کچھ تصاویر پر الفاظ لکھنا رائیگاں ہوتا ہے وہ تصویر خود ایک مکمل کہانی ہوتی ہے یہ تصویر بھی ویسی ہی ہے
اس کی تکلیف اس کا دھواں البتہ بہت جگہوں سے نکلے گا
مسلہ ایران سے سستا تیل نہی ہے بات کو سمجھیں ، اصل مسلہ وہ آٹھ ہزار ارب کا سود جو ہماری حکومت نے ہر سال ادا کرنا ہے
ایران مفت تیل بھی دے تو بھی پاکستان میں تیل سستا نہی ہو سکتا کیونکہ تیل سے ملک کی معیشت چلتی قرضوں کا سود اترتا ہے پیٹرول کے فی لیٹر پر دو سو کے قریب حکومتی ٹیکس ڈیلر مارجن وغیرہ ہے تو مفت پیٹرول بھی عام شہری کو مفت نہی ملے گا حکومت اس کا فائدہ خود لے گی اور الیٹ کلاس کو دے گی
عاشورہ میں ایرانی صدر کبھی غیر ملکی دورے پر نہی جاتے یہ ایران میں سوگ کا وقت ہوتا ہے مگر ایران کے صدر اگر محرم میں پاکستان شکریہ ادا کرنے پہنچ رہے تو سمجھ جائیں بات معمولی نہی ہے
پاکستان نے گریٹر اسرائیل کا راستہ روکا ہے مڈل ایسٹ میں اس کے روڈ میپ کو اکھاڑ دیا ہے مسلم ممالک کو آپس میں لڑنے سے روک کر ایک مسلمان ملک کو تباہی سے بچایا ہے
ایک گورے نو مسلم کا آخری دن
نو مسلم لوگوں میں میری ہمیشہ خاص دلچسپی رہی ہے۔ مجھے یہ جاننے کا شوق ہوتا ہے کہ ان کی سوچ کیسے بدلی، کون سی بات یا تجربہ ان کے دل کو چھو گیا اور ��خر وہ کون سا محرک تھا جس نے انہیں اسلام قبول کرنے پر آمادہ کیا۔
ڈنمارک میں ہمارے جاننے والوں میں ایک نو مسلم گورا شخص تھا جس کا اسلامی نام صلاح الدین تھا۔ اس کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ ان میں سے ایک بیٹی میری چھوٹی بیٹی کے سکول میں بھی پڑھتی ہے۔
میری صلاح الدین سے پہلی ملاقات 2011 میں ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے وہ جوانی ہی میں کینسر کے باعث انتقال کر گیا۔ بیماری کے آخری دنوں میں جب اس کی والدہ نے اس سے پوچھا کہ اس کی آخری خواہش کیا ہے، تو اس نے کہا: “میری خواہش ہے کہ آپ مسلمان ہو جائیں، میرا دل چاہتا ہے کہ آپ جنت میں میرے ساتھ ہوں۔”
بیٹے کی اس خواہش نے ماں کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ مسلمان ہو گئیں۔
کینسر نے صلاح الدین کے جسم کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔ آخری سترہ دن اس نے صرف پانی پی کر گزارے کیونکہ وہ کچھ کھا نہیں سکتا تھا۔ لیکن شدید تکلیف کے باوجود اس کی زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ کہتا: “اللہ کا شکر ہے۔” بلکہ وہ یہ بھی کہتا تھا کہ مجھے اپنے رب سے جلد ملاقات کا اشتیاق ہے۔
وفات کے دن اس نے وضو کیا، عصر کی نماز ادا کی، اور مغرب سے پہلے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ جاتے جاتے وہ اپنی والدہ کو اسلام کی نعمت بھی دے گیا، اور یہی اس کی آخری خواہش تھی۔
رؤف کلاسرا صاحب نے شیریں رحمن کی مکمل ڈیٹیل لکھی ہے آپ یاد کریں دو دن پہلے میں نے لکھا تھا کہ سینٹ میں پی پی کی پارلیمانی لیڈر شیریں ہے اور جو کمیٹی قانون سازی کے لیے بل اوکے کرتی یہ اس کی ہیڈ ہے اس نے وہاں سے ٹیلی کام قانون گزار دیا تھا پھر ان کے شوہر کی ��یلی کام سیکٹر سے مکمل جڑے ہونے کی تفصیل بھی بیان کی تھی بہت محنت سے یہ معلومات دی تھیں
Legend Of The Fall
بہت ساری معذرت کے ساتھ آپ جو عوام میں اہم ایشوز پر کہتی ہیں یا ٹوئٹر پر ٹوئٹ لکھتی ہیں، اس سب کے الٹ آپ کمیٹی اجلاسوں میں پوزیشن لیتی ہیں بلکہ حکومتی وزراء اور بابوز اور افسران کو مشکل وقت میں بڑے آرام سے bail out کرتی ہیں۔
میں آپ کا ماضی میں فین رہا ہوں کہ آپ نے بہت مشکل اور اہم ایشوز بہادری سے اٹھائے جس کے ہم مداح رہے ہیں۔
لیکن پچھلے کچھ عرصے سے آپ کی پبلک پوزیشن اور بند کمروں میں پوزیشن میں خود دیکھی ہے جس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے بعد آپ کی ان باتوں پر یقین نہیں رہا۔
آپ کو یاد ہے سابق چیرمین محمد علی رندھاوا نے جو اسلام آباد کی خوبصورتی اور 40 ہزار درختوں کو تباہ برباد کیا تھا اس پر آپ نے بیرون ملک سے ٹوئٹ کیا تھا کہ وطن واپسی پر آپ سب کا حشر نشر کر دیں گی کیونکہ آپ سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرپرسن ہیں۔ ہم سب کو امید پیدا ہوئی۔ لیکن آپ نے کمیٹی اجلاس والے دن کیا کیا؟
آپ نے اجلاس سے دو دن دن پہلے سینٹ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر طلال چوہدری اور رندھاوا کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں میں سی ڈی اے چیرمین کو اجلاس میں ٹف ٹائم نہیں دوں گی۔ ہم صحافی یہ باتیں سن رہے تھے۔
میں نے آپ کو اجلاس کے بعد ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے افسوس سے کہا کہ کیا یہ ہمارا ذاتی مسلہ ہے سی ڈی اے یا رندھاوا سے؟
میں نے کہا آپ کو رندھاوا کو شہر کی ماحولیاتی بربادی ٹف ٹائم دینا چاہئے جس پر آپ نے مجھے کہا آپ یہ بات مجھے نہیں کہہ سکتے۔
میں نے جواب دیا تھا آپ ہمارے نمائندے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں۔ اس بیس گریڈ افسر نے تباہی بول دی اور اپ سب چپ رہے۔
پھر آپ نے اس ماحولیات اجلاس میں کیا کیا تھا جس کی آپ چیرپرسن ہیں؟
میں دیگر صحافیوں کے ساتھ موجود تھا۔ آپ نے کمال مہربانی سے سی ڈی اے اور رندھاوا کو ٹف ٹائم نہیں دیا جس کا وعدہ طلال چوہدری سے آپ نے کیا تھا۔ اسلام آباد کی بربادی کرنے والا رندھاوا آپ کے اس اجلاس میں “حسن سلوک “ کی وجہ سے سب کو چڑاتا ہوا آپ کے اجلاس سے خوش خوش گیا تھا۔
ابھی بھی اس ٹیلی کام بل پر آپ وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کی پبلک اور اندر کھاتے پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
آپ کی پوری پارٹی جانتی ہے آپ اور نوید قمر کی اس بل پر حکومت کو پوری سپورٹ تھی جس وجہ سے اسمبلی سے پاس ہوا۔ آپ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ آپ کی سب مزاحمت یہاں ٹوئٹر پر ہے، اجلاس میں آپ حکومتی وزراء اور افسران کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خود شزا فاطمہ نے جیو کو انٹرویو میں بتایا کہ پی پی پی کی ساری مرضی اور تعاون کے ساتھ بل پاس ہو۔
افسوس ہوتا ہے آپ جیسی کبھی کی بہادر اور ذہین سینٹر دھیرے دھیرے اس سیاسی رنگ میں رنگی گئی ہیں جو ہمارے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے جو آپ کو کبھی آپ کے زبردست ہیرالڈ کے دنوں کے بیک گراونڈ کی وجہ سے بہت امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ آپ کبھی سیاسی یا کارپوریٹ مفادات کی مصلحتوں کاشکار نہیں ہوں گی۔ آپ عوامی مفادات پر بیوروکریٹس اور وزیروں یا کارپوریٹ ورلڈ کے مفادات کو اہمیت نہیں دیں گی۔
لیکن ہم سب غلط نکلے۔ آپ بھی اب وہی سیاست کرتی ہیں جو دیگر عام سیاسی لوگ کرتے ہیں۔ وہ فرق مٹ گیا کہ کوئی آپ کی طرح پڑھے لکھے اربن بیک گراونڈ سے تعلق رکھتا ہو فارن کوالیفائڈ ہو وہ اس ایم این اے یا سینٹر سے مختلف اور بہتر ہوگا جو عام دیہاتی پس منظر سے عام تعلیم کے ساتھ محض کسی پارٹی کو بڑا فنڈ دے کر پارلیمنٹ پہنچ گیا ہو۔
آپ پھر اس ٹیلی کام بل پر بھی سب کو وہی پرانی آزمودہ گولی دے رہی ہیں جو آپ نے اسلام آباد کی ماحولیاتی بربادی پرٹوئٹ کر کے دی تھی کہ کس کو ��ہیں چھوڑیں گی۔ پھر ہم سب نے دیکھا آپ نے اپنی کمیٹی اجلاس میں محمد علی رندھاوا سمیت سب کو کلین چٹ دی تھی۔ آپ اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہیں۔آپ پر اب کون اعتبار کرے۔
What a fall
@BBhuttoZardari @sharmilafaruqi @ShaziaAttaMarri @A_Qadir_Patel @PalwashaKhan18 @naveedqamarmna @SyedAghaPPP @HinaRKhar @Ali_MuhammadPTI @SyedAliZafar1 @SenatorSaleem @Nabilgabol @ninoqazi @najamsethi @SyedaAyeshaNaz1 @murtazasolangi @AyazSadiq122 @BilalAKayani @DrTariqFazal @CMShehbaz @MIshaqDar50 @MohsinnaqviC42
🚨🇨🇼 𝗡𝗘𝗪: Curaçao made HISTORY in the World Cup today:
• They have a population of just around 156,000 people, making them one of the smallest nations ever to play in a World Cup
• They qualified for the World Cup for the FIRST time ever after finishing TOP of their CONCACAF qualifying group.
• In their first-ever World Cup, they were drawn into a brutal group with Germany, Ecuador and Ivory Coast.
• After losing 7-1 to Germany in their debut, Curaçao responded by winning their FIRST-EVER point in World Cup history
• They held Ecuador to a 0-0 draw despite being massive underdogs
• Their goalkeeper, Eloy Room, made 15 SAVES and delivered one of the greatest goalkeeping performances in World Cup history
From a nation of 156,000 people to making World Cup history.
Curaçao, take a bow. 🇨🇼👏
ہم اپنے employees کو تین طرح سے سیلری آفر کرتے ہیں،
ہفتہ وار، 15 دن بعد یا پھر ماہانہ۔۔۔۔
جیسے کوئی مطمئن ہو، وہ سیلری ماڈل سیلیکٹ کر سکتا ہے،
یہ ماڈل میں نے USA کی ایک کمپنی سے سیکھا تھا،
مجھے اچھا لگا، تاکہ ضرورت پڑنے پر کسی انسان کو تھوڑی تھوڑی رقم ادھار نہ لینی پڑے۔۔۔۔
کام کے طریقہ کار کو بھی کافی بدلا تاکہ کوئی employee صبح سے شام تک کام کو چمٹا نہ رہے، بلکہ کام کو انجوائے کرے، وہ 24 گھنٹے میں اپنا کام مکمل کرے وقت کے ہر منٹ ہر گھنٹے میں قید ہوئے بغیر۔۔۔
میرا ماننا ہے کہ بزنس ہر انسان کرتا ہے پیسے بھی کماتا ہے لیکن اصل کامیابی نئی innovations میں ہے، روائتی طریقہ کو بدل کر نئی چیزین نئے ماڈل اپنانے میں ہے، جوکہ معاشرے کیلئے بہتری لاسکے۔۔۔
جس وقت ایرانی فضائی حدود مکمل طور پر بند تھی اور کوئی بھی اس جنگی حالات میں ایران کا رُخ کرنے سے ڈرتا تھا تو عین اس وقت ایک مرد مجاہد وردی پہن کر چلتی جنگ میں تہران پہنچ گیا تھا اور آج دنیا اس حافظ کی وجہ سے امن کی جانب گامزن ہے
حافظ سید عاصم منیر آپکی جرات اور بہادری کو سلام ہے
سوچا تھا اتوار کو اپنے ذرائع سے پوچھنے کی کوشش کرونگا کہ
شزا فاطمہ والا قانون اصل میں کیا ہے
لیکن کل شاہ زئب کے پروگرام میں پتہ چلا کہ بل میں حقیقتاً ایسا ہی لکھا ہے جو سوشل میڈئا پر زیر بحث ہے
اور گولومولو شزا کہنا چاہ رہی تھی کہ اسکا مطلب یہ نہیں ہے ۔
کیسے کیسے نمونے اور نمونیاں مسلط ہیں عوا�� پر
Deeply saddened by the passing of Qamar Ahmed. The first person I met when I began covering international cricket, he was an extraordinary guide, a great storyteller and one of the game’s true lovers. Q was a walking encyclopaedia of the game and will be missed.
Very saddened to hear of the passing of the generous and large hearted Qamar Ahmad or Q, as we inevitably called him. He helped me a lot on my first tour of England in 1990 where I was a wide-eyed novice on most matters. And I won't forget his emotionally told story of going back to the family village in India, while on tour with Pakistan, where he was warmly received with stories of his father. Always greeted me with a hearty laugh. I have only warm memories of Q and I will be surprised if anyone else has any other. Khuda Hafiz Q Bhai. Salaam.