“Pakistan is not just a nuclear & missile power; it also has highly capable armed forces. Inrecent war, Pakistan defeated India. It also manufactures everything from tanks to fighter aircrafts.”
- Saudi TV after Mecca Agreement
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستا�� تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ��ے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک س��چ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.
چیونگم چباتے وقت معدہ حیران ہوتا ہے کہ بندہ کچھ کھا تو رہا ہے لیکن میرے پاس نیچے کچھ نہیں آرہ�� بالکل اسی طرح پاکستانی عوام پریشان ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے اور بہت ترقی ہو رہی ہے مگر نیچے عوام تک کیوں نہیں آرہی۔ منقول
This is shocking. We do not recognise rogue entity Israel so how can we show live proceedings from this terrorist entity's "parliament"? Shameful appeasement. Have we forgotten the genocide of Palestinians these terrorists have carried out & are still continuing it? @Mushahid
تحریکِ لبیک کے رہنماؤں اور ورکرز پر کریک ڈاؤن اور بیگناہ ورکرز کی شہادتوں پر پاکستان تحریکِ انصاف کا ردِعمل؛
پاکستان تحریک انصاف شدید ترین الفاظ میں مریدکے اور دیگر مقامات پر تحریکِ لبیک کے خلاف طاقت کے بےجا استعمال اور خون ریزی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ یہ ایک قبیح، گھٹیا اور غیر انسانی عمل ہے، جسے کسی جمہوری معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عوام پر گولی چلانا صرف نفرت پیدا کر سکتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی۔
26 نومبر کو بھی یہی عمل اختیار کیا گیا اور حالیہ وا��عات میں فائرنگ کے جو مناظر دیکھنے میں آئے ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور دردناک ہیں۔
اگر احتجاج شروع ہونے سے پہلے مناسب مذاکرات کیے جاتے تو یقینأ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آتا۔لیکن اس ملک میں پہلے جبری گمشدگیاں نارمل کی گئیں، پھر جعلی پولیس مقابلوں کو قابلِ تعریف بنا کر انعام دیے گئے — اور اب براہِ راست فائرنگ کو بطور نیا غیر تحریری اصول اپنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ریاستی (احتساب کے نام پر بے رحمی) کا تسلسل ہے اور اس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مریدکے سے آنے والی تصویریں اور ویڈیوز انتہائی تشویشناک ہیں۔ جو مناظر سامنے آ رہے ہیں وہ کسی بھی شہری کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کی انتہا ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو آمرانہ ذہنیت ترک کرنی چاہیے، طاقت کے اندھے استعمال سے نہ تو مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی انصاف قائم رہے گا۔
ہم حکومت سے سختی سے مطالبات کرتے ہیں:
1. فوری طور پر زخمیوں کو طبی امداد اور شہداء کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیاجائے۔
2. ملزمان کی جلد از جلد، غیر جانبدار اور شفاف عدالتی تحقیق کروائی جائے اور جو بھی ملوث ہو، اسے سخت سزا دی جائے۔
3. گرفتار تمام کارکنان اور خواتین کو بلامشروط رہا کیا جائے اور لوٹی گئی اشیاء واپس کی جائیں۔
4. آئندہ کسی بھی پرامن احتجاج پر براہِ راست فائرنگ نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے۔
5. تمام سیاسی مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور بےگناہوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
6. میڈیا پر پابندیوں اور سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں۔
7. اگر ریاست خود شفافیت نہیں دکھا سکتی تو آزاد مبصرین اور انسانی حقوقی اداروں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
ہم یہ مطالبات بار بار دہرائیں گے کہ اقتدار وقتی ہوتا ہے، تاریخ یاد رکھتی ہے۔ ظلم کا راستہ کبھی قوم کو مستقل فائدہ نہیں دے سکتا۔ گولیاں مار کر آپ احتجاج ختم کر سکتے ہیں، مگر آپ تاریخ میں ظلم کے مرتکب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
تحریکِ انصاف اس ظالمانہ عمل کی پوری شدت سے مذمت کرتی ہے اور انصاف کے حصول، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے تحفظ تک پرامن اور آئینی طریقوں سے جاری کسی بھی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
سینٹرل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریکِ انصاف
تحریکِ لبیک کے رہنماؤں اور ورکرز پر کریک ڈاؤن اور بیگناہ ورکرز کی شہادتوں پر پاکستان تحریکِ انصاف کا ردِعمل؛
پاکستان تحریک انصاف شدید ترین الفاظ میں مریدکے اور دیگر مقامات پر تحریکِ لبیک کے خلاف طاقت کے بےجا استعمال اور خون ریزی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ یہ ایک قبیح، گھٹیا اور غیر انسانی عمل ہے، جسے کسی جمہوری معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عوام پر گولی چلانا صرف نفرت پیدا کر سکتی ہے، لیکن یہ کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی۔
26 نومبر کو بھی یہی عمل اختیار کیا گیا اور حالیہ واقعات میں فائرنگ کے جو مناظر دیکھنے میں آئے ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور دردناک ہیں۔
اگر احتجاج شروع ہونے سے پہلے مناسب مذاکرات کیے جاتے تو یقینأ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آتا۔لیکن اس ملک میں پہلے جبری گمشدگیاں نارمل کی گئیں، پھر جعلی پولیس مقابلوں کو قابلِ تعریف بنا کر انعام دیے گئے — اور اب براہِ راست فائرنگ کو بطور نیا غیر تحریری اصول اپنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ ریاستی (احتساب کے نام پر بے رحمی) کا تسلسل ہے اور اس کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مریدکے سے آنے والی تصویریں اور ویڈیوز انتہائی تشویشناک ہیں۔ جو مناظر سامنے آ رہے ہیں وہ کسی بھی شہری کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کی انتہا ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو آمرانہ ذہنیت ترک کرنی چاہیے، طاقت کے اندھے استعمال سے نہ تو مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی انصاف قائم رہے گا۔
ہم حکومت سے سختی سے مطالبات کرتے ہیں:
1. فوری طور پر زخمیوں کو طبی امداد اور شہداء کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیاجائے۔
2. ملزمان کی جلد از جلد، غیر جانبدار اور شفاف عدالتی تحقیق کروائی جائے اور جو بھی ملوث ہو، اسے سخت سزا دی جائے۔
3. گرفتار تمام کارکنان اور خواتین کو بلامشروط رہا کیا جائے اور لوٹی گئی اشیاء واپس کی جائیں۔
4. آئندہ کسی بھی پرامن احتجاج پر براہِ راست فائرنگ نہ کرنے کی واضح ضمانت دی جائے۔
5. تمام سیاسی مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور بےگناہوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
6. میڈیا پر پابندیوں اور سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں۔
7. اگر ریاست خود شفافیت نہیں دکھا سکتی تو آزاد مبصرین اور انسانی حقوقی اداروں کو تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
ہم یہ مطالبات بار بار دہرائیں گے کہ اقتدار وقتی ہوتا ہے، تاریخ یاد رکھتی ہے۔ ظلم کا راستہ کبھی قوم کو مستقل فائدہ نہیں دے سکتا۔ گولیاں مار کر آپ احتجاج ختم کر سکتے ہیں، مگر آپ تاریخ میں ظلم کے مرتکب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
تحریکِ انصاف اس ظالمانہ عمل کی پوری شدت سے مذمت کرتی ہے اور انصاف کے حصول، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے تحفظ تک پرامن اور آئینی طریقوں سے جاری کسی بھی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
سینٹرل انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریکِ انصاف
ٹی ایل پی کے احتجاج پر طاقت کے بے دریغ استعمال اور قتل عام نے آج ایک بار پر ثابت کیا ہے کہ اس وقت ملک جنونی ذہنی مریضوں کے قبضے میں ہے۔ خدا انھیں غارت کرے۔ بہت تکلیف دہ مناظر ہیں۔
کئی ویڈیوز دیکھنے کے بعد جذبات پر قابو پانامشکل ہے۔ ہم سب کو لبیک والوں کا ساتھ دینا چاہئے، جہاں تک ممکن ہو۔ اختلاف کے باوجود یہ ہمارے بھائی ہیں۔ جو ان کے قتل کی حمایت کرے وہ بھی جانور ہے۔