یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر مزارِ قائد پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ، شہیدِ ملت لیاقت علی خانؒ، بیگم رعنا لیاقت علی خانؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی قبور پر بھی حاضری دے کر فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی-
@BBhuttoZardari@AseefaBZ@QaziMBashir1@BakhtawarBZ@sharmilafaruqi@IrtazaBaloch1@FTanoli21774
گزشتہ 36 سال سے پنجاب اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کر رہا ہے۔
1990-91 سے 2026-27 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے پاکستان کے گندم بحران کی ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
پنجاب کی گندم کی پیداوار 10.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 21.9 ملین ٹن ہو چکی ہے۔
ریکارڈ پیداوار 2025-26 میں 24.24 ��لین ٹن رہی۔
یہ اضافہ زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے سے نہیں ہوا۔
گزشتہ 36 برس میں گندم کا رقبہ تقریباً 14 سے 17.4 ملین ایکڑ کے درمیان رہا۔ پیداوار میں اضافہ بہتر بیج، کھاد اور مشینی کاشت کی وجہ سے ہوا۔
اصل مسئلہ آبادی ہے۔
پنجاب کی آبادی تقریباً 6 کروڑ سے بڑھ کر 13.8 کروڑ ہو گئی، جس کے باعث فی کس دستیاب گندم 176 کلوگرام سے کم ہو کر 159 کلوگرام رہ گئی۔
اس کے باوجود پنجاب نے 36 سال میں ہر سال سرپلس گندم پیدا کی۔
سالانہ سرپلس کبھی 2.4 ملین ٹن سے کم نہیں ہوا اور اس وقت 3.89 ملین ٹن ہے۔
یہ اضافی گندم صرف پنجاب کے لیے نہیں۔
اسی سرپلس سے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ کے بعض علاقوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، جبکہ کچھ گندم افغانستان بھی جاتی ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے گزشتہ 36 سال میں 22 مرتبہ گندم درآمد کی، جن میں 2020-21 سے 2023-24 تک مسلسل چار سال بھی شامل ہیں۔
جولائی 2024 سے درآمدات پر پابندی ہے۔
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ پنجاب میں گندم کی کمی نہیں۔
اصل مسائل یہ ہیں:
• خسارے والے صوبوں کی ضروریات
• سرحد پار گندم کا اخراج
• ناکافی اسٹریٹجک ذخائر
• خریداری اور ریلیز کے نظام میں خامیاں
مسئلے کا حل پیداوار بڑھانے سے زیادہ، ان پالیسی مسائل کو درست کرنے میں ہے۔