پاکستان میں سیاسی اداکاروں کے وعدے اکثر نعرے ہی رہ جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بھارت میں فلم انڈسٹری سے آنے والے کچھ اداکار سیاست میں آئے تو اپنی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کی کوشش کرتے نظر آے ۔ فرق یہی ہے: جب آپ عوام کے ووٹ سے آتے ہیں تو کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، اور جب طاقت کے سہارے اقتدار ملے تو جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے۔ عوام کو اصل ریلیف تب ملتا ہے جب نمائندہ واقعی عوام کے سامنے جوابدہ
ہائے غریب پاکستانیوں کو تباہ کردیا💔
سنیں اس پاکستانی کی،
جب میں بار بار کہتا ہوں, غریبوں کا پاکستان میں جینا حرام کردیا ہے, عاصم شہباز ریجیم نے!!
پاکستانیوں کو اس ریجیم میں دو وقت کا کھانا میسر نہیں
میرے کفن کو مضبوطی سے نہ باندھ
میں وعدہ کرتا ہوں دوبارہ نہیں آؤں گا !
مزدور ہوں، تاجر ہوں، ریڑھی والے ہوں، دکان دار ہوں یا کاروباری طبقہ، آج ہر محنت کرنے والا انسان مریم نواز کی حکومت پنجاب سے شدید تنگ آ چکا ہے۔
ایک طرف مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، دوسری طرف پیرا فورس کی بدمعاشی اور سخت کارروائیوں نے چھوٹے کاروبار کرنے والوں کا جینا مشکل بنا دیا ہے۔
جو لوگ صبح سے شام تک محنت کر کے اپنے بچوں کا رزق کماتے ہیں، آج وہی جرمانوں، دھمکیوں اور ہراسانی کا شکار ہیں۔
حکومت اگر روزگار چھیننے لگے تو پھر غریب آدمی آخر جائے کہاں؟
پنجاب میں اس وقت مزدور، دکاندار اور چھوٹا کاروباری طبقہ شدید بے چینی اور خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔
زیادہ سردی ہو جائے چُٹھی، گرمی ہو جائے چُھٹی، فوگ ہو جائے چُھٹی، کوئی میلہ ہوجائے چُھٹی، اب پیٹرول مہنگا ہونے پر چُھٹی دے دی۔سندھ میں تو سکول جانے والا 10 سالہ بچہ اُردو یا سندھی زبان میں دو جملے نہیں پڑھ سکتا۔ پنجاب میں پچھلے سال صرف 135 دن سکول کُھلے۔ مفتاح اسماعیل
#PublicNews #PublicUpdates
100 FBR افسران کی نیٹ ورتھ 100 ملین ڈالر
مجھے شرم آتی ہے جب نئے بیوروکریٹس سے ملتا ہوں
عمران خان میرے ساتھ تھا، مگر وہ بے بس تھا،ڈاکٹر عشرت حسین چیخ پڑے
@Ishrat_Husain
آپ کو اپنی اور اپنی ایلیٹ کلاس کی مراعات بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑتا، آپ جب چاہیں بیک جنبش قلم سوفیصد اضافہ کر دیتے ہیں لیکن غریب اور لوئر کلاس کے لیے 5 فیصد تنخواہ بڑھانے کے لئے آپ کو آئی ایم ایف سے اجازت لینا پڑتی ھے ، یہ بات ہضم نہیں ہوتی ۔
قاسم اور سلیمان کی آواز بنیں 🚨
ہمارے والد کو جیل میں غیر منصفانہ اور غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا ہے۔ اس وقت انہیں وہاں قید ہوئے تقریباً 1000 دن ہو چکے ہیں
ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں فوری طور پر اپنے وکلاء خاندان اور ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت دی جائے
78 سال پہلے، 800,000 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ برطانیہ نے اس کو ممکن بنایا۔ آج، اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ برطانیہ نے اس کو ممکن بنایا۔ نکبہ کے 78 سال — اور فلسطینی عوام کے خلاف جرائم میں برطانیہ کی 78 سالہ شراکت۔ برطانوی رکنِ پارلیمنٹ جیریمی کوربن
#pakistan @jeremycorbyn
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں