پنجاب میں مریم نواز شریف نے زبردست کاکردگی دکھائی ہے ۔
وفاق کے دو نگینے وزیر پوری کوشش کررہے ہیں کہ اس کارکردگی پر پانی پھر جائے ۔
اور تیسرا ہیرا وزیر تو ویسے بھی گفٹ میں ملا ہوا ہے ۔
شہباز شریف صاحب کو پنجاب والے ایکشن میں واپس آنا ہوگا ۔ اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے ۔
@KhSaad_Rafique@FaridKhan85 پیپل پارٹی کی بلیک میلی جو ہے وہ انتہا کو پہنچ چکی ہے پنجاب کا بجٹ جو ہے ادھا کم کر دیا گیا ہے لیکن پیپل پارٹی کی جو سکیم ہے بے نظیر والی ہے تو یہ وفاق کی سکیم لیکن پیپل پارٹی نے اپنا بندہ اوپر بٹھایا ہوا ہے اور اس کا بجٹ جواب انہوں نے زیادہ کروا لیا ہے یہ بلیک میلی ہے اس کو کہتے
مری میں گاڑی میں آگ لگنے کے المناک حادثے میں دس قیمتی جانوں کے ضیاع پر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ آج کے فیصلے کے بعد 749 ارب ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب ہے۔
پنجاب کا فی کس ترقیاتی بجٹ 749,000 ÷ 127.7 ≈ 5,865 روپے فی فرد ہے جبکہ سندھ کا فی کس ترقیاتی بجٹ 706,000 ÷ 55.6 ≈ 12,698 روپے فی فرد ہے
اسی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ 8 لاکھ ہے اور ترقیاتی بجٹ 455 ارب ہے، کے پی کا ترقیاتی بجٹ بنا 455,000 ÷ 40.8 ≈ 11,152 روپے فی فرد، یعنی ان دونوں صوبوں کا فی کس پنجاب سے دوگنے سے بھی زیادہ۔
کیا بصد احترام یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیوں؟ پنجاب کا جرم کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ متعصب نہیں ہے؟ کسی کو گالی نہیں دیتا؟ اس سے پہلے بھی وہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی اور بلوچستان کو پسماندگی کے نام پر اپنی روٹی کے نوالے دے رہا ہے۔
محبت، اخلاص اور حب الوطنی کو کمزوری، جُرم اور گناہ نہ بنائیں۔ پنجاب کو کشمیر نہ سمجھیں مگر کم از کم پاکستان تو سمجھیں اور یکساں وسائل اس کا بھی حق ۔۔۔
@Afaq__Ahmad@NoorFM222 یہ آج کی تازہ بےغیرتی ۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 700 ارب کاٹ لیا جبکہ باقی سارے صوبوں کا ملا کر 200 ارب کاٹا اور اس پر کشمیری وزیراعلی کی آواز نہیں نکلی۔ اب پنجاب اور سندھ کا ترقیاتی بجٹ لگ بھگ برابر ہوگیا ہے۔ حکومت کیلیے اندھی ہوئی پڑی یہ جماعت، جو کچھ مرضی لکھوا لو حکومت بچانےکیلے۔
قومی اقتصادی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم کی صدارت صوبوں کے پی ایس ڈی پی پر بہت بڑا کٹ لگا ہے۔سب سے بڑا کٹ پنجاب کو لگایا گیا ہے یہ آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر لگا ہے۔ پنجاب کا 1450 ارب کا پی ایس ڈی پی 749 ارب کر دیا گیا ہے۔لیکن سندھ کا 816 ارب کا بجٹ کم ہو کر 706 ارب ہوا ہے۔پنجاب کے ترقیاتی بجٹ پر 50 فیصد کٹ لگا دیا گیا۔
قومی اقتصادی کونسل: پنجاب سب سے بڑی قربانی دے گا
صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کرلیا، قومی اقتصادی کونسل نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں ہو گی، پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رہے گا، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کر کے 749 ارب کر دیا گیا۔
سندھ کا ترقیاتی بجٹ 816 سے کم کر کے 706 ارب روپے کر دیا گیا، کے پی کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم کر کے 455 ارب روپے کر دیا گیا، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبوں کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3138 سے کم کر کے 2218 ارب روپے کر دیا گیا۔