اسرائیل کا قیام اور روتھ چائلڈ فیملی!
روتھ چائلڈ فیملی اور صیہونی تحریک (خصوصاً تھیوڈور ہرٹزل) نے عثمانی سلطنت کے سلطان عبدالحمید ثانی (خلیفہ) کے سامنے فلسطین کے بدلے ایک انتہائی بڑی معاشی پیشکش رکھی تھی، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. کیا پیشکش کی تھی؟ (مالی آفر)
19ویں صدی کے آخر (خصوصاً 1896ء سے 1901ء کے دوران) عثمانی سلطنت شدید معاشی بحران اور یورپی ممالک کے بھاری قرضوں زیرِ نگیں تھی، جسے یورپی طاقتیں "یورپ کا بیمار مرد" (The Sick Man of Europe) کہتی تھیں۔
صیہونی رہنما تھیوڈور ہرٹزل نے روتھ چائلڈ خاندان اور یورپ کے مالدار یہودی سرمایہ داروں کی پشت پناہی سے سلطان کے سامنے درج ذیل پیشکشیں رکھیں:
تمام غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی: صیہونی تحریک اور یہودی سرمایہ دار عثمانی سلطنت کے تمام غیر ملکی قرضے (جو تقریباً 150 ملین سونا پاؤنڈ بنتے تھے) خود ادا کر دیں گے۔
شاہی خزانے کے لیے بھاری رقم: سلطان عبدالحمید کے ذاتی اور شاہی خزانے کے لیے کروڑوں سونا پاؤنڈ کی نقد رقم پیش کی جائے گی۔ عالمی سطح پر سیاسی و مالی معاونت: یورپی پریس اور وال سٹریٹ کے ذریعے عثمانی سلطنت کی معاشی اور سیاسی مدد کی جائے گی اور جدید جنگی بحری جہاز و اسلحہ کی خریداریاں آسان بنائی جائیں گی۔
2. کیا مطالبہ کیا تھا؟
اس بہت بڑی مالی افر کے بدلے میں سلطان اور عثمانی حکومت سے بنیادی طور پر دو اہم مطالبات کیے گئے تھے:
1. فلسطین میں یہودی خودمختاری یا منشور (Charter): فلسطین کے علاقے کو یہودیوں کے لیے ایک "خودمختار یہودی وطن" (Jewish Homeland) تسلیم کیا جائے اور وہاں یہودیوں کی بلا روک ٹوک ہجرت اور آباد کاری کی قانونی اجازت دی جائے۔
2. اراضی کے حقوق: یہودیوں کو فلسطین میں زمینیں خریدنے اور اپنے مقامی انتظامی دفاتر قائم کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔
3. سلطان عبدالحمید ثانی کا تاریخی ردِعمل
سلطان عبدالحمید ثانی نے اس بے پناہ دولت اور مالی افر کو یکسر مسترد کر دیا اور تھیوڈور ہرٹزل کو جو تاریخی جواب دیا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے: "میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی نہیں بیچ سکتا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی ملکیت ہے۔ میرے لوگوں نے اس سرزمین کو اپنے خون سے فتح کیا اور خون ہی سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہودی اپنے کروڑوں روپے اپنے پاس رکھیں۔ اگر عثمانی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تب ہی وہ فلسطین کو مفت میں حاصل کر سکتے ہیں، لیکن میرے جیتے جی ایسا ممکن نہیں ہوگا۔"سلطان عبدالحمید کے اس سخت اور واضح انکار کے بعد، روتھ چائلڈ فیملی اور صیہونی تحریک نے اپنا تمام تر زوّر اور حکمتِ عملی عثمانی سلطنت کے اندرونی و بیرونی مخالفین (بشمول برطانوی حکومت اور نوجوان ترک تحریک) کے ساتھ مل کر عثمانی خلافت کے خاتمے پر لگا دی، جو بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے بعد ممکن ہوئی۔
سب حیران کیوں ہیں؟
بھئی وزیراعظم نے جس خاندان کے نمائندوں کے ساتھ فخریہ انداز میں تصویر لگائی ہے، ظاہر ہے ان کے لیے یہ فخر کی بات ہوگی۔ لیکن ہم نے تو ساری عمر یہاں یہی سنا کہ یہودی ایجنٹ عمران خان ہے۔
جب سے رجیم چینج ہوا، ہم نے کیا کیا نہیں دیکھا؟ اسرائیلی پارلیمنٹ کی لائیو کوریج، نیتن یاہو کی تصاویر کو پاکستانی میڈیا میں نارمل کرنا، غزہ کے نام نہاد ’’پیس بورڈ‘‘ میں شامل ہونا، پاکستان سے وفود کا اسرائیل جانا، اسلام آباد میں سیمینارز اور مختلف پلیٹ فارمز پر اسرائیل سے متعلق پروگرام یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے
غزہ کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مقدمے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ سینیٹر مشتاق احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، فلسطین کا جھنڈا اٹھانے پر نوجوانوں کو سٹیڈیم سے نکال کر گرفتار کرنے کے واقعات یہ سب بھی اسی دور میں ہماری آنکھوں کے سامنے آئے
اور اب ایک ایسے خاندان کے نمائندوں سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ہے
کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی بھئی پہلے تو یہ بتائے کہ ابتک پاکستان کتنی سرمایہ کاری آپ لائے ہیں۔۔ ٹھیک ہے چلو یہ ملاقات سرمایہ کاری کے حوالے سے تھی ۔لیکن تھوڑی سی تاریخ بھی کھنگال لیں۔ Rothschild خاندان صہیونی منصوبے اور یہودی آبادکاری میں فلسطینیوں کو اپنی سر زمین سے در بدر کرنے میں کتنا گھناؤنا کردار رہا ہے ۔اقر اب بھی اسرائیل اس خاندان کیلئے سب سے پہلے ہیں
ساری عمر یہودی ایجنٹ کا نعرہ عمران خان کے خلاف لگایا گیا۔ آج ذرا یہ بھی پوچھ لیجیے کہ اسرائیل اور صہیونی طاقتوں کے ساتھ عملی رابطے اور تعلقات کس کے دور میں اور کس سطح پر نظر ا رہے ہیں؟
پھر فیصلہ کیجیے کہ یہودی ایجنٹ کا لیبل بانٹنے والے خود اپنے لیے کون سا معیار رکھتے ہیں۔
فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والا مجرم، اور اسرائیل سے متعلق شخصیات و اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والا قابلِ فخر کیوں۔۔؟
شہباز شریف صاحب نے لندن میں اسرائیل کے بانیان،محافظین،پشتیبان بااثر اسرائیل نواز خاندان Rothschild & Co سے ملاقات کی۔ یہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس خاندان کے ساتھ ان کی دوسری ملاقات ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جسے عالمی سطح پر رسول اللّٰہ کی امت کے خلاف پالیسیوں اور سازشوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہی خاندان استعمار و سامراج کا ایک طاقتور چہرہ ہے۔یہ ملاقات غزہ/ فلسطین کے موجودہ تناظر میں بہت تشویشناک ہے،کیا حکومت بتائے گی اس ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا؟؟؟
دوسری جانب ملک میں فلسطین کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ آج بھی میں اپنے ساتھیوں سمیت ضمانتوں کے لیے اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوا،جہاں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے کے جرم میں ہمارے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور ہمیں بغیر نوٹس جاری کئے اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔
یہ انڈیا سے ملیں جپھیاں ڈالیں تو خیر ہے عام پاکستانی انٹرویو دے دے ،چینل پر چلا جائے بات کر دے تو غدار۔۔۔
شریف خاندان کے مودی سے یارانے سب کے سامنے ہیں۔
اگر پشاور میں جانور اور انسان ایک جگہ سے پانی پیتے تو اب تک صوبے میں گورنر راج لگ چکا ہوتا لیکن چونکہ یہ پنجاب ڈیرہ غازی خان ہے اسی لئے بکاؤ میڈیا خاموش ہیں۔
سوشل میڈیا اس ویڈیو کو ضرور وائرل کریں 🔥
جب پنجاب پر مسلط ٹک ٹاکر وزیراعلی کا سارا فوکس صرف ذاتی تشہیر، شاہانہ دوروں اور فوٹو شوٹس پر ہو گا تو پنجاب کے معصوم بچوں کا مستقبل اور زندگیاں یوں ہی داؤ پر لگی رہیں گی۔ گجرات کی حیدر کالونی میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول مہمدہ کے اطراف گزشتہ 20 روز سے گندا پانی جمع ہے، لیکن ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم گہری نیند سو رہے ہیں
اگر لڑکیوں کا یہ سکول پشاور میں یوتا تو ابھی تک پٹواری اور لفافے زمین آسمان ایک کر دیتے
لیکن یہ پنجاب گجرات کی ویڈیو ہے اسی لئے یہ ابھی تک سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوئی
فوج نے عمران خان کا پورا خاندان اغواء کر لیا ہے، ڈاکٹر شہباز گل کا فوجی پراڈکٹس کی بائیکاٹ مہم کا اعلان، کم از کم پاکستانی قوم اتنا تو کر سکتی ہے، اس پیغام کو ہر جگہ پھیلائیں۔
مدینہ یونیورسٹی سعودی عرب کے مولانا عبدالرحمن سے سوال: کیا عمران خان ایماندار لیڈر ہے؟
مولانا عبدالرحمن: عمران خان ہمیں ایماندار لیڈر لگتا ہے کیونکہ آج تک ایڑھی چوٹی کا زور لگایا لیکن کوئ کرپشن کیس ثابت نہیں ہوا، اس سے بڑی ایمانداری کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے
آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے سات سابق کپتانوں نے ایک مشترکہ بیان میں اپنے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کریں کہ دنیائے کرکٹ کے ایک بڑے کھلاڑی عمران خان کی زندگی کو جیل میں خطرات لاحق ہیں انہیں جیل میں مرنے سے بچایا جائے
لاہور کی صورتحال۔۔۔
واضع رہے کہ یہ با ضابطہ کال نہیں دی گئی تھی بلکہ ایک کارکن کی شہادت پر اسکے گھر اسکے خاندان سے تعزیت کیئے آمد تھی۔ اسکے بعد جب سہیل آفریدی چلے تو ہزاروں لوگ انکے ساتھ نکل پڑے۔
بابا جی پندرہ ہزار کے راشن سے کم از کم تین ہزار روپے ٹیکس ادا کریں گے۔ غریبوں کے جیبوں سے نکالے گئے اس پیسے سے جسٹس یحییٰ خان، سرفراز ڈوگر لاکھوں روپے تنخواہیں لیں گے اور جسٹس امین الدین کی سرکاری BMW کار میں فیول ڈالا جائے گا تاکہ ناانصافی کا یہ نظام چلتا رہے اور چند لوگوں جہازوں کے مزے لیتے رہیں۔
فارم 47 پہ قوم کی امانت میں خیانت کر کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر ملک و قوم سے غداری کرنے والا یہ شخص اس عدالت میں پہنچ گیا ہے کہ جسے کوئی بریگیڈیئر کنٹرول نہیں کر سکتا ، ایسی عدالت کہ جہاں پورا پورا انصاف ہوتا ہے، ایسی عدالت کہ جس کے فیصلوں پر عاصم منیر اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے !!