یہ ڈی چوک میں کوئی جلسہ نہیں بلکہ کل لوگ ورلڈ کپ فائنل دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔
جبکہ عمران خان اس بزدل قوم کی خاطر موت کی چکی میں بیٹھ کر قربانیاں دے رہے ہیں 💔
26نومبر کوہمارےموبائل چھیننے والےپولیس والوں سےگزارش ہےکہ اگرکوئی میراسامسنگ کاموبائل واپس کردےتوپانچ لاکھ انعام ہے۔ آئی فون بےشک اپنےپاس رکھ لیں۔ سامسنگ موبائل میں میرے بزرگوں، دوستوں کی تصاویراور ویڈیوزہیں جواب اس دنیامیں نہیں ہیں۔ کچھ یادیں ہیں جوقیمتی ہیں۔ سیاسی کچھ بھی نہیں۔
سالارکاکڑ کافارم 47 کےوزیراعلی سرفرازبگٹی کو عمران خان کےخلاف بیہودہ الزامات پر جواب:
وزیراعلی سرفرازبگٹی کا یہ کہنا کہ بلوچستان میں بدامنی عمران خان کیوجہ سےہےناصرف بدترین بددیانتی ہےبلکہ انکی اہلیت اورسنجیدگی پر سنگین سوالات اٹھاتاہے۔ ایسےوقت میں جب بلوچستان لہولہان ہے، پورے صوبےمیں آگ لگی ہوئی ہے،سرفرازبگٹی مضحکہ خیزبیانات دےکراپنی کوتائیوں اورنااہلی کوچھپانے کی بونگی کوشش کررہےہیں۔ عمران خان کادور پچھلے 27سال میں بلوچستان کاپرامن ترین دور تھا۔ بلوچستان کی تمام شاہرائیں محفوظ تھی۔ بارڈر محفوظ تھے۔ کاروبارعروج پر تھا۔ عوام کوجان ومال کا تحفظ اوروسیع روزگار حاصل تھا۔ بلوچستان کی عوام عمران خان سےکتنی مطمئن تھی اس کا واضح ثبوت فروری 2024 کاالیکشن تھا جس میں اہلیان بلوچستان نے تحریک انصاف کو وسیع پیمانے پر ووٹ دیے۔ پارٹی نے صوبے کے16 میں سے 4 قومی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف 7صوبائی سیٹوں پر جیت کی دعویدارتھی لیکن فرشتوں کےفارم 45چھپانےکیوجہ سےآج بھی تحریک انصاف کے 4قومی اور 4صوبائی سیٹوں کےکیسزسپریم کورٹ میں چل رہے ہیں۔ سرفراز حکومت جس دن سے اس بدنصیب صوبےپر عزاب بن کرمسلط ہوئی ہے اس دن کےبعد بلوچستان کے باشندوں کو سکھ سا سانس نصیب نہیں ہوا۔ نوجوان درجنوں کے حساب سے قتل کیے جارہے ہیں۔ قومی شاہرائیں مغرب کے بعد ٹریفک کےلیے بندہوجاتی ہیں اور صوبے کا دیگر ملک سے رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ پچھلے چھ مہینوں سے تمام قومی شاہراہوں پر عوامی املاک اور ٹرانسپورٹ مسلسل جلائی جارہی ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ کے تمام کاروبار معطل ہوچکے ہیں۔ شہر کے شہر ویران ہیں۔ عوام الناس موت کے ڈر سے گھروں میں محصور ہیں۔ شہر کے شہر ہفتوں مسلسل دھرنوں، احتجاجوں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ صوبائی وزراء تک اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے۔ صوبائی حکومت کی اتنی اوقات نہیں کہ اپنے سرکاری ملازمین کو انکی جائز تنخوائیں دے سکیں۔ ملازمین کے آئینی، جمہوری احتجاج پر جو انکا بنیادی حق ہے انکو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنطیموں، سول سوسائیٹی اور سیاسی تنظیمیں جب بلوچستان کی عوام کےلیے بنیادی حقوق کا تقاضہ کرتی ہیں تو ان کا مقابلہ لاٹھی، گولی اور جھوٹے کیسز سے کیا جاتا ہے۔ اس وقت بلوچستان کے کتنے رہنما جیلوں میں ہیں یا جیلیں کاٹ چکے ہیں وہ پورے پاکستان کو معلوم ہے۔ نااہل حکومت کے دور میں صوبہ کرپشن اور سمگلنگ کے نئے ریکارڈ قائم کرچکا ہے۔ متعدد علاقوں کے مکین سراپا احتجاج ہیں کہ انکے پہاڑوں، محلوں میں مسلحہ جتے غول در غول گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ عوام کو روکتے ہیں، انکی تلاشی لیتے ہیں، انکو لوٹتے ہیں۔ وزیراعلی اور صوبائی وزیروں کی اتنی اوقات نہیں کہ حالیہ سانحہ زیارت کے شہداء کی فاتحہ خوانی میں شرکت کرسکیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عوام انکا استقبال جوتوں سے کرینگے۔
لہزاء، وزیراعلی صاحب؛ اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی نااہلی کی خوداحتسابی کریں، اپنی فارم 47 کی حکومت پر شرمندہ ہوں۔ آپکو نا عوام نے منتخب کیا ہے، نا آپ سے عوام کو کوئی امید ہے اور نا ہی آپ اس خیرات کی کرسی پر عوامی خدمت کےلیے بیٹھے ہیں۔ تنقید تو کجا، آپکی حیثیت نہیں ہے عمران خان کا نام لینے کی۔ عمران خان ایک مردمجاہد ہے جواس قوم اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرکے تین سال سے جیل میں بیٹھے ہیں۔ عمران خان نے 2010 کے بدترین سیلاب میں بلوچستان کی خدمت کی، اس سےپہلے زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔ انکی حکومت میں 450 مسنگ پرسنزاپنےبچوں کےپاس واپس پہنچے۔ عمران خان نےبلوچستان کو700ارب روپےکےوسیع فنڈدیے۔ آپ اور آپ جییسےدیگرکافی سابقہ بڑےناموں کومیں نےعمران خان کےگھربنی گالہ اوروزیراعظم سیکریٹریٹ میں لائنوں میں بیٹھ کرگھنٹوں انتظارکرتےاورمختلف مواقع پرانکی چاپلوسی کرتےاپنی آنکھوں سےدیکھاہے۔ عمران خان کی شفقت اورشرافت پر احسان فراموشی کےبجائے ظرف کامظاہرہ کریں۔ وزیراعلی صاحب، سچ بولیں، اگر آپ میں ہمت ہے تو!
عمران خان کا کوئی سیاسی جانشین نہیں ہے۔ عمران خان کے بیٹے جانشین نہیں ہیں، عمران خان کی بیوی جانشین نہیں ہے، عمران خان کی بہنیں جانشین نہیں اور نہ ہی چار سال سے منظر عام سے غائب مراد سعید جانشین ہے۔
اس بات میں کسی کو ایک فیصد بھی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ جانشینی بادشاہت میں ہوتی ہے اور عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد موروثی سیاست کے خلاف رکھی تھی۔
اللہ عمران خان کو زندگی اور صحت و تندرستی دے۔ عمران خان کے مزار کا مجاور بن کر سیاست چمکانے کا کسی کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ عمران خان کے ورکرز اور سپورٹرز یہ فیصلہ کریں گے کہ کس نے مشکل وقت میں عمران خان کا سب سے زیادہ ساتھ نبھایا اور کون اس زمہ داری کا بوجھ اٹھانے نے قابل ہے۔ لاشیں نوچنے والے گِدھوں کی طرح
جانشینی کی بےہودہ بحث بجائے عمران خان کی رہائی پر فوکس کیا جائے جو تین سال سے قید ناحق میں ہے۔
عمران خان کی تینوں بہنوں کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی مردانہ لیڈرشپ سہیل آفریدی، مینا آفریدی، شاہد خٹک، علی محمد خان، جنید اکبر، شیخ وقاص اکرم اور دیگر کو اپنی چوڑیاں اتار کردیں۔
جس انسان کا لیڈر تین سال سے ناحق قید میں ہو، جس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں اور جس کی بینائی تک چھین لی گئی ہو، اسکے کارکن یوں مسکراتے اور اتنی بے حسی نہیں دکھاتے۔
Breaking News:What I have come to know through informed sources is that Pakistan's incarcerated Ex PM İmran Khan who is languishing behind bar for the last 3 years &has lost his health considerably. " His eye issue is known but his health has detoriated" adding it's a health SOS"
Imran Khan has spent 9 months in solitary confinement without being allowed to meet his family. Three years have passed, and every possible pressure has been used against him yt he has not bowed. In the end, those who tried to break him are now eating shit after failing to achieve their objective.
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
24 سالہ احمد ولی 26نومبر کو شہید ہوا۔ یہ انکےمظلوم والد صاحب ہیں۔ شہادت کےبعد پشین بلوچستان میں جس مسجد میں انکی فاتحہ خوانی تھی وہاں پولیس جوتوں سمیت گھس گئی۔ کہا کہ یہ شہہد نہیں مردار ہے۔ ختم کرو یہ فاتحہ۔ گرفتاریاں کی،پرچے کیے۔
مرتے دم تک یہ الفاظ اور یہ سلوک نا بھولینگے۔