علیمہ خان کی حیثیت عمران خان سے جڑی ہوئی ہیں عمران خان کے دوران حراست جس طرح علیمہ خان نے پرفارمنس کیا ہے یہ غیر معمولی ہے پارٹی لیڈران سے زیادہ ورکرز کا اعتماد علیمہ خان پر ہے حبیب اکرام
چیف جسٹس پاکستان یحیی خان کا عمران خان سے براہ راست کلیش ہے ، عمران خان 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اگر 26 ویں ترمیم ختم ہوتی ہے تو چیف جسٹس یحی آفریدی عہدے سے فارغ ہو جائیں گے ،
اس لیے جسٹس یحیی خان عمران خان کے سب سے بڑے تین دشمنوں میں سے ایک ہے
جن غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ملک و قوم کی جس تباہی کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ تمام خدشات ان چار سالوں میں سو فیصد درست ثابت ہوچکے ہیں، ۲۰۲۳ میں جنوبی اضلاع کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے اور کتاب کی صورت مرتب کیے آج آپ گلی محلوں بلکہ سرکاری دفاتر میں لوگوں کی زبانی سن رہے ہیں۔ ابھی تو مالاکنڈ ریجن کے چند واقعات میں آپ کے کردار پر پولیس جوان بولے نہیں، جس دن وہ بولے آپ کے مونہوں پر کیا رہ جائیگا؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وارن کرنے والا، جنازے اٹھانے سے پہلے آواز اٹھانے والا، آگ بجھانے والا؛ غدار، دہشت گرد اور باغی بنا دیا جاتا ہے۔ بریکنگ نیوز کے چکر میں قوم بس دن کے ایونٹس پر ریکشن تک محدود ہوگئ ہے۔ آج ہر کسی کی ٹائم لائن پر بنوں لکی مروت کی ویڈیوز تو ہیں لیکن آج بھی دہشت گردوں کو لانے سے لے کر، معصوم لوگوں کی شہادتوں، امن کمیٹیز کے قیام اور لشکر کے نئے بیانیے کو سمجھنے کی کوشش نا کر کے سب اس درندگی کو مزید ایندھن مہیا کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد پختونخواہ میں جرنیلوں کی ہوس کی وجہ سے نفرت اس مقام تک آگئی ہے کہ نا ہی کسی پولیس کے تبادلے سے کام ہوگا نا ہی ایک ہفتے میں کئی بار ڈی آئی جیز، ڈی پی اوز اور دیگر کے تبادلوں سے پولیس میں آپ کی نیک نامی ہوگی۔
۲۰۲۳-۲۴ میں عوام کے بعد پولیس میں میڈ اپ دہشت گردی کے خلاف بڑھتی تشویش کے متعلق آپ کو وارن کیا، آج وہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔
ریاستی چھتری تلے امن کمیٹیز بنانے کے وقت خبردار کیا، آج وہی امن کمیٹیز بھی آپ کی حقیقت جان کر آپ سے نبردآزما ہیں۔
آج یہ بھی بتا دوں جو یہ آخری چیز رہتی ہے یہ جو امن لشکر بنانے کی آپ کی کوششیں ہیں جسے اگر آپ زبردستی بنانے میں کامیاب ہوگئے تو ہر شہری کے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو جب کل آپ کی پالیسی بدل جائے گی تو ان بندوقوں کا رُخ کس جانب ہوگا کچھ سوچاہے؟
اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو آپ کے مزید شر سے بچائے۔
”عمران خان کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف صرف ہم ہی نہیں بول رہے بلکہ
اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن
21 کرکٹ کپتانوں کا خط
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے تشدد
اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق (OHCHR)
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دفتر
یو ایس کانگریس کے متعدد ممبران
یو کے ہاوس آف لارڈز کے متعدد ممبران
کی رپورٹس ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ ہومن رائیٹس کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔“ سلیمان خان
#TorturingImranKhanIsACrime .
بڑے بڑے اینکر مجھے بڑی حیرت ہو رہی ہے ویسے تو بہت سویلین بالادستی والے بنتے ہیں اب آکر موقع ملا تو کہہ رہے ہیں چلو ایک آدھا پالش کا برش چلا ہی دیں وہ کہہ رہے ہیں طلبہ نے بھی تو فوجی افسر کے گریبان پر ہاتھ ڈالا
پہلی بات پوری ویڈیو میں یہی نظر آ رہا ہے جب کرنل صاحب اپنی فوجی چھڑی ایک کو مارتے ہیں جواب میں طلبہ کوئی ادھر سے دھکا دیتا ہے کوئی کالر سے پکڑ لیتا ہے اور پھر یہ پستول نکال لیتے ہیں ان کے چھڑی چلانے سے پہلے کسی نے نہ انکا گریبان پکڑا ہے نہ انکو دھکا دیا ہے
اسدطور
اگر سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں توہینِ عدالت کا کیس حکم نامے میں درج شدہ اگلی تاریخِ سماعت16ستمبر کو ہی لگا نا تھا تو پھراپنے تحریری حکم نامے کے پیرا14میں یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ ”اگر عمران خان یا انکی فیملی کو اس حکم نامے پر عملدرآمد سے متعلق کوئی شکایت (grievance)ہو تو وہ اس عدالت کے سامنے درخواست دے سکیں گے۔۔۔“
تحریری حکم نامے میں واضح طور پر یہ سب لکھنے کا مقصد کیا تھا؟
یہ ہراس ہورہی ہے یا بچوں کو جن میں لڑکے ہی نہیں لڑکیاں بھی شامل ہیں انہیں ہراس کر رہی ہے ؟
اور میں نے یہ سنا ہے کہ بچوں جن کو اس ریاست نے نہ مفت تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں بنائیں نہ ہوسٹل بنائے ۔اور ان کے والدین جائیدادیں بیچ کر اپنے بچوں کو پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور ہاسٹلز میں بھیجنے پر مجبور ہیں اسلام آباد کی غنڈہ پولیس نے ان کو احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا ہے ، کوئی شرم انسانیت نام کی چیز باقی بچی ہے اس ملک میں ؟
بچوں کو یونیورسٹی لیول تک پہنچانا والدین کے لئے آسان مرحلہ نہیں ہوتا بچوں کی اکثریت اپنی ٹین ایج پرابلمز کی وجہ سے کالج سے آگے نہیں جاتی ۔
اس واقعہ کو مونال ، چڑیا گھر اسلام آباد ، سیدپور گاوں اور بری امام کی آبادی کا تسلسل سمجھیں۔
فوج کے مستقبل کے منصوبوں میں سول میڈیکل اور اینجینئرنگ یونیورسٹیاں قبضے میں لے کر سولین طالب علموں اور اساتذہ کو بے دخل کرنا بھی شامل ہے۔
غالب گمان ہے یہ الفاظ لکھنے تک راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی کوئی فوجی تعینات ہو چکا ہوگا۔
بظاہر ایسا لگتا ہے یہ دانستہ ٹیسٹر لگایا فوج نے۔ اب ان طالب علموں پر تشدد کرلے قوم کا ردعمل دیلھا جائے گا۔
فوج کا خیال ہے جو قوم عمران خان کو یتیموں کی طرح چھوڑ سکتی ہے وہ ان طالب علموں کے لئے بھی نہیں نکلے گی۔
میں آپ کو اپنی دانست میں پورے یقین سے بتا رہا ہوں کہ اس سے بھی آگے کے مراحل طے شدہ ہیں جن میں پمز اسپتال پولی کلینک اسپتال شامل ہیں۔
یہ فوج نہیں آکاس بیل ہے اور ان کا ہدف پرانے روائتی اسلام آباد سے سول آبادی کو مکمل طور پر نکالنا ہے۔
وہ لمحہ جب اڈیالہ جیل کے باہر سردی میں عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن سے پانی پھینکا گیا، اس وقت Woman کارڈ والے کہاں تھے؟
نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دینگے 💔
اگر عورت کے اوپر بات آئے توباوردی مرد بندوق اٹھا سکتے ہیں کیسی عجیب جسٹیفیکیشن دی جا رہی ہے؟ تو پھر کیا، غریب اور عام شہریوں کی عورتیں، عورتیں نہیں؟ کیا ہمارے سیاست دانوں، ایم این ایز، ایم پی ایز، عام ورکرز اور ان کی بیویاں عورتیں نہیں؟ عزت صرف طاقتور کے گھر کی عورت کی ہوتی ہے یا ہر عورت کی عزت برابر ہے؟
عرض کی تھی کہ خاتون اپنے دفتر میں اکیلی اور محفوظ بیٹھی تھیں۔ کرنل کو فون کرنے کے بعد آئیں ٹانگ اٹھائی اور بیرئیر گرایا کیونکہ کرنل جو آرہا تھا۔ سیکیورٹی گارڈ کو بھی خاتون کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر کرنل بھی آگیا۔ باقی پھر اللہ میاں کے کام ہیں۔
چیف جسٹس یحیی خان نے سوچا کہ کہیں عاصم منیر کی توہین نہ ہوجائے لہٰذا یحیی خان نے عدالت کی توہین برداشت کر لی
26ویں ترمیم زندہ باد
#TorturingImranKhanIsACrime
عمران خان کی بہنوں کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت 16 ستمبر یعنی اکیس دن بعد ہوگی۔ عرض کی تھی عدالتیں وہی کرتی ہیں جس کا انہیں حکم آتا ہے۔ یہ عدالتیں عمران خان کو بنیادی ترین حقوق نہیں دلوا سکتیں۔
میرے والد اپنے اصولوں پر کھڑے ہیں، وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، تین سال سے سخت قید برداشت کر رہے ہیں، مگر ظالم کے سامنے جھکنے سے انکاری ہیں!!! قاسم خان
#pakistan@Kasim_Khan_1999
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
یہ ہے عمران خان کی تربیت اور نظریہ کہ ان مشکل ترین حالات میں بھی جب میں نے پوچھا کہ یہ کیوں اوورسیز پاکستانیوں میں کمپین نہیں چلا رئے تو قاسم خان کا کہنا تھا کہ ہم خاندانی سیاست کے قائل نہیں ہیں میرے والد کا یہ نظریہ نہیں ہے یہ تحریک انصاف اور پاکستانیوں کا حق ہے۔
پتہ نہیں خریدہ فاروقی جو کل سے ہراسگی ہراسگی پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ بیٹھی اس نے ان گھنگروں کی ایڈوانس پیمنٹ لے لی تھی یا نہیں کیونکہ یہ کہانی تو کچھ اور طرف ہی جس رہی ہے
جنرل کی طرح کرنل کی بیوی بھی اختیارات کے ہوس میں مبتلا معلوم ہوتی ہے اور کرنل کل ان اختیارات کو خوف کے زریعے یقینی بنانے آیا تھا۔
عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے رات 12 بجے کھلنے والی سپریم کورٹ آج کہہ رہی ہے کہ ہم توہین عدالت کی سماعت جلد مقرر نہیں کرسکتے یہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے
جس سپریم کورٹ کا چیف جسٹس یحیی خان ہو اس سپریم کورٹ کی پالیسی انصاف پر مبنی کبھی ہو ہی نہیں سکتی