ایک دفعہ کا زکر ہے، تب کا جب بادشاہ بھلے ظالم ہوں کم از کم خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتے تھے، ایک بادشاہ نے اپنے عہد کے ایک ذی عقل سے سوال کیا کہ مجھے طویل مدت تک اقتدار کا گُر بتائیں۔
عقل والے نے کہا لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت جگاؤ۔ بادشاہ نے کہا لوگ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
کہا پھر اپنا خوف پھیلاؤ۔ کہا اتنے عرصے سے اسی کی بنیاد پر تو حکومت کررہا ہوں، اب مگر لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
کہا گر لوگ ڈر نہیں رہے، تو اقتدار کو بھول جاؤ، اپنا سر بچاؤ۔
۲۰۰۹ کے سوات آپریشن کے وقت کراچی سے چند متاثرین آپریشن کو رینجرز نے ناکے پر سے اٹھایا اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ان کی برآمدگی کی اپیل ہوئی وہاں سے آرڈر بھی جاری ہوا۔ درگئی فورٹ میں ان کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد سوات اور دیر کی سرحد پر فوج اور طالبان کی جھڑپ ہوئ، ہلاک ہونے والے افراد لی فہرست میں وہ افراد بھی تھے جو پہلے ہی فوجی تحویل میں تھے، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ بلوچستان کی سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو اس واقعہ کی یاد آگئی، عمران خان صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف کو ان لوگوں کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا۔
سالوں کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں حالات کو اس نہج پر لے آیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور جوابی سٹریٹجی اور مورال بلند رکھنے کے لیے ان قبیح حرکات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ اب نیا پلان یہ ہے کہ پرائیوٹ ملیشیا بنایا جائے گا۔ فوج سڑکوں سے لے کر مائننگ تک کے ٹھیکے لے گی، اور سیکیوریٹی کا کام پرائیوٹ ملیشیا کو سونپ دیا جائیگا۔
خیبر پختونخواہ میں بُھجی ہوئ آگ کو ایندھن برآمد کر کر کے بھڑکایا گیا۔ ہم چیختے رہے، دہائیاں دیتے رہے ہمیں غدار، ملک دشمن، پراپگنڈسٹ قرار دیے دیا۔ اب امن کمیٹیز کے بعد عوام پر مسلح لشکر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کل کو پالیسی بدل جائے گی تو اس لشکر کو فتنتہ ال فلاں نام دے کر ایک اور لشکر کشی کا جواز تراشا جائیگا۔ جیسے کل تک کشمیری مجاہد مُحبِ وطن تھے آج آئین و قانون کے دائرے میں اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں تو ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔ ان پر ایمپورٹڈ حکومت مسلط کرو انہیں گولیوں سے بھون دو۔
نہروں سے لیکر صوبوں تک کے منصوبوں پر سندھ کی نبض بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔ “مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں” کا نعرہ لگانے والا خود مرے گا تو اکیلے تو نہیں مرے گا ناں۔۔
پہلے بھی نہیں مرا تھا۔۔
باقی بچا پنجاب تو گذشتہ چار سال کا جبر ایک جانب اور اس ایک ہفتے کا پاور پلے دوسری جانب۔ کون کون سی بے شرمی کی حدیں نہیں پاٹی گئیں۔ انتظامیہ سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کے (بلاتفریق مرد و زن) افسران کی جانب سے جس درجے کی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھولتے تیل میں گر کر جھلس کر مرنے والے شہید کارکن، بے عزتی کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہونے والے شہید عہدیدار، زمیں پر پڑی بزرگ پردہ دار ماں، اپنا ٹوٹا لُٹا پھٹا گھر دکھاتی ہوئی معصوم بچی۔ چہرے پہ کالا کپڑا ڈلا، ہتکھڑیوں میں بندھے ہاتھوں میں اپنی شناختی تختی لیے صحافی، کانپتے حرفوں میں اپنی لُٹی جمع پونجھی کی دہائی دیتا محنت کش مزدور حسنین جس کا جرم دوسرے صوبے سے آئے مہمان وزیراعلی کی مہمان داری کرنا تھا۔ لاہور سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر پٹتے نوجوان۔۔ بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں آپ کی نفرت نے تھمائیں۔ پختونخواہ کے لوگوں کو آپ اپنی غلط پالیسی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بندوق اٹھانے پر اکسا رہے ہو۔ کشمیر میں نفرت کی کھیتی بو دی ہے، تو کاٹنی بھی پڑیگی۔ سندھ بھرا بیٹھا ہے۔ کل اسی پنجاب کی ایک ماں کہ جن کے خون کا ایندھن بھر کر جہاز اڑا رہے ہو تاکہ اپنے بچوں کی خوشیاں ہیروں میں لدھ سکو، اسی پنجاب کی ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کی گردنوں پر چھری پھیر دی۔ وہ ہاتھ جو پہلے ہی اپنی اولاد کی گردن پا چھری رکھ چکا ہو وہ آپ کی اولاد کی گردن پر ڈلتے کتنا ہی کوئی جھجھکے گا؟ اور آپ کے گریباں سے کتنا ہی عرصہ دور ہوگا؟ سیانے کہہ گئے ہیں جبر کی معیاد پوری ہوجائے تو اپنا سر بچانے کا سوچنا چاہئے کیونکہ اقتدار تو اب بچنا نہیں۔
ڈاکٹر عظمی نے عمران خان سے ملاقات کا احوال بیان کردیا 💔
پمز میں مجھے ایک کمرے میں لے کر گئے تو وہاں عمران خان بیٹھے تھے ، عمران خان مجھے دیکھ کر سرپرائز ہوئے،
عمران خان نے کہا کہ میں 10 مہینے بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، عمران خان نے میرے سے پیار کیا
”جس طرح عمران خان نے ہمارے اوپر غیرت کی ہے اس طرح ہم نے غیرت کرنی ہے ہم نے ان ظالموں کے خلاف ایک بار ہمت کرنی ہے ان سے یہ اختیار چھیننا ہے تو یہ زندگی بھر آپ کے قدموں میں پڑے رہیں گے، اگر خدا نخواستہ عمران خان کو کچھ ہوا تو اگلے سو سال تک ہمیں کوئی لیڈر نہیں ملنے والا، پھر ہمارے بچے ان ظالموں کی غلامی کریں گے!“
وزیراعلی @SohailAfridiISF
ہم کاکروچ نہیں اقبال کے شاہین ہیں۔ ہم نے ان ظالموں سے پاکستان کو آزاد کروانا ہے۔ اس بار واپسی نہیں ہوگی چاہے گولی چلی، ٹینک چلے یا راکٹ لانچرز چلے، جہاں جانا ہے وہاں پر ایک کوئی آخری شخص رہ جائے گا تو وہ میں ہوں گا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا پشاور میں کنونشن سے خطاب
عمران خان کے دور میں انقلابی نعرے لگا کر احتجاج کرنے والی لڑکی کہاں گم ہو گئی؟
اسد طور اسے اپنے پروگرام میں لے آئے اور اس سے تمام تلخ سوالوں کے جوابات لیے کہ آج وہ احتجاج کرتی کیوں دیکھائی نہیں دیتی؟
”اسٹبلشمنٹ کیلئے تالیاں بجاؤ گے؟“
اگر #DGPMLN قوم کے جذبات کے بارے میں اپنے Boss کو کوئی بریف بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کی یہ ویڈیو بھیج دیں۔
صدام خان ترین کا بڑا انکشاف!!
میں نے عادل بازئی سے کہا, آپ وزیر داخلہ سے کہہ دے, میرا نام 4th شیڈول لسٹ سے نکالیں, میں ایک عوامی نمائندہ ہوں, تو مجھے کہا گیا آپ ISI کے دفتر جائے وہ آپکا نام ہٹا سکتا ہے!!
سب کچھ ISI کے زریعے کروایا جارہا ہے!!
آزاد کشمیر: بلوچ شہر میں صبح 6 بجے شور مچا کہ رینجرز اور ایف سی کی بڑی تعداد راولاکوٹ دھرنے پر کریک ڈاون کرنے کیلئے گزرنیوالی ہے، لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے راستے بند کر دیئے، وہاں فورسز اور عوام میں تصادم ہوا جس سے 7 کشمیری شہری مارے گئے ہیں، عوامی مزاحمت کے باعث فورسز نے
6 کلومیٹر کا راستہ 12 گھنٹے میں پار کرنا پڑا-
ابھی تک کئی کشمیری لاپتہ ہیں، کچھ کی لاشیں حوالے نہیں کی گئیں اور کتنے گرفتار ہیں اس کی تفصیل بھی آج تک حکومت نے جاری نہیں کی، 5 جون سے اب تک 13 شہدا کی تدفین ہو چکی ہے جن میں موجودہ 7 شہدا شامل نہیں ہیں
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی @mahtab2010 کے اہم انکشافات
@DRTPakistan
🚨عوام کی ڈیمانڈ پر ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل ستلج فلم ۔🚨
ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل دوبارہ دیکھیے ۔
وہ فلم جس کو مودی نے انڈیا میں بین کیا ۔جس کو نیٹ فلیکس سے اتار دیا ۔
کیونکہ رجیم چینج والے سارے لوگ چاہتے ہیں عوام کے ساتھ جو ناجائز سلوک ریاست اور حکومت کرتی ہے وہ کوئی نہ دیکھے ۔
دیکھا جائے تو اس وقت برصغیر کے تمام ممالک میں یہی حالات ہیں جو ستلج میں دیکھائے گے ہیں ۔
کیا ہمارے پنجاب یا باقی صوبوں میںُ بھی ایسے حالات ہیں جو انڈیا کی پنجاب میں دیکھائے گے ہیں ؟
اس کا حل کیا ہے ۔۔۔
مکمل ستلج فلم ۔🚨🚨مودی نے انڈیا یہ فلم بین کردی گی کیونکہ اس میں پنجاب کے سکھوں کے ساتھ ظلم بربریت جو ہندوں نے کیا وہی دیکھاگیا ہے ۔
فلم دیکھیں اور موج کریں فری میں آپ دیکھ رہے ہو۔
اب AC چلائے گھنٹوں اور بل بھی انتہائی کم!!
اگر آپ چاہتے کہ آپکا بل نا ہونے کے برابر آئے تو اپنے inverter AC کو ایسے چلائے جیسے ویڈیو میں بتایا گیا ہے!!
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے اختتام پر جیسے ہی کہا کہ “جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے”، ویڈیو کے 9 ویں سیکنڈ پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم نواز بھی اس پر تالیاں بجاتی نظر آ رہی ہے،سہیل آفریدی کی تقریر ختم ہونے کے بعد تقریباً 17 سیکنڈ تک پورا ہال مسلسل تالیوں سے گونجتا رہا، اور یہ سلسلہ اس وقت رکا جب اسٹیج سیکریٹری نے تالیوں کی گونج میں ہی اگلے مقرر کے نام کا اعلان کر دیا