میرے پیارے وطن کے ہم وطنو۔۔۔
آئین، قانون، اخلاق، تمیزداری، رواداری، تہذیب کتاب انصاف، زنجیر عدل، تمدن، عزت، شہرت، برابری، حقوق، فرائض، سچائی یہ سب آپ کی آزادی میں رکاوٹ ہیں۔ جانوروں کے جس بھیڑئیائے معاشرے میں رہتے یہ سب زنجیریں ہیں۔ عدالتوں سے انصاف نہیں ملنا ہاں ریمارکس اور
”یہ کیسی ہارڈ اسٹیٹ ہے ؟ جس میں خود استثنی لے کر کہتے ہیں کہ قانون سب پر لاگو ہو گا مگر مجھ پر لاگو نہیں ہو گا۔ پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ انہیں جب حالات پر آئینہ دکھایا جاتا ہے تو یہ اسے پروپیگنڈہ اور ملک کے خلاف سازش کا نام دیتے ہیں۔ 1971ء میں بھی جن لوگوں نے انہیں بنگلہ دیش کے حالات بتائے انہیں ملک دشمن کہا گیا تھا۔ عوام سے اتنی زیادہ نفرت کرکے کبھی کسی نظام کو چلایا ہی نہیں جا سکتا۔“ عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
Thousands rallied in Islamabad in support of protesters in Pakistan-administered Kashmir after deadly election-related unrest. The next phase of voting is scheduled for August 2.
Al Jazeera's Kamal Hyder reports from Islamabad.
عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں اور پروپیگنڈے کی حقیقت!
عمران خان کی صحت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
حقیقت: عمران خان کو کبھی بلڈ پریشر کا مسئلہ نہیں رہا۔ روزانہ گھنٹوں سخت ورزش اور فٹنس روٹین کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ نارمل سے کم (Lower side) ہی رہتا ہے۔
تشویشناک سوال: غیر مصدقہ خبریں پھیلا کر آخر کس بات کی زمین ہموار کی جا رہی ہے؟ کیا یہ کسی بڑے اور سنگین منصوبے کا حصہ ہے؟
جو لوگ "قابلِ اعتماد ذرائع" کے نام پر یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں، وہ حقیقت میں اپنی ہی ساکھ ختم کر رہے ہیں۔ عمران خان کی صحت سے متعلق کسی بھی پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جائے گا!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
مریم نواز کے لیئے پائپ کو کپڑا مارنے والی یہ عورت اس وقت 16 محکموں کی نگران ہے۔ اور 9 محکموں کی وزیر بھی ہے ۔
کلپ میں یہ جو کام کر رہی ہیں ۔۔ یہی ان کی قابلیت ہے۔
منقول
اوپر سے آرڈر آیا ہے۔
"ہم تو حکم کے پابند ہیں" — یہ عذر نہیں، دھوکہ ہے!
غیر قانونی اور ظالمانہ حکم ماننا اطاعت نہیں، ظلم میں شرکت ہے۔ اپنے حلف، آئین اور آخرت کا پاس رکھیں۔
کسی بھی ریاست کے اہلکار کا حلف آئین اور قانون کی پاسداری کا ہوتا ہے، ظلم اور بے انصافی کا نہیں۔ پرامن شہریں، ماؤں بہنوں کی بے حرمتی اور سیاسی انتقام کا حصہ بن کر اپنی دنیا اور آخرت خراب نہ کریں۔
آخری اور حتمی حکم صرف اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے: انصاف یا ظلم؟
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
پٹواری اور تبصرہ پاڑ جو یئیں یئیں سے کام چلا رہے ہیں۔ اگر تشریف میں فاضل مادہ جات موجود ہیں تو مندرجہ ذیل تیر استعمال کرسکتے ہیں۔
فوج نے چار سال میں تین ہزار سے زیادہ سپاہ مروا لی۔ فوج کی ناکامیوں کا احتساب کون کرے گا۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کررکھا ہے، پاکستانی دریاوں پر ڈیمز بنا رہا ہے۔ فوج یہاں کیوں خاموش ہے۔
پچھلے تین سال سے پشتون بیلٹ کے علاوہ بلوچستان پر عملا بی ایل اے کا راج ہے۔ فوج وہاں کیوں ناکام ہوئی۔
درجنوں آپریشنز کرنے کے باوجود ، افغانستان میں سویلین آبادی پر بمباری کے باوجود فوج پختونخواہ میں امن کیوں نہیں لاسکی۔
دشمن نے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیر سمیت کشمیر سے منسلک 23 پاکستانی شہری مار دیے فوج خاموش کیوں رہی۔
فوج پختونخواہ اور بلوچستان میں مقامی عمائدین اور رہنماؤں کو لڑائی پر کیوں تیار کررہی ہے خود لڑائی سے کیوں بھاگ رہی ہے۔
"عمران خان نے دو دسمبر کو میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے "آزادی یا موت" آزادی قیمتی ہوتی ہے۔ جو ظلم آج عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی قائدین و کارکنان پر ہورہا ہے یہ یہاں نہیں رکے گا۔ میڈیا اتنا خوفزدہ ہے کہ وہ آزادی سے کوئی کوریج نہیں کر سکتا، میڈیا والے کہتے ہیں کہ ہمارے چینلز کے پاس ہماری تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں، وہ اس لیے کیونکہ پاکستانیوں نے چینلز دیکھنے ہی چھوڑ دیے ہیں"۔علیمہ خان
@Aleema_KhanPK