"ہماری یہ تقریریں صرف تقریریں نہ سمجھیں تھوڑا سوچیں کسی عقلمند سے مشورہ کریں کیونکہ تمہارے پاس تو عقلمند ہے نہیں اگر ہوتا تو وہ آپ سے بندوق اور ڈنڈے کے زور پر حالات ٹھیک نہ کرواتا ڈائیلاگ سے کرواتا ، امریکہ کی نوکری میں تم ڈائیلاگ کررہے ہو اپنے ملک میں بندوقین اٹھا کر اپنے پاکستانیوں کو ماررہے ہیں۔یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں اگر کوئی آپ کو بتا رہا ہے اس طریقے سے آپ عمران خان کو جھکا لینگے ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹا لینگے تو یہ غلط بتاتا ہے ہماری جان بھی جائے تو ہم عمران خان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
بلوچ رو رہا ہے، پہاڑوں پر چڑھا ہوا ہے۔ پختون رو رہا ہے کیونکہ روزانہ شہید ہو رہا ہے؛ کبھی پولیس کا جوان شہید ہوتا ہے، کبھی عام عوام شہید ہوتی ہے۔
مقامی لوگ رو رہے ہیں، روزانہ ان کی چادر اور چار دیواری کی پامالی ہوتی ہے۔ کل عمران خان صاحب کے خاندان کی خواتین، جن کے ساتھ تین، چار اور چھ سال کے بچے بھی تھے، انہیں پنجاب میں اٹھا لیا گیا۔
پنجاب میں پنجابی رو رہا ہے، سانس لینے کی آزادی نہیں۔ سندھ رو رہا ہے، گلگت بلتستان رو رہا ہے، کشمیری رو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کشمیریوں پر گولیاں چلیں، 26 نومبر کو سو سے زیادہ لوگ شہید ہوئے۔
مریدکے میں ہمارے ٹی ایل پی کے دوست شہید ہوئے، اہلِ تشیع احتجاج کر رہے تھے تو 35 لوگ شہید ہوئے۔ کشمیر، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شہادتیں ہو رہی ہیں۔
جب ہر طرف لوگ رو رہے ہوں تو نفرت پیدا نہیں ہوگی تو کیا ہوگا؟ کون ان سب کو اکٹھا کرے گا؟ کیا کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو تمام قوموں اور تمام صوبوں کو اکٹھا کر سکے؟
عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو قومی یکجہتی کی علامت ہیں، جو پاکستان کے وقار اور عزت کو دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کا دل عمران خان صاحب کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
راولپنڈی فیض آباد کے مقام پر بھی درجنوں کنٹینر پہنچائے جا رہے ہیں، آج رات یہاں بھی کنٹینرز کی بلند دیواریں کھڑی کر دی جائیں گی
لیکن یہ سب عوامی سمندر اپنے ساتھ بہا لے جائے گا
ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں دوسرے ممالک پر حکم چلانے کا حق نہیں ہے۔انہیں اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کا بھی حق نہیں۔ ہم کسی قسم کی مداخلت نہیں بلکہ شراکت داری چاہتے ہیں، برازیلین صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا
Pakistan's Munir regime has asked hospitals to be prepared for "Mass Casualty Incident" ahead of 27 September protest march in support jailed leader Imran Khan. Regime has already put Imran Khan’s sisters, family members, & party leaders in jail.
فوج جو کچھ پاکستانیوں کیساتھ کررہی ہے، اس حساب سے ہمیں بھی حق ہے کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے وہ سب کریں جس سے ان کو وہی درد ہو جو پاکستانی عوام محسوس کرتی ہے۔ تیار رہیں
پاکستانی عوام کے پاس اب بہت محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔۔۔
یا تو وہ اپنے قائد کو قید میں رکھنے پر خاموش رہیں، جبکہ اس کے خاندان کو حراست میں لے لیا جائے، اس کی جماعت کو دبایا جائے اور انصاف ناپید ہو، یا پھر پُرامن طور پر سڑکوں پر نکلیں اور اپنے بنیادی حق، یعنی احتجاج، کا استعمال کریں۔۔۔۔
اسلام آباد میں 22000 پولیس اہلکار، ہزاروں کنٹینر، وزیر کی گاڑی پر سیدھے فائر، رہنماؤں کے گھروں پر پرتشدد حملے، کارکن جاں بحق، جھوٹے مقدمات اور PM عمران خان کی بہنوں سمیت ہزاروں گرفتاریاں۔
اس ن لیگی ٹاؤٹ عورتوں کی رئیس المنافقین کو کوئی بتائے کہ عمران خان اور خیبر پختونخواہ حکومت نے ٹی ٹی پی کی آباد کاری کی مخالفت کی تھی، رجیم چینج کے بعد ان کے پرانے ابو جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر طالبان کو خیبر پختونخواہ میں لا کر بسایا تھا۔
”رات کو 1:30 بجے کے قریب ایک دم سے شور ہوتا ہے علیمہ آپا کے گھر پہ۔ اور جب شور ہوتا ہے تو علیمہ آپا کا جو بیٹا ہے، شاہریز خان، وہ جب باہر آتا ہے اپنے کمرے سے، اوپر ان کا کمرہ بن رہا ہے۔ تو جب کمرے سے باہر آتے ہیں تو نیچے دیکھتے ہیں تقریباً 100 کے قریب پولیس والے ان کے لابی میں کھڑے ہیں۔ اور جس میں خواتین پولیس والے بھی ہیں اور میل بھی ہیں۔ تو یہ نیچے آتے ہیں، آ کر پوچھتے ہیں کہ آپ کس وجہ سے آئے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں بہنوں کو عظمیٰ خان کو اور نورین نیازی کو لینے آئے ہیں۔“
عمران خان کے کزن قاسم خان کی میڈیا سے گفتگو۔ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاری سے قبل گھر کے گھیراؤ اور رات گئے پولیس چھاپے کی تفصیلات