Just take One Achievement: Imran Khan’s bold & principled leadership of Pakistan during COVID, his refusal to “Lockdown” despite unprecedented elitist pressure (from Army Chief, Political, Bureaucratic, Corporate & Media elite) saved lives of millions of poor Pakistanis (compare with India). Khan repeatedly said: “No Lockdown will kill poor! Economy will be destroyed”
Imran’s vision & smart strategies paid: Pakistan was rated globally amongst the top 3-5 top countries in terms of Covid Management. It was Khan’s humanism derived from his deep understanding of the spirit of Islam - Do you need more evidences? @KlasraRauf
On 3rd July 1988 the U.S. Navy guided missile cruiser fired 2 surface-to-air missiles at the civilian Airbus A300 operating Iran Air Flight 655.
The aircraft was flying its scheduled route from Bandar Abbas, Iran, to Dubai, UAE when it was destroyed mid air over the Persian Gulf.
290 innocent people died, no one survived!
America like always = zero remorse!
https://t.co/QaM2FlzKGl
The problem with mechanized institutions like the military is that they don't know when to stop, and how to pull back from a destructive path.
For that very reason there is a political authority; to save the military from its own overconfidence and ambition.
But when that political authority is gone, there is nothing between the military, and madness and chaos.
Aziz Ullah Khan, an employee of Saddar Police Station, Mianwali today whipped workers of the Insaf Youth Wing with hunter whips. Shame on Mianwali Police. @OfficialDPRPP must remember, they are public servants and should remain one.
CNN کی صحافی @amanpour کے الفاظ:”عمران خان پاکستان کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے اور مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور مسلسل غیر حاضر رہنے کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت قائم ہے“
#KhanIllegallyJailed3Years
As former Pakistani PM Imran Khan marks three years in jail, his family, political party and a prominent international rights group have condemned his solitary detention and demanded a restoration of his constitutional rights.
Read more: https://t.co/y1VWN1uyKB
For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights.
He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025.
Amnesty International urges the Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers. Both must be given access to adequate medical care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
Ahead of planned gatherings by Imran Khan’s family, party and supporters to mark the anniversary, the authorities must facilitate the right to peaceful protest and ensure there is no repeat of the unlawful and arbitrary crackdowns on protesters so frequently witnessed in the country and against the Pakistan Tehreek-e-Insaf.
3 years ago, he was abducted by the military regime. Since then, the country has crumbled at every level.
Nations are built by how they treat their heroes; and are cursed when those heroes are dishonored and persecuted.
جاپانی اخبار نے بتا دیا جو سب کو معلوم تھا کہ: عاصم مستری بدترین دہشت گردی، بربریت اور شرمناک حربے آزمانے کے باوجود بھی عمران خان کی مقبولیت اور عوامی سپورٹ میں کوئی کمی نہیں کر پایا۔
مستری گھر میں بھی ذلیل اور عالمی دنیا میں بھی۔
Imran Khan has been in jail illegally for 3 years. Asim Munir must be tried for war crimes internationally as he is inflicting Torture on Imran Khan via solitary confinement. As a result, Imran Khan has lost 85% vision in one eye per last info.
#KhanIllegallyJailed3Years
تین سال...
36 ماہ،
1,096 دن،
26,304 گھنٹے،
15 لاکھ 78 ہزار 240 منٹ،
اور 9 کروڑ 46 لاکھ 94 ہزار 400 سیکنڈ...
اتنا طویل عرصہ عمران خان جیل میں گزار چکے ہیں۔
ان میں سے گزشتہ 9 ماہ سے وہ سخت ترین کی قید میں ہیں، جہاں نہ اہل خانہ سے ملاقات، نہ بیٹوں سے کوئی رابطہ، نہ عوام سے گفتگو۔
میرے پاکستانیو،
وقت صرف کیلنڈر پر نہیں گزرتا،
انسان پر بھی گزرتا ہے!
کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو کہیں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک، ایک اور مرید کے، ایک اور راولا کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپنی قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں کر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر انہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑاکا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2