میرےپاس کبھی کوئی اتنی قیمتی نایاب اوراتنی خاص چیزتھی ہی نہیں
جس سےتمہیں تشبیح دیتی تم تینوں
خود میں اکلوتےہوبہت
قیمتی بہت نایاب بہت خاص
میری ترجیحات میں اول💙
#ماشااللہ
سمجھےنہ کوئی سرسری ساتذکرہ تمہیں
بھرپور ماجرا ہوتم حوالہ نہیں ہو
#AbbasKhan251_birthday@AbbasKhan251
#AbbasKhan251_birthday
چلو اب ایسا کرتے ہیں ستارے بانٹ لیتے ہیں
ضرورت کے مطابق ہم سہارے بانٹ لیتے ییں
محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے
منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ لیتے
میری جھولی میں جتنے بھی وفا کے پھول ہیں ان کو
اکٹھے بیٹھ کر سارے کے سارے بانٹ لیتے ہیں
#AbbasKhan251_birthday
جیسے جیسے انسان پختہ سوچ کا حامل بنتا ہے ،ویسے ویسے اس کے ارد گرد لوگوں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے ،کیونکہ سمجھدار ذہن بناوٹ اور دکھاوے کو برداشت نہیں کرتا
#AbbasKhan251_birthday
ضبط کر اے دلِ مجروح کہ اِس دُنیا میں،
کون سا دِل ہدفِ گردشِ ایام نہیں
غمِ محبوب و غمِ دہر و غمِ جاں کی قسم
ایسے غم بھی ہیں یہاں جِن کا کوئی نام نہیں !
السلام علیکم
صبح بخیر
بےشک اللہ پاک اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور اسی آزمائش میں اللہ کی ذات پر کامل یقین ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرواتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ بےشک وہ بہترین کارساز ہے۔
#AbbasKhan251_birthday
ابلیس کا رویہ یہ تھا کہ وہ شرمندہ نہیں ہوتا تھا اور ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم شرمندہ ہونے والے کو اتنا ذلیل کرتے ہیں کہ وہ ابلیس بن جائے،،،!!
#AbbasKhan251_birthday
اس کائناتِ محبت میں ہم مثل شمس و قمر کے ہیں
اک رابطہ مسلسل ہے اک فاصلہ مسلسل ہے
میں خود کو بیچ دوں پھر بھی تجھ کو پا نہیں سکتا
میں عام سا ہمیشہ ہوں تو خاص سا مسلسل ہے
#AbbasKhan251_birthday
پرورش !
ٹی وی کو ریموٹ سے آف کیا اور پریشان کھڑا ہو کر وہ پچاس سالہ بوڑھا ڈرائنگ روم میں اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا اور اپنے دونوں بچوں کو طرف دیکھ رہا تھا جس میں سے ایک بیس سالہ جوان بیٹا اور تئیس سالہ بیٹی دونوں یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے اور ابھی فلحال اپنی ہی سرگرمیوں میں مشغول تھے ۔۔۔
ابا جان کچھ پریشانی سے صوفے پر بیٹھ گئے اور بیٹی کو مخاطب کر کے کہا کہ جاؤ ایک کپ چائے بنا کر لے آؤ اور مسکان اٹھ کر چائے بنانے چلی گئی جبکہ ابراہیم اب ابا جان کی طرف دیکھنے لگا اور بولا ابا جان کیا پریشانی ہے اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو ۔۔ بس بیٹا آج کل کے حالات اور مستقبل کی فکر نے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے عجیب وحشی نظام افراتفری مچ چکی ہے فکر ہوتی ہے تم دونوں کی اور خاص کر تمہاری بہن کی کہ اب تو ہم اس کے ساتھ ہیں لیکن جب وہ اپنے اصل محافظ کے پاس جائے گی تو کیا وہ محافظ واقعی اسکی حفاظت کرے گا یا نہیں ایک عجیب ڈر پیدا ہوگیا ہے دل میں دل کرتا ہے اپنے بچوں کو دنیا والوں سے چھپا کر رکھ لوں " ارے بابا جان فکر کیوں کر رہے ہو ایویں پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوتا " ۔۔اتنے میں مسکان چائے بنا کر لے آئی ۔۔
میری چائے کہاں ہے ؟ابراہیم نے ایک کپ چائے دیکھ کر پوچھا
تمہاری کچن میں پڑی ہے جا کر ڈال کر پی لو ۔۔مسکان صوفے پر گرتے ساتھ اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولی ۔۔
بابا جان کسی کام نہیں آپکی بیٹی ابراہیم چڑ کر بولا ۔۔
ہاہاہاہاہاہا جاؤ خود چائے لاؤ اپنی باباجان ابراہیم کو بولے ۔۔
مسکان
جی بابا جان ۔۔وہ یک دم فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی
ایک صفحہ لو اور ایک پین اور جو جو میں بول رہا وہ لکھتی جاؤ
جی باباجان ۔۔وہ جلدی سے ابراہیم کی کاپی سے صفحہ لے کر بیٹھ گئی
لکھو پہلا پوائنٹ ۔۔۔ایک لمبی سانس لیتے بابا جان
جی ۔۔۔وہ قلم کو صفحہ پر رکھ کر بولی
تم کبھی کسی سے ڈرو گی نہیں
تم ایک بہادر لڑکی بن کر رہو گی
تمہارے لیے تمہاری عزت تمہارا وقار سب سے زیادہ ضروری ہے
تم اپنی کوئی مشکل پریشانی اپنے بابا جان سے نہیں چھپاؤ گی
تم کبھی ظلم برداشت نہیں کرو گی
تم ایسے ماحول کو ترجیح دو گی جہاں سکون ہوگا
تم ایک راز دار ہو بیٹا یاد رکھنا گھر کی باتوں کو گھر سے باہر نہیں کیا جاتا جب تمہارے دو گھر ہونگے تو متوازن کو قائم رکھنا ادھر کی بات اُدھر نہ کرنا اور یاد رکھنا کل کو جب تمہیں تمہارا محافظ ملے گا تو اس کے عیبوِں پر ناکامیوں پر اور جب جب مشکل حالات ہوں ان پر تم نے پردہ ڈالنا ہے ویسے ہی جیسے تم اپنے باباجان اور بھائی کیلئے کرتی ہو ۔۔یاد رکھنا عورت کا مطلب سکون ہوتا ہے اور تمہاری زات سکون ہونی چاہیے تاکہ تمہارا گھر اور گھر میں رہنے والا ہر فرد پرسکون ہو ۔۔
بابا جان میں تو اسکی وجہ سے پرسکون نہیں چائے لا کر نہیں دے سکتی ابراہیم چائے لے آیا تھا اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔
تم شادی کر لو ابراہیم پھر تمہیں بھی چائے ٹیبل پر مل جایا،کرے گی مسکان اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی اور روم میں ہنسی کی آواز گونجی ۔۔
اور ہاں مسکان بیٹا یاد رکھنا کوئی تمہارے ساتھ ہو یا نہ ہو تمہارا یہ باپ ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے بےشک میں پچاس کا ہوں یا پھر ستر کا میری بیٹی کے لیے میرے ہاتھ اور میرا دل بہت مضبوط ہے یاد رکھنا مجھ سے زیادہ کبھی تم سے کوئی محبت نہیں کر سکتا اور بےشک تمہارا بھائی بھی تمہارے ساتھ نہ رہے لیکن تمہارا بابا مر کر بھی تمہارے ساتھ رہے گا ۔۔۔
بابا جان آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو مسکان اب واقعی پریشانی سے بابا کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
سوالوں کا وقت نہیں ہے یہ ۔۔ ابراہیم سنو جیسے تمہاری بہن رہتی ہے اس گھر میں ویسے ہی کسی اور کی بھی بہن کو رکھنا یاد رکھنا بیٹی بیٹی ہوتی ہے پھر چاہے جس مرضی کی ہو اور انکا حیات رہنا لازمی ہوتا ہے کیونکہ ان کے دم سے ہی کائنات میں خوبصورتی ہے یہ سب تمہارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ تم عورت کو کیسا بناتے ہو اسکی تراش تمہارے ہاتھ میں ہے چاہے تم اسکو تراش کر موم کی طرح نرم بنا دو یا پھر ایک اکڑ ضدی بدمزاج عورت ۔۔۔!
کیا عورت کا کوئی فرض نہیں بابا جان ابراہیم احتجاجً بولا
عورت کے تمام فرض میں اپنی مسکان کو سمجھا چکا ہوں اور یاد رکھنا تم بس اپنے فرض پورے کرو جو تمہاری زمہ داری ہے باقی سب کے فرض تمہاری زمہ داری نہیں روز قیامت تم سے سوال ہوگا کہ تم نے اپنی عورت کو خوش رکھا یا نہیں اسکا جواب تم نے دینا ہوگا کوئی اور نہیں دے گا اور یہ ہی سوال عورت سے ہوگا تو اپنے سوال کے جواب کے لیے سعی کرو دوسرے اپنے سوال کا جواب خود ڈھونڈ لیں گے !
عباس
جو بھی ہو
میں پیار کرنا بند نہیں کروں گا
جیسے نہیں بند کرتے
لوگ توپوں کے منہ
یا ایک دوسرے کے اوپر چلانا
نکلتا رہوں گا
میں پیار کی تلاش میں
ہر صبح جیسے لوگ بھاگتے ہیں سڑکوں پر
اپنے دفتروں کی طرف
اور نہیں رکتے
ایک زخمی کو اسپتال لے جانے کے لیے
رٹتا رہوں گا
محبت کے تمام گیت
جیسے رٹتا ہے
کوٸی سیاسی اپنی تقریر
یا کوٸی بچہ اپنے پہاڑے
اکیلے ہی سہی
کرتا رہوں گا محبت
جیسے شہر کا اکیلا سچا آدمی جیتا ہے
اپنی سچاٸی کے سہارے
چاہے جو بھی ہو
میں محبت کے وطن میں تمھیں ملوں گا
کسی پرچم کی طرح لہراتا ہوا