پاکستان اللہ کےرازوں میں سےایک رازہے۔ جوپاکستان میں بستاہےوہ سایہ خدائےذولجلال میں ہے
اسکےپرچم کوسرنگوں نہ ہونےدینا۔ اسکےساتھ بےوفائی مت کرناورنہ رسوا ہوجاؤگے!
آج اسکوہماری ضرورت ہے۔ اگراسکی مٹی میں ہماراخون شامل ہوگیا توہم دوجہانوں میں سرخرو ہوجائیں گے
#ہمیں_پیار_ھے_پاکستان_سے
A young maid in Lahore was raped by the owner's son and driver for 5 months straight. When she got pregnant, they took her for an abortion, she never came back.
Justice must be served 💔
سعودی عرب،قطر،متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر آج ہونے والا طے شدہ حملہ موخر کر دیا گیا ہے۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد، قطری امیر، اماراتی صدر نے حملہ موخر کرنے کی درخواست کی،رہنماؤں کا خیال ہے امریکا کو قابل قبول ڈیل ملے گی۔
ممکنہ ڈیل کےتحت ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکےگا،پیٹ ہیگستھ اورجنرل ڈین کین کو حملےسےروکا،اگلے کسی بھی موقع پر ایران پر حملے کیلئے تیار رہیں،امریکا کوقابل قبول ڈیل نہ ملی توبڑا حملہ کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔
سیالکوٹ سے شیخ سائرہ صاحبہ ایم اے اُردو ، ایل ایل بی، موٹیشنل اسپیکر اور انفلوئنسر ہیں۔ چھوٹی شیخی کے نام سے یوزر نام ہے۔ مطیع اللہ جان نے اپریل 2026 کو اپنی ٹویٹ میں (جو Constitution One Avenue کیس کے بارے میں تھی) غلطی سے خواجہ سعد رفیق کا نام فلیٹ مالک کے طور پر شامل کر دیا۔ بعد میں انہوں نے خود معذرت کر کے ٹویٹ میں درستگی کی اور واضح کیا کہ سعد رفیق کا کوئی تعلق نہیں۔
مطیع اللہ جان کی معذرت کرنے کے بعد 3 مئی سے انھوں نے معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھا دیا۔اور مسلسل اسی کمپئن پر چل پڑیں۔ خواجہ سعد رفیق نے دو پوسٹیں کیں جس میں وضاحت دی مگر کمپئن مسلسل شیخ سائرہ صاحبہ چلاتی رہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ایکس پوسٹ میں اعلان کیا کہ وہ ان لوگوں کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دے رہے ہیں جو میرے اور میری فیملی خلاف اس کمپین کا حصہ ہیں۔ میں ان کو قانونی نوٹس بھیجوں گا اور سزا دلواوں گا۔خواجہ سعد رفیق نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
شیخ سائرہ صاحبہ کو نوٹس موصول ہوا ہے تو وہ معافی مانگ رہی ہیں کہ میں اسلام آباد کیسے آؤں۔ ٹوئٹ یا فیس بک پر روم میں بند ہو کر کوئی چیز لکھ دینا بہت آسان ہے۔ کسی کیخلاف کمپین کا حصہ بننا بھی بہت آسان ہے کسی کو بدتمیزی والا کمنٹ کرنا بھی آسان ہے مگر جب کوئی نوٹس آتا ہے تب وہ اندر کا انقلابی رونا شروع کرتا ہے اور مظلوم بنتا ہے۔ خاتون کارڈ اپنی جگہ مگر ایک بندہ جو مسلسل وضاحت دے رہا ہے اور ایک ہفتہ وہ شخص وضاحت دیتا رہا کہ میرا ایسا کچھ نہیں ہے یہ میرے خلاف پراپیگنڈا ہے۔تو آپ کو اس وقت سوچنا چاہیے تھا کہ ہمارے ثبوت نہیں ہیں ہم اس کمپن کا حصہ نہ بنیں۔
خاتون کو رونے کی بجائے این سی سی آئی اے میں ثبوت پیش کرنے چاہیں۔ یہ کیس ان سب کیلئے عبرت کا نشان ہے کہ بنا تحقیق ڈالر کے چکر میں ایسی سٹوریز نہ دیا کریں ورنہ ایک نوٹس پر آپ رو رہے ہوں گے۔
🇵🇰Government has lifted commercial operating hour restrictions across Pakistan until May 31, allowing businesses to operate without fixed closing times.
میاں صاحب شفقت محمود سابق وزیرتعلیم تھ، خان صاحب نے اپنے وزیرتعلیم سے تو ڈسکس نہیں کرنا تھا کہ سائفر آیا ہے بتاؤ کیا کریں؟ سائفر ایک انتہائی سنجیدہ سبجیکٹ ہے، صرف اہم پورٹ فولیوز کے لوگ ہی اس پر ٹھوس بات کرسکتے ہیں۔
I'm trying to imagine Muslim kids chanting something similar about the Jewish or Christian faiths at a rally in London. The Prevent folks, counter-terrorism police, the entire British media would be all over the story, asking why Muslims are so extreme & brainwashing their kids.
حکومت نے عوام کو تاریخی ریلف فراہم کیا ہے پورے 5 روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی۔ یہ ہوتا ہے وژن یہ ہوتی ہے لیڈر شپ جبکہ انڈیا نے آج بڑھایا ہے۔قوم ان ظالموں کیخلاف نہ نکلی تو انھوں نے کفن بھی اتار لینا ہے۔
کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے،نیٹ ورک سے جڑے ملزمان کے فرار کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔
پنکی کے سابق شوہروں رانا ناصر اور رانا اکرم کےنام پی این آئی ایل میں شامل ہیں، دونوں بھائی شوکت اور ناصر بھی ملک سے نہیں بھاگ سکیں گے۔
انمول نے تفتیش کے دوران70لاکھ روپے کی مزید کوکین برآمد کروادی، انمول کے فلیٹ کے باتھ روم کے فلش سے 228گرام کوکین برآمد کی گئی ہے۔
پولیس نے انمول کیلئے منشیات کی رقم وصول کرنے والے دو ملزمان کو بھی دھرلیاجعلی اکاؤنٹس اور مکرو دھندے کیلیے پیسے کا لین دین بھی پکڑا گیا۔
یہ طعنہ روز ملتا ہے کہ ہم ایران کیخلاف بیانیہ بنا رہے ہیں یہودی بھی یہی کام کر رہے ہیں۔عقیدت مندوں کی تو چلو مجبوری ہے۔لیکن جیو پولیٹیکل سینس رکھنے والے کی کوئی مجبوری نہیں ہوتی وہ گراؤنڈ میں ہونے والی اور بیانات کی ڈیولپمنٹ پر تجزیہ کرتا ہے کسی کی خواہش پر تجزیہ کرنا شروع کر دے تو وہ تجزیہ کار تھوڑی ہوگا۔ انڈیا کو کسی صورت انڈراشٹیمیٹ نہیں کیا جاسکتا ہم انٹرنیشنل ریلیشنز میں ائسولیٹ ہونے والے ممالک کو بالکل بھی اگنور نہیں کرتے مگر پاکستان میں جس صحافی کو مڈل پاور اور سپر پاور کا فرق معلوم نہیں ہے وہ بھی تجزیہ کرتا ہے۔ حالانکہ اس نے ساری زندگی کسی اور بیٹ میں لگائی ہوتی ہے چلتی ہوا کا رخ دیکھ کر چل پڑتے ہیں۔ایسے ہی عقیدت مندوں کو ریاعت ہے کیونکہ میرا پہلا تجربہ ہوا ہے کہ یہ اپنے ملک سے پہلے دوسرے ملک کے وفادار ہیں تو یہ لوگ قابل رحم ہیں۔ اس وجہ سے ان کی پالیسی پر تعریف ہو جائے تو حقیقت پسندانہ اور اگر تنقید ہو جائے تو بیانیہ بنا رہے ہیں۔ لیکن فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اگر ان کی خواہش پر لکھنا ہے پھر وہ تجزیہ تو نہ ہوا۔عقیدت ہوگئی جیو پولیٹکس عقیدت سے محروم ہوتی ہے۔
ایران کے انڈیا کیساتھ جیو اکنامک انٹرسٹ ہیں کیونکہ ان کی اکانومی کا مسئلہ ہے لیکن یہ چیزیں بعد میں بھی ہوسکتی تھیں۔ مگر ایرانی پاکستان اور باقی ممالک کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارے پاس یہ آپشن موجود ہے ہم آپ کیلئے اس طرح دوبارہ سیکیورٹی تھریٹ بن سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے کوئی بھی ملک انڈیا کیساتھ ملکر سیکیورٹی تھریٹ بنے گا پاکستان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے افغان طالبان کی طرح کا آپریشن شروع کر دے گا۔چاہے وہ ایران ، متحدہ عرب امارات اور افغانستان کیوں نہ ہوں۔ پاکستان نے امریکہ و اسرائیل کے حملوں میں ایران کی حمایت کیساتھ سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران انڈیا کیطرف کیوں جائے گا اس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں ،چائنہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی میکانزم کے ذریعے ٹیکس وصولی کی حمایت نہیں کر رہا نہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا حامی ہے، متحدہ عرب امارات ایرانی آئل بلیک سے وائٹ کر کے سیل کرتا رہا ہے جس سے ایرانی معیشت چلتی رہی ہے۔جوکہ اب بند ہوگئی ہے امریکی ناکہ بندی سے ایرانی سپلائی متاثر اور شدید مندی کا شکار ہے۔ اگر امریکہ معاہدہ کرتا ہے ناکہ بندی ختم ہوتی ہے تو امریکہ ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھے گا۔ پابندیاں کچھ حد تک نرم رکھے گا۔اور مکمل اثاثے منجمد نہیں کرے گا۔ اس لئے چائنہ کے علاؤہ بھی انڈیا جیسی بڑی مارکیٹ کی ضرورت ہے کہ وہ ایران سے آئل خریدے۔ تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جائے۔
انڈیا اسرائیل و امریکہ سے بات چیت کرے گا کہ ہم کوئی رول ادا کرتے ہیں ہمیں ایران سے آئل خریدنے کی پہلے کی طرح اجازت دی جائے۔ کیونکہ یہ جنگ مذہبی نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے جیو اکنامک انٹرسٹ کو حاصل کرنے کی ہے یہ ریسورسز کی وار ہے امریکہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے اور ایران بھی پاور پولیٹکس میں خود کو انگیج رکھنا چاہتا ہے ایران کو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز پر کنٹرول کرتے ہیں تو ایک ڈیڈھ سال میں اس کا متبادل تیار ہو جائے گا جیسے سعودی عرب اپنی پائپ لائن سے آئل نکال رہا ہے تو اس پائپ لائن کو وسعت دی جائے گی۔ بحرین ، کویت ، عراق اور قطر بھی وہاں سے راستہ بنا سکیں گے عراق کی معیشت کا انحصار آئل پر ہے ایران نے ان کے جہازوں کو روک ہوا ہے۔فلحال ان کی کئی ٹیمیں مذاکرات کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ جس سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگی۔
ایران انڈیا کا سہارا لے گا کیونکہ اب خلیجی ممالک میں ایران کے حملوں کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دو قریبی ہمسایہ ممالک موجود ہیں جو ایران سے کئی گنا ملٹری پاور رکھتے ہیں اور بارڈر شیئرنگ ہے۔ خلیجی ممالک ہوں یا امریکہ ہو وہ بہت مختلف نوعیت کے ہیں پاکستان اور ترکیہ کی سٹریٹجک اہمیت امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک سے زیادہ ہے۔ ترکیہ بارڈر ، عراق اور سامنے قطر میں موجود ہے پاکستان بارڈر اور سامنے سعودی عرب میں موجود ہے یہ دونوں ایران سے فضائیہ ،ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی میں آگے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ و روس پیچھے اس وجہ سے ہٹ گئے وہ ہمسایہ ممالک نہیں تھے اب بھی امریکہ کے ہمسایہ نہ ہونے کا فائدہ ایران نے خوب اٹھایا ہے۔ اس لئے انڈیا کیساتھ ایران دوبارہ اپنے جیو اکنامک انٹرسٹ جوڑے گا۔
تحریر: فرحان ملک
FWIW it’s worth, India is better positioned to mediate between Russia and Ukraine than it is between the U.S. and Iran. The diplomatic alignments line up much better.
Fatima Sana hit her way into the record books with a sensational half-century in Karachi 🎉
Catch the Pakistan skipper in action at the ICC Women's #T20WorldCup next month, head here for tickets 🎟️ https://t.co/8kyuNOXKdL