@firdonfirozan@Saminakhan4000 میں نے ایک مثال دی ہے کہ ایسے ڈاکٹرز مہنگی دوائی لکھ کر اپنی فیس کا مارجن پورا کر لیتے ہیں کیونکہ میرے شہر کے دو ڈاکٹر بھی کم فیس لیتے ہیں لیکن دوائی مہنگی لکھتے ہیں اور میرا ان کے ساتھ فیملی ریلیشن ہے۔
@Saminakhan4000 تحریک پاکستان کا ایک نام نہاد لیڈر جس نے کہا تھا کہ جب تک برصغیر کے لوگ انگریزی زبان نہیں سیکھیں گے تب تک ترقی نہیں کریں گے خود تو وہ مر گیا مگر پاکستان پر انگریزی مسلط کر گیا
@RShahzaddk زمین دینے والا پاگل تھا کیا اس کو نہیں پتہ تھا کہ یہ پاکستان ہے زاتی حیثیت سے کالج بنا کر سرکار کی ملکیت میں دے دیتا اس طرح کرنے سے اس کو در در کے دھکے نہ کھانے پڑتے
*نکاح سے پہلے کیا کریں؟*
والدین کے لیے بیٹی کا رشتہ طے کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ جب بھی کوئی رشتہ آئے تو خوب تحقیق (Inquiry) کریں ۔
ہماری سوسائٹی میں لوگ تحقیق کرتے تو ہیں مگر یہ تحقیق صرف آمدنی یا جائیداد تک محدود ہوتی ہے ۔
آپ یہ بھی دیکھیں کہ لڑکا غصے میں کیسا ہے اور عورتوں کی عزت کرنا جانتا ہے یا نہیں؟ اس کے دوستوں اور قریبی ساتھیوں سے اس کے رویے کے بارے میں پوچھیں ۔
لڑکے کی عادات کا مشاہدہ کریں ۔ لڑکا عملی زندگی میں کتنا سنجیدہ ہے۔ کیا وہ اپنی ذمہ داریاں خود اٹھاتا ہے یا ہر بات کے لیے والدین پر منحصر ہے؟
اگر وہ معاشی طور پر مستحکم ہے، تو بھی محنت کا جذبہ ، حلال و حرام میں تمیز اس سے بھی زیادہ اہم ہیں ۔
اس کے علاوہ جس گھر میں بیٹی جا رہی ہے، وہاں کا ماحول کیسا ہے؟
اگر پہلے سے بہو موجود ہے تو اس کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟ بہو کو ایک فرد سمجھا جاتا ہے یا صرف ایک ملازمہ؟ ساس سسر اور دیگر گھر والوں کا آپس میں سلوک کیسا ہے؟
یہ بیٹی کی آنے والی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔
شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کی کاؤنسلنگ بھی ہونی چاہیے!
بیٹیوں کو نئے گھر میں ایڈجسٹ ہونے، رشتوں کو نبھانے اور اپنے حقوق و فرائض کے توازن کے بارے میں سمجھائیں۔ انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنائیں کہ وہ مسائل کا سامنا کیسے کریں ؟
نندوں ،ساس کے بارے میں پہلے سے ہی کوئی منفی جذبہ اس کے اندر پیدا نہ کریں ۔ ابتدائی سالوں میں مزاج مختلف ہونے کی وجہ سے نوک جھونک ہوتی ہے۔
لڑکے کو بھی سکھایا جائے کہ ہر بات پر فوری ردعمل دینے کے بجائے صبر اور درگزر سے کام لے۔لڑکے کو ذہنی طور پر تیار ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی کی اپنی الگ شخصیت، اپنی سوچ اور اپنی ضرورتیں ہیں ۔ اسے بیوی کو "ملازمہ" کے بجائے "ساتھی" سمجھنے کی تربیت دینی چاہیے۔
لڑکے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ماں اور بیوی کے حقوق الگ الگ ہیں۔ اسے کسی ایک کی خاطر دوسرے کی حق تلفی کرنے ، کسی ایک کی طرف داری کے بجائے ڈائلاگ سے اور احسن طریقے سے معاملہ حل کرے ۔