وہ لمحہ جب آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر اور معروف رہنما شوکت نواز میر اور دیگر قائدین چکوٹھی ایل او سی یعنی خونی لکیر پر جا کر افواجِ پاکستان کو مبارک باد دی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔اور آج اسی شوکت نواز میر کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔
وقت بدل سکتا ہے، لیکن تاریخ اپنے حقائق محفوظ رکھتی ہے المختصر سب یاد رکھا جاۓ گا۔
This is a gathering of millions. We are neither against Pakistan, nor against the Pakistani people, nor against the army.
JAAC leader Umar Nazir addressing the protesters in Rawalakot.
The BIG Software Update 🗿
آزاد کشمیر سے,
انتہائی افسوسناک تصاویر سامنے آئی ہے!!💔
فورسزز لوگوں کی دوکانیں لوٹ رہے ہیں سٹی میں!
فورسز کی طرف سے تاجروں کی دکانوں کے تالے توڑ کر, اشیائے خوردونوش، زیورات و نقدی رقوم کی لوٹ رہےہیں!!
راولاکوٹ میں فوج لوگوں کے گھروں میں گھس کر گھر توڑ رہی ہے، عورتوں کیساتھ بدتمیزی اور بچوں پر تشدد کر رہی ہے
فوج نے ایک شہری معاذ کے گھر گھس کر جو ظلم کیے اس کی کہانی معاذ اور اس کے بھائی بتا رہے ہیں
ایسا مت کرو بھائی
ہم پر گولی مت چلاؤ بھائی
ہم تمہارے بھائی ہیں
" ڈی چوک پر قتل ہونے والے پاکستانی نوجوان آخری وقت تک فوجیوں کو اپنا بھائی سمجھ رہے تھے"
"فورسز کے جوان ہمارے بچے اور ہمارے بھائی ہیں، ان سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے؛ انہیں ہمارے خلاف استعمال کیا گیا۔"
— عمر نذیر کشمیری
خبر کا سورس لنک پہلے کمنٹ میں ۔۔
#Pakistan
Kashmiris are paying with their blood for their decision to join the Islamic Republic of Pakistan.
The army of Asim Munir has carried out a massacre of those Kashmiris who had sacrificed their families for Pakistan.
سردار امان کشمیری نے فوجی بیانیہ اڑا کے رکھ دیا 💥
ہم جب آٹا مانگنے بجلی مانگنے نکلیں تو انڈیا کے ایجنٹ ہو جاتے ہیں بیشک ہماری جیب میں روٹی کھانے کے پیسے نہ ہوں لیکن ہمیں انڈیا پیسے دیتا ہے ۔
اداروں کا کیا کام ہے حکومتیں چلانا نظام چلانا ؟یہ کام ہے جمہوریت کا عوام کا یہ سیاسی جماعتوں کا حق ہے سیاسی کارکنوں کا حق ہے۔ ڈپٹی کمیشنر کا کیا کام ہے فون کر کے بتائے کہ پروگرام میں نہیں جانا۔ تم ہمارے ٹیکس کے پیسوں پہ تین تین کروڑ کی گاڑیوں میں گھومو نہیں گھومنے دیں گے ہم۔ انھیں سیاست کا شوق ہے ۔ یہ ہمارے لیے جو دل آتا ہے پراپو گنڈا کرتے ہیں انکے والدین ان سے شرمندہ ہیں۔ خود انکے ماں باپ انکی مسلمانیت پر یقین نہیں کرتے🔥
"بلوچستان سے پوچھو کون دہشتگرد ہے وہ بتاتے ہیں کہ یہ فیصلہ ساز دہشتگرد ہے، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، گلگت بلتستان والے کہتے ہیں کہ ہہ فیصلہ ساز دہشتگرد ہیں،
آج کشمیر بھی کہتا ہے کہ ہاں واقعی ہی یہ دہشتگرد ہیں، سردار امان”
ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو خاموش کرنے کے لیے میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں، سیاسی کارکنوں کو قتل کیا گیا، جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا گیا، اور لاشوں کو مسخ کر کے خوف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلوچستان سے کشمیر تک مسلسل یہ بیانیہ تراشا گیا کہ مظلوم ہی مجرم ہے، مزاحمت دہشت گردی ہے، جبکہ ریاستی طاقت اور حکمران طبقہ نجات دہندہ ہے۔
مگر اس تمام سرمایہ کاری اور پروپیگنڈے کا نتیجہ کیا نکلا؟
ظلم نے مزید باغی جنم دیے، آہیں للکار میں بدل گئیں، اور وہ اربوں روپے جو قوموں کی آواز دبانے پر خرچ کیے گئے، رائیگاں چلے گئے۔ ہزاروں کلومیٹر دور، میڈیا سے محروم اور ایک دوسرے سے کٹے ہوئے عوام نے بالآخر ایک مشترکہ زبان اختیار کر لی۔ انہوں نے اپنے مشترکہ دشمن کو پہچان لیا اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو بھی سمجھ لیا۔
آج کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہی سفاکیت گوادر میں راجی مُچی کو روکنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ یہی جبر پشتون قومی جرگے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بروئے کار لایا گیا تھا۔ نتائج تب بھی یہی تھے اور آج بھی یہی ہیں: تشدد قوموں کی آواز کو دبا نہیں سکتا، فسطائیت خود کو ہمیشہ چھپا نہیں سکتی، اور بہایا گیا خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ قوموں کی رگوں میں مزاحمت اور حوصلے کی صورت دوڑنے لگتا ہے۔
ہم کشمیری عوام کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنا، لانگ مارچ کو روکنے کے لیے نہتے شہریوں پر گولیاں چلانا، اور سیاسی مطالبات کا جواب طاقت سے دینا، جمہوری طرزِ عمل نہیں بلکہ کھلی سفاکیت ہے۔
یہ معلوم نہیں کہ اقتدار اور طاقت کی ہوس میں مبتلا حکمران کب حقیقت کا ادراک کریں گے، مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ جب عوام ظلم سے جواب طلب کرنا شروع کر دیتی ہے تو جبر کے دن گنے جا چکے ہوتے ہیں۔
محکوم قوموں کو ان کے بنیادی حقوق دینے، تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وسائل دستیاب نہیں، مگر انہی قوموں کو دبانے اور ان کے جائز مطالبات کو کچلنے کے لیے سیکیورٹی ڈھانچے پر بے دریغ اخراجات کیے جاتے ہیں۔ عوام کو لانگ مارچ سے روکنا، مکمل طور پر پرامن اور جمہوری تحریکوں کو کالعدم قرار دینا، اور حکمران طبقے کی عیاشیوں کے تحفظ کے لیے معصوم شہریوں کا خون بہانا نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہے۔
حقائق روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ مظلوم قوموں کی تحریکیں نہ کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی پراکسی جنگ کا آلہ۔ یہ دراصل وہ عوامی آوازیں ہیں جو استحصالی اشرافیہ کے مفادات، مراعات اور اقتدار کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اسی لیے انہیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شعور اور اجتماعی مزاحمت کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرایا جا سکتا
جس دن ہم بزدل پاکستانی بہادر کشمیریوں کی طرح لاکھوں کی تعداد میں باہر نکل ائے اس دن خان بھی رہا ہوگا شفاف الیکشن بھی ہوں گے پیٹرول اور بجلی بھی سستی ہو جائے گی
Sad day for all of us. Brave defenders of our motherland have met a tragic accident. We share grief of their families and pray for them to bear this great loss with fortitude. Salute to their courage and professionalism.