رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوگو!
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
(بخاری،۲۹۶۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لوگو!
دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔
(بخاری،۲۹۶۶)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار باتوں سے پناہ مانگتے :
ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو،
ایسے دل سے جس میں اللہ کا ڈر نہ ہو،
ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو
اور ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہو ۔
(سنن نسائی، ۵۴۶۹)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کےوقت مومن اور شام کےوقت کافر ہو گا، شام کےوقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا“
(ترمذی ،٢١٩٥)
@AaqaSAWWkiBaten اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا؛
’’ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اپنے دل میں بھی جہاد کی نیت نہیں کی تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ۔“
(سنن ابوداؤد ، ۲۵۰۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صاحب قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور(جنت کی منازل) چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۔
(سنن ابی داؤد،۱۴۶۴)
بزم جہاں میں آج یہ کس کا ورود ہے
جبریل کے لبوں پر مسلسل دُرود ہے
فخرُ الرّسُل ہے شافعِ روزِ حساب ہے
اُمّی لقب ہے صاحبِ اُمّ الکتاب ہے
قرآن جس کا خُلق ہے وہ رحمتِ تمام
جس کیلئے ہوا ہے دو عالَم کا انصرام
جس کے غلام فاتحِ ایران و شام ہوں
لاکھوں دُرود اُس پہ، ہزاروں سلام ہوں
ﷺ
رسول اللہ ﷺنہ لمبے تھے نہ پستہ قد، آپؐ کی ہتھیلیاں اور پاؤں گوشت سے پُر تھے، آپؐ بڑے سر اور موٹے جوڑوں والے تھے،( یعنی گھٹنے اور کہنیاں گوشت سے پُر اور فربہ تھیں ) ، سینہ سے ناف تک باریک بال تھے، جب چلتے تو آگے جھکے ہوئے ہوتے گویا آپؐ اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں۔
(ترمذی،۳۶۳۷)
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرےگا تو دین اس پر غالب آ جائے گا، پس اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔
(بخاری،۳۹)