: Today, THOUSANDS of Pakistani expats gathered outside of 10 Downing Street in London, UK, to protest the CORRUPT Pakistani Gov't's actions in Kashmir.
FREE IMRAN KHAN.
The Emirates has projected an image of tolerance, inclusiveness, and justice. It is hoped that the rulers of @uaedgov will ensure justice for Junaid Jehangir and Syed Salman Raza, who have been denied it for far too long. #JusticeForSalmanAndJunaid
بشری بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو اور عمران خان صاحب کے فیس بک اکاؤنٹ پر بشری بی بی سے ہونے والی فیملی کی آخری ملاقات کے حالات لکھے گئے ہیں جو تقریبا ایک ماہ پہلے ہوئی تھی ملاقات کی تفصیل غیر اعلانیہ معاہدے کے تحت نا ڈائریکٹ نا ہی ان ڈائریکٹ اس سے قبل سامنے آئی تھی لیکن ملاقات پھر بھی دو تین ہفتے سے رکی ہوئی ہے
اب اس ملاقات کی تفصیل ان دو پوسٹوں میں سامنے آئی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ بشری بی بی کی دونوں آنکھوں کے مسائل چل رہے ہیں
بیرسٹر گوہر نے شکوہ کیا کہ اپوزیشن ممبران کی تقریریں ٹیلی کاسٹ نہیں ہوئیں اگر ججز کا نام لے کر ان پر تنقید کی جائے گی تو جناب اسپیکر آپ نے جو کیا ٹھیک کیا ! اعظم نذیر تارڑ
کئی دفعہ آرمڈ فورسز کے خلاف بات ہو جاتی ہے میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا ! ایاز صادق
یہ وہی ایاز صادق ہے جس نے تقریر کی تھی ماتھے پر پسینہ تھا ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔۔
تم نہ حکومت میں ہو نہ کسی عہدے پر تو تم کیسے یہ کم کروگے ؟ تم کس کے نمائندے ہو ؟
ویسے یہ وہ آدمی ہے جو نجی محفلوں میں آج بھی خان صاحب اور ان کی اہلیہ کیلئے انتہائی گھٹیا زبان استعمال کرتا ہے۔
یہ پیشہ ور دلال ہے
پاکستانیوں کی ذہنی پستی دیکھیں!!
اب رینٹ پر پروٹوکول ملتا ہے!!
یہ آپکو ائیرپورٹ سے pick کرتا ہے, اور گھر Drop کرتا ہے, بندے کے مطابق 4 لاکھ روپے لئیے جاتے ہیں!!
قصور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور ڈی پی او قصور آفتاب احمد آمنے سامنے، تھانہ کھڈیاں میں اقدام قتل کےمقدمے میں پولیس نے 2 ملزمان کو گناہ کار قرار دیا، پھر ضمنی تبدیل کر کے بے گناہ قرار دے دیا، مدعی کھلی کچہری میں ڈی پی او کے پاس پہنچ گیا، انکوائری میں ثابت ہوا پولیس نے ملک احمد خان کے کہنے پر ملزمان کو بے گناہ قرار دیا، ڈی پی او نے تفتیشی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا اور متعلقہ ڈی ایس پی سٹی قصور کی خدمات سرنڈر کرنے کے حوالے سے اعلی افسران کو مراسلہ لکھ دیا
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
وزیروں کی کوئی حیثیت نہیں ،سیکرٹریز انہیں کہتے ہیں کہ آپ چپ کرکے سائیڈ پر بیٹھ جائیں ،آپ کو آپ کا بھتے میں سے حصہ ملتا رہے گا،
سیکرٹری کا پاکستان یا غریب عوام سے کوئی مفاد نہیں ہوتا ،
وہ پیسہ بناتا ہے اور ریٹائر ہو کر سوئزر لینڈ ، نیوزی لینڈ یا اس ملک چلا جاتا ہے جہاں اس کے بچے پہلے ہی پڑھ رہے ہوتے ہیں ، خالد حسین باٹھ
یہ پیرا فورس کا اہلکار اس نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن سے دھلوائی اور پھر جب پیسے مانگے تو دھمکیاں دے رہا الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنانے لگ گیا کہ سیل کروادونگا۔
یہ مریم نواز کا تحفہ ہے پنجاب کے غریبوں کے لئے
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک خاتون بزرگ رہنما، جنہوں نے صحت کے شعبے میں برسوں اس قوم کی خدمت کی ، جن کی عمر اور صحت کے مسائل کے باوجود، انہیں 286 سال سے زائد کی سزا اور 7 الگ الگ مقدمات میں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ ان کا واحد جُرم حق اور سچ کی راہ سے پیچھے نہ ہٹنا عمران خان کو نہ چھوڑنا ہے، وہ آج بے جرم اس قوم کی حقیقی آزادی کی خاطر سزا کاٹ رہی ہیں لیکن ان کا حوصلہ آج بھی چٹان کی طرح مضبوط ہے، یہ صنف آہن خوف سے ڈر کا حق کی راہ چھوڑنے والے سینکڑوں مردوں پہ بھاری فاشزم کے سامنے کھڑی ایک فولادی دیوار ہیں۔
بلوچستان میں دو دو کروڑ کی گاڑیاں کو آگ لگائی جا رہی ہے، ٹی ٹی پی اور بے ایل اے کے لوگوں نے بلوچستان جانے والی سڑکیں بند کی ہوئی ہیں، محسن نقوی ایئرپورٹ پر آئے میٹنگ کی اور واپس چلے گئے، عادل بازئی کی تقریر میں دوسری دفعہ محسن نقوی کا نام آنے پر سپیکر نے مائیک بند کر دیا
ڈاکٹر یاسمین راشد کو ایک اور مقدمے میں 17 سال قید کی سزا
اب تک عسکری عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی ان کی مجموعی سزاؤں کی مدت 280 سال تک پہنچ گئی ہے۔
تازہ فیصلے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اس کے باوجود سزا سنا دی گئی۔
یہ ہے وہ طرزِ عمل جو موجودہ حکومت ایک کینسر کی مریضہ، بزرگ خاتون اور ایسی شخصیت کے ساتھ روا رکھ رہی ہے جس نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے غریب عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کر دی۔
ان کی دہائیوں پر محیط عوامی خدمت اور آج ان کے ساتھ ہونے والا سلوک ایک دوسرے کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
تاریخ ان اقدامات کا فیصلہ ضرور کرے گی۔
@Dr_YasminRashid
#ReleasePoliticalPrisoners
#ShameOnJudges
یہ میرے گھر پر تین بار ہوچکا ہے اس درد کا مجھے پتہ ہے ہاں کوئی مجرم نہیں ہو کرپشن بھی نہیں کی کوئی جرم بھی کوئی نہیں کیا
عمران خان کے ساتھ ہو عظیم پاکستان کے حاطر یہ جرم ہے
یو اے ای میں زیرِ حراست پاکستانی شہری محمد شعیب جاں بحق، اہل خانہ کو ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع
پاراچنار کے علاقے بلیامین کے رہائشی پاکستانی شہری محمد شعیب، جو متحدہ عرب امارات میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرتے تھے، دورانِ حراست جاں بحق ہو گئے۔
اہل خانہ کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران محمد شعیب کو مارچ 2026 میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے خاندان کو طویل عرصے تک ان کی گرفتاری، مقام اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہل خانہ کو 16 جون 2026 کو اطلاع دی گئی کہ محمد شعیب 29 اپریل 2026 کو جیل میں انتقال کر چکے تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وفات کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع دینا تشویش ناک ہے، جبکہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ اور موت کی وجوہات سے متعلق بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مرحوم محمد شعیب کی میت آج صبح پشاور ایئرپورٹ پہنچے گی، جہاں اہل خانہ اور عزیز و اقارب ان کا آخری دیدار کریں گے۔
اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متحدہ عرب امارات کے متعلقہ سفارتی حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ محمد شعیب کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا، دورانِ حراست ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور ان کی موت کن حالات میں ہوئی۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے مرحوم کے اہل خانہ کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
ایک دوست نے بتایا کہ اس کے والد نے لوگوں کے لیئے پانی کی بالٹیاں بھر کے باہر رکھیں کہ اپنی پیاس بجھائیں، رینجرز نے پانی کو نشانا بنایا اور والد اور بھائی کی جان بال بال بچی۔
آج فادر ڈے ہے مگر اس ریاست نے میرے گھر کو اندھیر کر دیا اس ریاست نے ہمیں صرف دکھ کے علاوہ کچھ نہ دیا ریاستی اداروں میں بیٹھے وحشی درندوں نے ہمارہ سکھ چین چھین لیامیرے بھائی کو بے گناہ شہید کر دیا اور آج جب میں اپنے والد کی دکھ بھری نگاہوں کو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ آنسو صرف میری ماں اور میرے والد کا دکھ نہیں بلکہ ہر اس بیٹے اور باپ کا دکھ ہے جسے ریاست نے چھین لیا۔ آج ہم انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں اپنے بھائی کی کمی کو کبھی پورا نہیں کر سکتے پر لمحہ انیس کی کمی محسوس ہوتی ہے لیکن ہم ان آنسوؤں کو آواز بنائیں گے اور یہ ظلم کبھی فراموش نہیں ہوگا