My wife went to the bank to operate her account today and she was told it’s frozen as per FIA orders,my name is on block/nofly list for months. This is absurd. Have we lost our citizenship rights in this country
In the last few days, my sons’ cousins, Shahrez & Shershah (Aleema Khan’s sons), have been abducted from their homes in front of their young children & held in prison.
Their other cousin Hassan Niazi, has been held in a military prison for over a year.
The government has also threatened my sons Sulaiman and @Kasim_Khan_1999 with arrest if they travel to Pakistan to visit their father.
No state should be allowed to target families to settle political scores.
عمران خان کی جماعت نے بغیر کسی نشان کے الیکشن میں سویپ کیا یہ دنیا کی سو سالہ الیکٹورل تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا اور یہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی صدمے سے کم نہ تھا الیکشن کے اگلے دن انہون نے پورا الیکشن چوری کر لیا ! علیمہ خان 🔥
🇵🇰 EXCLUSIVE | IMRAN KHAN'S SISTER: THEY ARREST OUR SONS BUT CAN’T SILENCE THE MESSAGE
Aleema Khanum:
"So I went out to the press. I said, 'Is this their way of saying, Don’t talk about Imran Khan’s message anymore'? I don’t know.
So I went out and repeated the message, because people need to know that even if they arrest 2 of our sons, it doesn’t matter.
You have to understand why my brother is sitting in jail. He’s been offered deals: 'If you stay quiet, we’ll move you to your house.'
Little offers, little snippets over time.
But my brother said, 'What is the value of my life if I don’t do something meaningful? What I want to do is for the people of Pakistan, not for myself.'
He said, 'The value of a person isn’t in making billions. Greatness isn’t about big cars or money.
When you dream big, when you want to do something truly great, it’s about bringing freedom to the people of Pakistan.'”
Source: @ptiofficial, @aleema_khanpk
Imran Khan’s son @Kasim_Khan_1999 raises voice for his cousins Shahrez & Shershah.
He says that these tactics “will not break us - they only expose the injustice further. Targeting innocent family members is cruel, unlawful, and must end”
Family is being punished for #VictoryForImranKhan by Supreme Court’s bail verdict!
🇵🇰 EXCLUSIVE | IMRAN KHAN'S SISTER: GUNMEN STORMED HOME AND TOOK MY SON
@Aleema_KhanPK:
"It’s disorienting to understand why they picked up my eldest son.
1st, they stopped him at the airport. They told him he was on an exit control list. They held him for several hours.
He didn’t tell anyone in the family at the time.
Then, they came in the evening, armed men in plain clothes. A lot of them.
They beat up some of our staff. They took the drivers and assaulted them, too.
They went straight up. They knew exactly where to go.
My son was sitting with his 1-and-a-half-year-old daughter and his 6-year-old daughter. His wife was there too.
And they just grabbed him."
My cousins Shahrez & Shershah have been abducted, while Hassan Niazi has been convicted in a military court. This is blatant state repression, punishing family members because the Supreme Court tried granting Imran Khan bail.
Such tactics will not break us - they only expose the injustice further. Targeting innocent family members is cruel, unlawful, and must end.
🚨🇵🇰 MINHA QASIM, THE LITTLE GIRL WHO CELEBRATED KHAN’S BAIL, HAS BEEN ABDUCTED
Minha Qasim, the little girl who was seen handing out sweets after Khan’s bail, has been abducted by Punjab Police.
Her family says she is missing and not at any police station.
Source; Eyes on Pakistan
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی را�� کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
”ظلم و جبر کے بدترین دور میں 5 اگست کی کال پر پاکستانی قوم کا بڑی تعداد میں نکل کر احتجاج ریکارڈ کروانا ناصرف قابل تعریف ہے بلکہ ملک پر چھائی ظلم کی اندھیری رات میں طلوع سحر کی نوید ہے۔ عوام نے جیسے تمام تر فسطائیت کے باوجود کل سڑکوں پر نکل کر اپنے آئینی حقوق کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا وہ قابل تحسین ہے۔
میں بالخصوص پنجاب کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چھاپوں اور گرفتاریوں کے باوجود خوف کے سب بتوں کو توڑ دیا۔ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی عوام جس تعداد میں 5 اگست کو ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے وہ شاباش کے مستحق ہیں۔ لیڈر شپ پر پریشر کے باوجود بھرپور ملک گیر احتجاج عوامی شعور و بیداری کا شاندار مظہر ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی ڈکٹیٹر کے مارشل لأ دور میں اس قدر ظلم نہیں ہوا جتنا “عاصم لأ” میں عاصم منیر کر رہا ہے۔ موجودہ دور کا موازنہ صرف یحییٰ خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے جب عوامی رائے کو روندنے کی غرض سے مجیب الرحمٰن کی پارٹی اور عوام پر فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے اور محض اپنے اقتدار کے لیے ملک کو دو لخت کردیا تھا۔ آج ملک میں جو ہورہا ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ تب بھی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر قانون کی بالادستی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ میڈیا کی آزادی اور احتجاج کا حق چھین لیا گیا تھا اور ملک میں صرف جنگل کا قانون نافذ تھا۔ اس جبر کے نظام سے نجات صرف تب ممکن ہے جب یہ قوم یکجا ہو کر کھڑی ہو گی۔
ہماری تحریک کا اگلا اہم دن 14 اگست ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں دے کر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن قوم آج تک “حقیقی آزادی” سے محروم ہے۔ اس ملک میں جب تک آئین و قانون کی بحالی نہیں ہو گی آزادی نہیں ملے گی۔ 14 اگست کو وطن عزیز میں جاری فسطائیت کے خلاف پوری قوم ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں نکلے۔
ہمیں اس مافیا سے آزادی لینا ہو گی۔ اور آزادی لینا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم قربانی دینے کو تیار ہوتی ہے۔ میں خود اپنی قوم کی خاطر جیل میں بدترین حالات کاٹ رہا ہوں۔ یہاں موجود قیدی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایسا سلوک تو کسی عام قیدی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا جیسا کہ میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مجھے توڑنے کی ناکام کوشش میں میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو بھی بدترین حالات میں رکھا جا رہا ہے، مگر میں پھر بھی آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے قربانی دے رہا ہوں۔ ح��یقی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر قربانی دینا ہو گی۔
میں اس “ڈاکو، ڈفر الائنس” کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا اور عاصم لاء کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ مجھے ساری زندگی بھی جیل میں رہنا پڑے میں اس کے لئے تیار ہوں!!
یاد رکھیں کہ بہادر قوموں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ تمام پاکستانی جیل جانے کا خوف اپنے دل سے نکال دیں۔ میرا تحریک انصاف کے ذمہ داران کو بھی خصوصی پیغام ہے کہ اپنے دلوں سے جیل کا ڈر نکال کر لوگوں کی قیادت کریں، اور جمہور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قیادت فراہم کریں۔
خیبرپختونخوا میں آپریشن صرف اور صرف تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہا ہے-ایسا ہی آپریشن اے این پی کے دور میں بھی کیا گیا تھا اور مشرف دور کی ناکام پالیسیوں کو اپنا کر اے این پی خیبرپختونخوا میں ختم ہو کر رہ گئی۔ میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے دہشتگردی، نفرت اور تباہی مزید پھیلتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں کوئی نیا آپریشن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے۔ وہاں کے مسائل کا حل مقامی اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بات چیت سے ہی ممکن ہو گا۔ صرف افغانستان سے ردعمل کی امید میں افغان مہاجرین کو جس بے دردی سے بے دخل کیا گیا، وہ بھی افسوسناک ہے۔ افغانستان سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو اپنے ہی لوگوں پر بندوق اٹھا کر حالات خراب کرنے کی افسوسناک کوشش جاری ہے۔
ایک مرتبہ پھر واضح کر رہا ہوں کہ جن ممبران اسمبلی کو نا حق نااہل کیا گیا ہے ان کی نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں لڑے گا۔ ان لوگوں نے تمام مشکلات کے باوجود تحریک انصاف پر یقین کیا اور پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑا لہٰذا یہ سیٹیں انہی کا حق ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا مطلب ہو گا کہ ہم ان کے ناجائز عمل کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں حصہ لینا ہمارے لوگوں کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہو گا-
آئین و قانون کی بحالی کے لیے کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد، قومی ڈائیلاگ کے آغاز اور اہم قومی مسائل کے حل پر متفقہ تجاویز پیش کرنے پر تمام شرکأ اور آرگنائزز خصوصاً “تحریک تحفظ آئین” کے عہدیدار��ن مبارکباد کے مستحق ہیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ، وکلأ اور میڈیا سے گفتگو۔ (۶ اگست، ۲۰۲۵)
کیا لکی مروت میں شہید ہونے والو کو بھی دہشت گرد ڈکلئیر کر دیا جائے گا یا ایک دفعہ پھر کہا جائے گا کہ گولہ دشمن ملک یا دہشت گردوں نے فائر کیا تھا؟ واٹس ایپ میڈیا پھر لکی مروت کے شہدا کو کسی کے کھاتے میں ڈال دے گا۔پھر لاشوں پر بیانیہ بنایا جائے گا۔ آپ کو کہا تھا ناں کہ ڈرون مارٹر اور گولہ یہ سب بڑے سمجھدار ہیں یہ صرف معصوم پاکستانیوں کے گھروں پ�� ہی گرتے ہیں کیونکہ یہی ہمارا تجربہ ہے ایسے ہی مارٹر گولوں کی بارش ہمارے گاؤں پر بھی ہوئی تھی جس سے ایک دن میں کئی جنازے اٹھے تھے لیکن رات کو ٹی وی پر خبریں چلی تھیں کہ ”دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، متعدد ہلاک“ حالانکہ اس دن ایک بھی دہشت گرد نہ مرا، نہ ان کا ٹھکانہ نشانہ بنا، بس ہم پر ہی قیامت گرائی گئی۔ وہ ۲۰۰۸ تھا آج ۱۸ سال بعد بھی وہی پلے بک ہے۔۔۔ ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اگر روزانہ جنازے نہ اٹھیں تو ان کو چین نہیں آتا۔مقصد خوف پیدا کرنا امن کے احتجاج روکنا پھر آپریشن کی خواہش پوری کرکے ریلیونٹ رہنا اور اس کی آڑ میں وسائل پر قبضے کرکے کمٹمنٹ پوری کرنا ہے۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوگا۔ قوم کا شک تو اس وقت دور ہوگیا تھا جب ہم نے نئی جنگ کی منصوبہ بندی کے وقت سے اس کو ایکسپوز کیا،دو دفعہ اپنا امن خود بحال کیا لیکن امن کی آوازوں کی سر کی قیمت لگائی گئی غدار اور دہشت گرد قرار دیا گیا۔سرحد پر باڑ کے باوجود باآسا��ی قافلوں کی صورت ان کو لایا جا رہا تھا مالاکنڈ میں تو ان کو پھیلنے سے پہلے ہم نے نکال دیا لیکن نگران حکومت میں ان کو جنوبی اضلاع کی جانب بسا دیا گیا۔اب آپریشن کا راگ الاپا جا رہا لیکن امن کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، تحریک زور سے جاری ہے لوگ اپنا امن خود بحال کرنا چاہتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں لیکن علاقے سے ایک فریق نہیں بلکہ دونوں کو نکال کر ہی امن ممکن ہے۔ اس لیے باجوڑ قومی جرگہ امن کے لئے خود “دونوں” فریقین سے جرگہ کرنے لگا ہے کیونکہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ بدامنی میں ہمیشہ سے دونوں کا کردار رہا ہے اور دونوں سے باجوڑ سے نکلنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
مہمند میں بھی حالات تیزی سے خرابی کی طرف لے جائے جا رہے ہیں اور آپریشن کے پلان کے مطابق دوسرے مرحلے میں مہمند کا بھی نام ہے۔ باجوڑ اور تیرہ سے یکجہتی کرنے کے لئے سجاد مہمند روزانہ کی بنیاد پر قوم کے ساتھ مل کر امن کے لئے آواز اٹھا رہا ہے۔آپ سب سے گزارش ہے کہ ان کے ساتھ مل کر آواز اٹھائیں کہ آپریشن نامنظور، ڈرون حملے نامنظور، ڈالری جنگ اور وسائل پر قبضہ نامنظور۔ میں یہ بات بھی ��یکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ باجوڑ سے وزیرستان تک امن تحریک کے دوستوں کی زندگیوں کو “ریاست” کی طرف سے خطرہ ہے۔
کراچی کے دوست جو امن تحریک میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے ان کو بھی پیغام ہے کہ آپ بھی اپنے ان پاکستانیوں سے جو سفید پرچم لے کر ملک میں امن کے لئے نکلے ہیں ان کا ساتھ دیجئے تمام دوستوں کو میں نے پیغام بھیج دیا ہے انشاءاللہ جلد کراچی میں امن مارچز کا آغاز ہوگا۔ ہم سب نے مل کر امن کا قائم کرنا ہے۔مشکل ضرور ہے لیکن حکمت، حوصلے، اتفاق اور جہد مسلسل سے انشاءاللہ ہم ایک دفعہ پھر اپنا امن بحال کریں گے اور ڈالری جنگ کو روکیں گے۔
اس سب ”میڈ اپ“ بد امنی میں آئین ک�� بحالی اور عمران خان، بشری بی بی سمیت ناحق اسیران کی رہائی کی تحریک بلکل بھی پس پشت نہیں ڈالی جائیگی۔ کیونکہ عمران خان کی ابسولوٹلی ناٹ کی للکار اپنے لوگوں کو ایندھن بنانے سے انکار تھا اور آج اگر وہ باہر ہوتے، ان کا مینڈیٹ نہ چھینا جاتا، تو نہ ڈرون ہوتے نا ہی آپریشن اور نہ بد امنی۔۔آپ کی تمام تجاویز کے ساتھ اپنی تجاویز بھی پارٹی کو بھیج دئی�� ہیں لیکن چونکہ عمران خان کی طرف سے نامزدہ کردہ عہدیداران کی طرف سے یہی پلان فی الحال فائنل ہوا ہے کہ ۵ اگست کو ہر صوبے نے صوبائی تنظیم کے پلان کے مطابق چلنا ہے لہٰذا اس میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔